fbpx

بحریہ سول سینٹر میں دو خواتین سے موبائل اور پرس چھیننے والا جوڑا گرفتار

اسلام آباد: بحریہ سول سینٹر میں دو خواتین سے موبائل اور پرس چھین لیا گیا۔ موٹرسائیکل پر سوار ببلو اور ببلی نے بحریہ ٹاؤن سکیورٹی کو تگنی کا ناچ نچا دیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں سے بچنے کیلئے ببلو نے اپنی ببلی کے ساتھ ہیوی موٹرسائیکل پر ہیلمٹ پہن کر سکیورٹی کو گلی گلی نچایا لیکن کرنل (ر) رفاقت کی نگرانی میں آخرکار بحریہ ٹاؤن سکیورٹی نے جوڑا گرفتار کر کے پولیس تھانہ لوہی بھیر کے حوالے کر دیا۔

 

موبائل، پرس برآمد۔ ببلی ایک خوبصورت لڑکی کے روپ میں ہیجڑا نکلی۔ جمعرات کی رات کو بحریہ ٹاؤن سکیورٹی کو کال موصول ہوئی کہ دو خواتین جو بحریہ ٹاؤن فیز فور میں واک کر رہی تھیں۔ ایک موٹرسائیکل پر سوار ایک مرد اور عورت نے ان کے پرس اور موبائل چھین لئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی بحریہ ٹاؤن کے تمام گیٹ اور سکیورٹی سٹاف کو آگاہ کر کے گیٹ بند کر دئیے گئے اور تلاش شروع کر دی گئی۔بلال نامی شخص کی والدہ اور بہن نے بتایاکہ مرد نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور کافی لمبے بال تھے جبکہ لڑکی نے کالے رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔

 

 

سی سی ٹی وی کیمروں سے اس موٹرسائیکل جوڑے کی انٹری سے لیکر ایک مسجد کی پارکنگ میں موٹرسائیکل چھوڑ کر بھاگنے کی تمام فوٹیج نکال لی گئیں۔مکان نمبر912 کے قریب ایک خالی پلاٹ سے وہ پرس خالی پڑا ہوا مل گیا جو چھینا گیا تھا۔ تھوڑی تلاش کے بعد کالے لباس میں لڑکی کو بھی پکڑ لیا گیا جو ببلی نامی ہیجڑا نکلی اس نے بتایا کہ اس کا ساتھی خطرناک گروہ کا سرغنہ ہے جو جڑواں شہروں میں متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔ اچانک ایک گھر کی چھت سے فائر ہوا۔

سکیورٹی والوں کے جوابی فائرنگ کی تو فلمی انداز میں لمبے بالوں والے ڈکیت نے ایک سے دوسرے گھروں کی چھتیں پھلانگتے ہوئے فرار کی کوشش کی جسے بڑی جدوجہد کے بعد اور ملزم کے پاس گولیاں ختم ہونے پر اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اس ساری واردات اور ملزم کے ساتھ سکیورٹی سٹاف کی فائرنگ سے سینکڑوں رہائشی اپنے گھروں سے نکل آئے اور ایک خوف کا ماحول بنا دیا۔ دونوں ملزمان کو پولیس تھانہ لوہی بھیر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او کمال خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ تفتیش کے بعد یقینا ان وارداتوں کا بھی انکشاف ہوگا جو یہ کر چکے ہیں۔ گرفتارملزم ڈھوک رتہ کا رہائشی ہے۔

بحریہ ٹاؤن نے کرنل (ر) رفاقت اور دیگر سکیورٹی سٹاف کی جرات اور بہادری کی تعریف کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ سوک سنٹر میں مساج سنٹرز کے ساتھ دیگر غیراخلاقی سرگرمیوں کو بند کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ افرادکا یہاں سے خاتمہ ہوسکے۔

ادھرایس پی کے خلاف ایک خاتون پولیس اہلکار کو ہراس کرنے کی شکایت ہوئی تھی۔آئی جی اسلام آباد نے اس شکایت پرنوٹس لیا

آئی جی اسلام آباد نے شکایت کی میرٹ اور شفاف انکوائری کے لیے پانچ افسران جن میں ایک خاتون افسر بھی شامل ہیں پہ مشتمل اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کو مارک کی

ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی سکیورٹی، ایس پی پیڈ کوارٹرز اور ڈی ایس پی لیگل پر مشتمل کمیٹی نے معاملے کی مکمل تحقیقات کیں اور ایس پی صاحب کے خلاف الزامات گو درست قرار دیا۔

مذکورہ ایس پی انکوائری کمیٹی میں اپنے خلاف شکایات کا دفاع کرنے سے قاصر رہے۔

انکوائری کمیٹی نے اپنے فیصلے میں ایس پی کو قصور وار ٹھہرایا جس پر ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کا تحرک کیا گیا ہے۔تمام پولیس افسران کو اپنے کنڈکٹ کے متعلق جوابدہ ہونا ہوگا،

محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والے افسران کو سخت محکمانہ احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا،