fbpx

ٹوئٹر نے سابق سیکیورٹی چیف کے الزامات رد کر دیئے

ٹوئٹر کے سابق سیکیورٹی چیف نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر میں بھارتی سرکاری ایجنٹ کو پے رول پر بھرتی کرنے پر مجبور کیا گیا اور اسے صارفین کے حساس ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دینے پر مجبور کیا تاہم ٹوئٹر نے ان الزامات کی تردید کی ہے-

باغی ٹی وی : "بزنس سٹینڈرڈ” کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر کے سابق سیکیورٹی چیف پیٹر میج زیٹکو نے امریکی سکیورٹی اور ایکسچینج کمیشن کے سامنے ٹوئٹر کے دیگر سیکیورٹی مسائل کے ساتھ اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر میں اپنا سرکاری ایجنٹ بھرتی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

ٹویٹراپنے ملازمین کی سیکورٹی نہیں کرسکتا:بڑے تحفظات ہیں:امریکی حکومت بول اٹھی

انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر کے کمزور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی بدولت سرکاری ایجنٹ کو صارفین کے انتہائی حساس ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل ہوسکتی تھی۔

غیر ملکی ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کے حوالے سے اس طرح کے الزامات ٹوئٹر میں پہلے بھی گردش کرتے رہے ہیں۔

‘غیر ملکی انٹیلی جنس کی رسائی اور جمہوریت کو خطرات’ کے عنوان سے ایک سیکشن میں، زیٹکو نے دعوی کیا کہ "بھارتی حکومت نے ٹویٹر کو ایسے مخصوص افراد (افراد) کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور کیا جو سرکاری ایجنٹ تھے، جو (ٹوئٹر کی بنیادی تعمیراتی خامیوں کی وجہ سے) وسیع پیمانے پرحساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کریں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ "جان بوجھ کر ایک بھارتی حکومتی ایجنٹ کو کمپنی کے سسٹمز اور صارف کے ڈیٹا تک براہ راست غیر زیر نگرانی رسائی کی اجازت دے کر، ٹویٹر کے ایگزیکٹوز نے اپنے صارفین سے کمپنی کے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔”

زیٹکو، جس نے براہ راست سی ای او کو اطلاع دی، اس سال جنوری میں ٹویٹر نے "خراب کارکردگی” کی وجہ سے برطرف کر دیا تھا۔

رہائش گاہ پر چھاپہ ، ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ انصاف پر مقدمہ دائر کردیا

پچھلے مہینے، اس نے یو ایس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کے پاس شکایت درج کروائی، جس میں ٹویٹر پر حصص یافتگان کو دھوکہ دینے اور کچھ حفاظتی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

سپیکٹرم نیوز کو ایک بیان میں، ٹویٹر کے ترجمان نے کہا کہ زیٹکو ایک ناراض سابق ملازم تھا جو جھوٹے دعوے کر رہا ہے زیٹکو کو جنوری 2022 میں ٹویٹر پر ان کے سینئر ایگزیکٹو رول سے غیر موثر قیادت اور ناقص کارکردگی پر برطرف کر دیا گیا تھا۔”

کمپنی کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہم نے اب تک جو کچھ دیکھا ہے وہ ٹویٹر اور ہماری پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے طریقوں کے بارے میں ایک غلط بیانیہ ہے جو کہ متضاد اور غلط فہمیوں سے بھرا ہوا ہے اور اس میں اہم سیاق و سباق کا فقدان ہے۔”

زٹیکو نے یہ بھی الزام لگایا کہ بھارتی حکومت نے ٹویٹر کو مقامی کل وقتی ملازمین کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور کیا جو "بیعانہ کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں”۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ "ٹوئٹر کے ملازمین کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ٹویٹر کو غیر ملکی حکومت کی درخواستوں کی تعمیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے کافی تھا کہ بصورت دیگر ٹویٹر بنیادی طور پر مخالفت کرے گا۔”

دوسری جانب بھارتی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے اس حوالے کسی بھی قسم کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

ہنگری : محکمہ موسمیات کا سربراہ غلط پیش گوئی پرملازمت سے برطرف