ورلڈ ہیڈر ایڈ

ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور اقدامات

ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور اقدامات
ٹائیفائیڈ بخار سالمو نیلا ٹائفی کی وجہ سے ہونے والی ایک بیکٹیریل بیماری ہے ٹائیفائیڑ بخار کچھ ترقی یافتہ ممالک میں ایک اہم خطرہ ہے عالمی سطح پر سالانہ ٹائیفائیڈ بخار کے اکیس ملین اور اموات کے دو لاکھ دوہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں اس میں شک نہیں کہ ایک صحت مند اور تندرست انسان ہی اپنے تمام کام۔بخوبی سر انجام دے سکتا ہے بیماری کسی بھی حالت میں ہو یہ انسان کو بے چین کر دیتی ہے اور اس کے معمول کے کام رک جاتے ہیں مریض کے علاوہ تمام گھر والے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں موسمی بخار ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں انسان جلد ہی ٹھیک بھی ہو جاتا ہے لیکن ٹائیفائیڈ بخار ایک مہلک مرض ہےاوریہ ایک چھوت کی بیماری ہے ٹائیفائیڈ ایک جراثیم سالمو نیلا ٹائفی کی وجہ سے ہوتا ہے جس شخص کو ٹائیفائیڈ بخار ہو جائے اس کے جسم کا درجہ حرارت 103سے 104 ڈگری فارن ہائیٹ تک ہو جاتا ہے اس بیماری کا زیادہ تر حملہ۔بارش گرمی اور خزاں کے موسم میں ہوتا ہے اس کے علاوہ گندہ پانی بھی ٹائیفائیڈ کا سبب بنتا ہے جراثیم۔ٹائہفائیڈ کے مریض سے دوسرے صحت مند انسان میں بھی منتقل ہو جاتا ہے اور وہ بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے بازار میں پڑی۔ایک کھلی یا خراب اشیاء کھانے سے بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کاخدشہ زیادہ ہوتا ہے سر درد بھوک کا نہ لگنا جسم میں درد ہونا پیٹ میں درد ہونا جلد پر سرخ دھبے نمودار ہونا متلی قبض یا اسہال بھوک میں کمی اور جسم۔پر گلابی رنگ کے سرخ۔دانے شامل ہیں

نزلہ زکام کا گھریلو طبی علاج اور غذائی پرہیز


علامات: جگر معدے کی عام بیماریوں سےملتی جلتی ہیں پیچش پسینہ آنا نیند کا نہ آنا خشک کھانسی پیٹ درد قبض زبان کا میلا اور سفید ہو جانا متلی اور کمزوری اس کی اہم۔علامت ہے عام موسمی بخار سے انسان دو سے چار دن میں تندرست ہو جاتا ہے لیکن اگر بخار طوالت پکڑ لے تو فوری طور پو ٹیسٹ کروانے چاہیئں تاکہ بروقت تشخیص ہو سکے اس کا علاج ممکن ہو خدا نخواستہ اگر دیر ہو جائے تو مریض کی۔جان جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے یہ موذی مرض کئی ہفتوں اور مہینوں تک رہ سکتا ہے اگر مریض تندرست بھی ہو جائے تو پھر بھی اس کے جراثیم اس میں موجود رہتے ہیں اس لیے ایسے مریض جن کو ٹائیفائیڈ کا حملہ ہو چکا ہو ان کو ٹھوس غذا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے اور ہمیشہ تازہ اور صاف ستھری غذا استعمال کرنا چاہیے باہر کے کھلے پکوان اور آلودہ مشروبات کا استعمال نہ کریں پانی ہمیشہ ابال کر پئیں سبزیاں پھل ہمیشہ اچھی طرح دھو کر استعمال کریں مریض کو آرام دہ اور پر سکون کمرے میں رکھا جائے

ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر


اگر کسی ہوٹال کے کچن میں ٹائیفائیڈ کا جراثیم پایا جاتا ہے تو پھر اس ہوٹل میں کھانے کے لیے آنے والے تمام افراد ٹائیفائیڈ کا شکار ہو سکتا ہے آلودہ خوراک اور پانی کے ذریعے سے ٹائیفائیڈ کا بخار ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے ترسیل آنتوں کی زبانی روٹ کے ذریعے ہوتی ہے یعنی آلودہ فضلات پانی کی فراہمی یا غذا کی فراہمی میں داخل ہو سکتے ہیں اس کے بعد ان کا استعمال ہو سکتا ہے اس سے دوسرے متاثر ہو سکتے ہیں ایس ٹائفی صرف انسانوں میں موجود ہو تی ہیں ٹاِیفائیڈ بخار عام طور پر گنجان آبادی والے علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں پانی کی فراہمی آلودگی کا شکار ہو پانی کی صفائی کے بہتر طریقے مناسب ذخیرہ ًذا ٹائیفائیڈ کو پھیلنے سے روک سکتی ہے ڈبلیو ایچ او کے مطابق صحت تعلیم پانی کی صفائی اور معیار بیماری کی روک تھام کے لیے دیگر کوششوں کے ساتھ ٹائیفائیڈ بخار کی ویکسینیشن کے پروگراموں کو لاگو کیا جانا چاہیے ٹائیفائیڈ بخار خاص طور پر بچوں میں صحت کا ایک اہم عوامی مسئلہ ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.