ٹویٹر کی بندش، پشاور ہائیکورٹ نے کئے نوٹس جاری،جواب طلب

0
135
twitter

پشاور ہائیکورٹ نے ٹویٹر کی بندش کیخلاف درخواست پر پی ٹی اے، حکومت اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرلیا

پشاور ہائیکورٹ میں ٹویٹر کی بندش کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس اعجاز انور اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کھلے ہیں، ایکس کو کیوں بند کیا؟وکیل درخواست گزار نے کہاکہ ایکس فارمل پلیٹ فارم ہے جو سب کے استعمال میں ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وزارت داخلہ نے ایکس کو بند کرنے کی وجوہات نہیں بتائیں،وزارت داخلہ اور پی ٹی اے سے جواب طلب کرنا ضروری ہے،عدالت نے پی ٹی اے، حکومت اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرلیا،عدالت نے ایکس کی بندش کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی کردی

واضح رہے کہ پاکستان میں ایکس (ٹوئٹر) کی سروس 17 فروری رات 10 سے بند کی گئی ہے، ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے، ٹویٹر پاکستان میں بند ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،گزشتہ روز بھی ایکس کی سروس آدھا گھنٹہ بحال ہونے کے بعد پھر ڈاون ہوگئی تھی،پی ٹی اے نےایکس (ٹوئٹر) کی بندش پر موقف دینے سے گریز کیا ہے،

سوشل میڈیا صارفین ٹویٹر چلانے کے لئے وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں،کچھ وی پی این کا سرور اسرائیل میں ہے،پی ٹی اے کی وجہ سے پاکستانی صارفین کا ڈیٹا اسرائیل جارہاہے،ٹویٹر کی پاکستان میں بندش کے حوالہ سے پی ٹی اے مکمل خاموش ہے،اور کسی قسم کا کوئی بیان یا وضاحت جاری نہیں کی گئی

واضح رہے کہ پاکستان میں کئی بار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سروسز کی بندش سامنے آئی ہیں، آٹھ فروری کو عام انتخابات کے روز سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کی گئی تھی، اس سے قبل پی ٹی آئی کے جلسے کے موقع پربھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس بند کر دی گئی تھیں.

ٹویٹر کی بندش، شہری کی درخواست پر نوٹس جاری

سندھ ہائیکورٹ کا ٹویٹر سمیت تمام سوشل میڈیا ایپس بحال کرنے کا حکم

سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

Leave a reply