fbpx

عوام الناس کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہوگئی ہے،وفاق کا حکم نہیں مان سکتے:پنجاب انکاری

لاہور: پنجاب حکومت نے بازار جلد بند کرنے سے متعلق وفاق کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ ہم خود کریں گے اور تمام اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بعد کریں گے۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعلیٰ‌ پنجاب اس بات پربضد ہیں کہ وفاقی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے غریب عوام دو وقت کی روٹی کوترس رہےہیں ، بے روزگاری پہلے بڑھ رہی ہےان حالات میں لوگوں‌ کو اور بے روزگار نہیں کرسکتے

آئل ٹینکر کے ذریعے کراچی اسمگل ہونے والی 100 کلو منشیات پکڑ لی گئی

اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ نے توانائی بچت پلان کے تحت بازار، شادی ہالز اور ریسٹورنٹس جلد بند کرانے کے حکومتی فیصلے کی منظوری دے ہے جسے تمام صوبوں میں نافذ کیا جائے گا تاہم پنجاب حکومت نے فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے انکار کردیا ہے۔

شہر قائد میں وارداتیں کرنیوالا جنوبی پنجاب کا گروہ گرفتار

دوسری طرف وزیراعلیٰ‌ پنجاب کی اس منطق کو پیش کرتے ہوئے پنجاب کے سینئر وزیر میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ خود کرے گی، اس کیلئے پنجاب حکومت اپنی کابینہ کا اجلاس خود بلائے گی، ملک میں بے روزگاری بہت بڑھ رہی ہے اس بارے میں فیصلہ نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی ناکامی کے فیصلے عجلت میں کررہی ہے لیکن ہم تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کریں گے، پنجاب کے چیمبرز اور دکان داروں سے میٹنگ کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت پہلے ہی سکڑ گئی ہے، حکومت اپنی ناکامی کا بدلہ عوام سے لے رہی ہے، امپورٹڈ حکومت کے فیصلے پنجاب حکومت کسی صورت میں نہیں مانے گی۔

میکسیکو؛ جیل پر حملے سے 14 افراد ہلاک جبکہ 24 قیدی فرار

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں توانائی کی بچت سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ ملک میں مارکیٹیں ساڑھے 8 اور شادی ہالز 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی سفارش پر توانائی بچت پلان کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے جو فی الفور پورے پاکستان میں نافذ العمل ہوگا۔ ہمیں اپنا طرز زندگی بدلنے کی ضرورت ہے۔ آج کابینہ اجلاس میں کوئی لائٹ نہیں جل رہی تھی۔ اجلاس مکمل طور پر سورج کی روشنی میں ہوا۔ ہماری عادات و اطوار باقی دنیا سے مختلف ہیں۔ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری محکموں میں 30 فی صد بجلی بچائی جائے گی اور توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے دیگر ذرائع کا استعمال کیا جائے گا۔