fbpx

دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)   تحریر: علی خان۔ 

انگریز برصغیر پر سو سال حکومت کے بعد ویسے تو بہت سی یادیں چھوڑ گئے لیکن نظام تعلیم، ڈی سی اور چائے کا مقابلہ کوئی اورچیز  نہیں کرسکتی۔ چین سے چائے کے پودے لا کر برصغیر میں اگانے اور دنیا بھر می بیچنے کے ساتھ ساتھ اہلیان برصغیر کو بھی اس سوغات سے متعارف کروایا گیا۔ اس سے قبل چائے صرف حکیموں کے پاس دوا کے طور پر موجود ہوتی اور بیماروں کو پلائی جاتی۔ یعنی چائے کے ساتھ بھی وہی حال گزرتا کہ کسی منچلے نے کہا کہ غریب کے گھر مرغ دو ہی صورتوں  میں پکتا ہے کہ بندہ بیمار ہو یا ککڑ بیمار ہو۔ خیر برصغیر میں لپٹن چائے کی ترویج ایسے کی گئی کہ شہروں  میں سڑک کنارے اسٹال لگا کر بسکٹ کے ساتھ چائے پیش کی جاتی۔ چینیوں کی گرم پانی میں ابلی پتیوں کی جگہ جب دودھ اور چینی ڈال چائے بنائی گئی تو دیسیوں کو یہ خوب بھائی اور ہر گھر میں خوراک کا لازم جزو قرار پائی

جیسے ڈی سی نظام پورے برصغیر میں پوری شان و شوکت کے ساتھ چل رہا ہے اسی طرح  چائے بھی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ سندھ میں آپ مہمان کی تمام خاطر تواضع کرلیں لیکن اگر چائے کا نہ  پوچھیں تو مطلب آپ نے گویا مہمان کی خدمت نہیں کی۔ چائے بنانے کی ترکیب اور پیشکش میں کہیں علاقے کے حساب سے تبدیلیاں آئیں تو کہیں معاشرت کے حساب سے۔ گاوں والے پیالوں میں چائے پینے لگے تو شہری بابو ننھی پیالوں میں چسکیاں لیتے ہیں۔ بھارت میں چائے گلاسوں میں پینے کا رواج عام ہے۔ ادرک والی چائے، دارچینی والی چائے، پودینے والی چائے، الائچی والی چائے اور آج کل کی مقبول عام تندوری چائے۔ ان گنت اقسام، پیشکش کے ان گنت طریقے اور معاشرتی مقام سب کا آپس میں کنکشن سا بن گیا ہے۔ کسی کو چائے میں بسکٹ ڈبو کھانا سب سے مزے کا کام لگتا تو کہیں اسے بدتہذیبی اور گنوار پن گردانا جاتا

برصغیر میں ]ڈی سی اور چائے کی طرح نظام تعلیم اور چائے میں بھی کچھ مشترک روایات ہیں۔ ہمارے وزیراعظم ملک میں رائج کئی درجاتی اور طبقاتی نظام تعلیم کا ذکر کرتے ہیں تو چائے پینے پلانے اور فروخت کرنے میں بھی ایسا ہی مختلف درجاتی نظام رائج ہے۔ اگر نظام تعلیم مدرسوں، سرکاری اور ٹاٹ اسکولوں، گلی محلے کے پرائیویٹ اردو میڈیم اسکولوں، قدرے اچھے پرائیویٹ انگریزی میڈیم اسکولوں اور کیمبریج و آکسفورڈ گرامر اسکولوں میں تقسیم ہے تو چائے خانے بھی ڈھابوں، روایتی دیسی ہوٹلوں، اچھے ریسٹورنٹوں اور تین چار پنج ستارہ ہوٹلوں میں تقسیم ہیں۔ آپ کی جیب پر منحصر ہے کہ آپ 20 روپے کپ والی چائے پینا چاہتے ہیں یا دو سو اور بعض صورتوں میں پانچ سو، ہزار اور دو ہزار والی۔ آج کل اس طبقاتی نظام میں اوپن ائیر چائے خانوں کا رواج چل نکلا ہے جو آپ کو چائے کے ساتھ دلچسپ مصروفیات بھی فراہم کرتے ہیں جن میں لڈو، کیرم، لائیو قوالی اور دیگر شامل ہیں۔ اس سب طبقات میں کسی بھی جگہ ذائقے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو بیس یا تیس روپے فی کپ میں مزیدار اور من پسند چائے ملے اور پانچ سو یا ہزار روپے خرچ کرکہ بھی مزہ نہ آئے۔ جیب اور موڈ آپکی چائے کا مقام طے کرتے ہیں۔ بڑی شاہراوں کنارے کچھ ٹرک ہوٹلوں کی چائے اتنی مزیدار ہوتی ہے کہ پبلک دور دور سے اسکا مزہ لینے آتی ہے۔ 

جیسے وزیراعظم کو نظام تعلیم میں تقسیم پر اعتراض ہے تو مجھے بھی چائے خانوں کی طبقاتی تقسیم پر اعتراض ہے۔ ماحول اچھا ہونا ضروری ہے لیکن چائے کا ذائقہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔ صرف شان و شوکت کی خاطر ان چائے خانوں کا رخ کیا جائے اور مزہ نہ آئے تو دل میں شدید خواہش اٹھتی ہے کہ وزیراعظم کسی روز یہ بھی اعلان کردیں کہ "چائے خانوں میں طبقاتی تقسیم ختم کرکہ یکساں ریٹ کا نفاذ کیا جائے گا”