fbpx

ٹویٹر پہ میرا پہلا دن .تحریر:بشارت محمود رانا

آج میں آپ سب کو سنانے جا رہا ہوں اپنی ٹویٹر پہ ہونے والی پہلی اینٹری مطلب میرا پہلا دن اور اِس دوران پیش آنے والے خوشگوار واقعات پہ مبنی کہانی میری زبانی۔۔۔

جی ہاں ٹویٹر پہ میرا پہلا دن۔۔

ویسے تو میں ٹویٹر پہ بہت پہلے سے موجود تھا اور ۲۰۱۲ کے شروع میں ہی میں نے ٹویٹر اور فیس بُک پہ اپنا پہلا پہلا اکاونٹ بنالیا تھا۔ حالانکہ فیس بُک پہ میں نے اپنا ایک پیج بھی بنایا ہواہے جس پہ ہزاروں میں میری فالووئینگ بھی ہے اور لوگ مجھے “Pakistan Ka Tiger” کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود بھی میں ٹویٹر پہ اتنا ایکٹو نہیں رہا کرتا تھا شائد اسکی وجہ بھی فیس بک ہی تھی اور ٹویٹر پہ بس اتنا سمجھ لیں کہ کبھی مہینے بعد ٹویٹر آن کر کے دیکھ لیا کرنا یا پھرکبھی اس سے بھی زیادہ وقت بیت جایا کرتا تھا۔

لیکن! پھر ایک دم سے میری سوشل میڈیا زندگی میں چینج آیا جب میں نے ٹویٹر پہ ایک ٹرینڈنگ ٹیم میں شمولیت اختیار کی تو اسی دن کو میں ٹویٹر پہ اپنا پہلا دن تصور کرتا ہوں۔

تب! شروع کے کچھ دن تو مجھے کافی چیزیں سمجھنے میں ہی گزر گئے جیسے کہ کسی کو ہینڈل کے ساتھ کیسے مینشن یا پھر پکچر میں ٹیگ کیسے کرنا ہے

یہ سب سمجھنے کیلئے ٹویٹر رولز بھی پڑھے اور کچھ آن ائیر اور کچھ آف ائیر دوستوں سے بھی مدد لی اور یوٹیوب کا بھی بہت شکریہ کہ اس سے بھی بہت سی معلومات حاصل کیں جو میرے لئے بہت مفید ثابت ہوئیں اور بہت سے ایسے سینئرز جو بہت عرصے سے ٹویٹر استعمال کر رہی/رہے تھے اُن میں سے چند ایک سے بات بھی ہوئی اور کچھ سے بات کئے بنا ہی مطلب صرف انکی ٹویٹس کو دیکھ دیکھ کے ہی بہت سی چیزیں سیکھنے کوملیں، اُن سب کا بھی مشکور ہوں۔

اور یہ سب بتاتے ہوئے میں بالکل بھی شرم محسوس نہیں کر رہا ہوں کیوںکہ کسی بھی چیز کو سمجھنے اور پھر اُس کی جانکاری پہ مکمل عبور حاصل کرنے تک کیلئے ایک باقائدہ پروسیس ہوتا ہے جسے پورا کئے بنا کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور میں بھی اسی پروسیس سے گزرا۔

جیسے جیسے مجھے چیزوں پہ عبور حاصل ہوتا گیا (البتہ! سیکھنے کیلئے ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے) تو میں نے دیکھا کہ یہ تو دنیا ہی الگ تھی کہ جہاں پوری دنیا، مطلب ہر ملک سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے جن میں ہیڈ آف سٹیٹس، گورنمنٹس آفیشلز، گورنمنٹس کے ادارے، انٹرنیشنل این جی اوز، انٹرنیشنل نیوز چینلز، انٹرنیشنل نیوز پیپرز، سیاستدان، صحافی، اداکار، سنگرز، رائٹرز، ڈائریکٹرز، شاعر، ادیب، فیشن ڈیزائنرز و آرٹسٹس، بیوٹیشنز یہاں تک کہ ہر طبقہِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ٹویٹر پہ اپنے مداحوں کو لبھانے کیلئے ٹویٹس کرنا اور پھر عام عوام یعنی فالوورز کا ان کو ریپلائی کرنا اور پھر جواباً آپس میں بات چیت تک کا بھی ہونا یقیناً میرے لئے یہ ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھا اور اس سے میں بہت محظوظ بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔

پھر نیشنل اور انٹرنیشل لیول کے جو ٹرینڈز ہوتے ہیں اُن کے بارے میں بھی پتا چلا اور اس کا تجربہ ہونا بھی میرے لئے ایک نئی چیز تھی کیونکہ اس سے پہلے اکثر میں نے نیوز میں سُن اور دیکھ رکھا تھا کہ کسی کے حق میں یا مخالفت میں ٹویٹر پہ ٹرینڈ ہو رہا ہے اور اُس میں ہزاروں، لاکھوں یا کروڑوں ٹویٹس ہوئی ہیں۔

اس سفر میں جو کہ اب تک صرف چند ماہ پر ہی محیط ہے، تو اپنے اس سفر کے دوران ایک انٹرسٹنگ بات یہ تھی جس پہ آپ بھی ہنسیں گے کہ میں نے ہر اُس ٹرینڈنگ ٹیمز میں شمولیت اختیار کی جس کے کسی ایک میمبر کا بھی مجھے آٹو انویٹیشن ملا تھا کیونکہ تب تک مجھے آٹو میسج کا بھی پتا نہیں تھا ( اور اب پتا چل جانے پہ میں کسی بھی آٹو میسج پہ کبھی کان ہی نہیں دھرتا) اور پھر میرے اپنے خود کے اصولوں پہ پورا نہ اترنے پہ میں نے کافی ٹرینڈنگ ٹیمز کو خیر باد بھی کہا (اپنے طور پہ وہ سب بھی اچھا کام کر رہی ہیں اُن کیلئے بھی میری نیک خواہشات ہیں) اور پھر اِن ٹرینڈز کے دوران میں نے اِن چند ماہ میں ہی اپنے بہت سے اکاونٹس سسپینڈ بھی کروائے، انٹرسٹنگلی ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک ہی دن میں میرے چار اکاونٹ سسپنڈ ہوگئے وہ لمحہ میرے لئے بہت ہی شاکنگ تھا لیکن! اسے میں اپنے لئے اعزاز بھی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب اسلام، پاکستان، کشمیر و فلسطین اور اپنے کپتان جناب وزیراعظم عمران خان کے حق میں آواز اٹھانے کا ہی نتیجہ تھا۔ تو ٹویٹر کے اس سفر میں مجھے بہت سے نئے اور اچھے دوست بھی ملے اور بہت سے نئے تجربات سے بھی گزرا۔

جن میں سے ایک یہ کہ بعض افراد کے اکثر ٹویٹر پہ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات اور مطلب پرستی والی دوستیوں کے بارے ٹویٹس بھی نظر سے گزرے تاہم اب تک میرا ایسے کسی بھی تجربے سے بالکل بھی پالا نہیں پڑا کیونکہ میں تو شروع سے ہی عزت دو کی پالیسی پہ عمل پیرا ہوں اور دوسرے فریق سے کبھی بھی عزت ملنے کی توقع سے نہیں ملا اور ہمیشہ اگلے کو خود سے زیادہ عزت دار اور معتبر سمجھاہے۔

اور ہمارا پیارا دینِ اسلام اور ہمارے پیارے نبی ص کی تعلیمات بھی ہمیں یہی اصول سکھاتی ہیں کہ “جو تم سے توڑے اُس سے جوڑو اور جو تم سے جوڑے تم اُس سے مزید مضبوطی سے جُڑو” مطلب کہ عزت اور پیار دینے والوں کو ہمیشہ اُن سے بڑھ کے عزت و احترام اور پیار دو اور جو عزت نہیں کرتے اُن کی اور زیادہ عزت کرو تاکہ وہ بھی دوسروں کو عزت دینا سیکھ سکیں۔

باقی سوشل میڈیا کی طرح ٹویٹر کو بھی میں نے ایک آئینے کی طرح پایا جس میں آپ خود کو اور دوسروں کو اچھے سے جانچ اور پرکھ سکتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی ٹویٹس، پوسٹس اور کمنٹس کے ذریعے اپنے آپ اور اپنی تربیت و اخلاقیات کو عیاں کر رہا ہوتا ہے۔

اس لئے میرے مطابق تو ہر کسی کو عزت اور احترام دینا ہی مناسب ترین عمل ہے اور اللہ تعالی ہم سب کو اسی پہ عمل پیرا فرمائیں۔ آمین

چونکہ ہر کسی کا کسی کو (افراد یا ماحول) کو جانچنے اور پرکھنے کا پیمانہ الگ ہو سکتا ہے مگر میں نے تو سوشل میڈیا کو ایسا پایا جسے میں نے اپنی تحریر کے زریعے آپ تک پہنچایا اور یہ تو تھا میرا اب تک کا ٹویٹر کا سفرنامہ جس میں اور بھی بہت سے انٹرسٹنگ واقعات اور تجربات ہیں جو کہ سب اس ایک تحریر میں سنانا ناممکن ہے اور کوشش کروں گا کہ اپنی کسی آنے والی تحریر میں وہ بھی سُنا سکوں

امید ہے کہ آپ کو میرا یہ خوشگوار سفرنامہ پسند آیا ہو گا۔