سعودی عرب اورعرب امارات اپنے پرانے دوست پاکستان سے دور

لاہور:سعودی عرب اورعرب امارات اپنے پرانے دوست پاکستان سے دور،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک بحث زورپکڑرہی ہے کہ اسرائیل اور بحرین کے ساتھ ابراہیم معاہدے پر دستخط کے بعد متحدہ عرب امارات اپنے قریبی دوست پاکستان سے دورہوتے دکھائی دے رہا ہے جبکہ بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے

یہ ان دوریوں کا نتیجہ ہے کہ اتوار کے روز میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ پاکستانی تارکین وطن کو جلد ہی متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ مملکت سعودی عرب سے واپس بھیجا جائے گا کیونکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو قبول کرنے کے لئے دباؤ جاری ہے جو پاکستان نے انکار کردیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پردباو سے متعلق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ پر اسلام آباد کو باقاعدہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے "دباؤ” ڈالنے کے حوالے سے اپنے اوپرپڑنے والے دباو کا ذکرکرچکے ہیں ۔

یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے ان دنوں ایک انٹریومیں اس حوالے سے کہا تھا کہ وہ کبھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کریں ، عمران خان نے اس اننٹریومیں کہا تھا کہ اپنے اللہ کو کیا جواب دیں‌گے ،پہلے فلسطینیوں کوان کی سرزمین ملنی چاہیے پھردیکھیں گے کہ اسرائیل کوتسلیم کرنا ہے یا نہیں اس سے پہلے یہ توقع رکھنا بھی حماقت ہے

گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات نے بدھ کے روز COVID-19 کے پھیلاؤ سے نمٹنے کی وجوہات کا حوالہ کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو اس ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ہندوستان کی طرف دوستی کے قدم بڑھائے ہیں

یادرہے کہ اسی تاثرکواس بات سے بھی تقویت ملتی ہےکہ کل دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے تصدیق کی کہ "ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سمیت 12 ممالک کے لئے مزید اعلان تک عارضی طور پر نئے وزٹ ویزوں کے اجراء کو معطل کردیا ہے۔” لیکن پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے 11 ایسی اقوام میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے ، جو میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان حالات خراب ہونے شروع ہوگئے ہیں کیونکہ متحدہ عرب امارات نے ابراہیم معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔

نئی دہلی اور ابوظہبی عدم تفریق کی قدر پر زور دیتے ہوئے ،متحدہ عرب امارات میں ہندوستان کے مندوب پیون کپور نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی شہریوں کو اہمیت دی گئی ،

"ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کسی بھی بنیاد پر عدم تفریق کی اہمیت رکھتے ہیں۔ امتیازی سلوک ہمارے اخلاقی تانے بانے اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے۔ متحدہ عرب امارات میں موجود ہندوستانی شہریوں کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے ، “اپریل میں سفیر کی طرف سے ایک ٹویٹ بھی کی گئی تھی

وزارت خارجہ نے اگست میں کہا تھا کہ ہندوستان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات میں مکمل معمول پر آنے کا خیرمقدم کیا ہے ، اور کہا ہے کہ دونوں ممالک نئی دہلی کے اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔

ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا کہ ہندوستان نے مغربی ایشیاء میں ہمیشہ امن ، ترقی اور استحکام کی حمایت کی ہے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے اعلان پر وزیر خارجہ (ایس جیشنکر) کو متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کا فون اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کے پرانے دوستوں نے نئے دوست تلاش کرلیے ہیں اوران میں سعودی عرب اورعرب امارات کا بہترین دوست بھارت ہے ،

یاد رہے کہ یہ بحث پچھلے تین چاردن سے زورپکڑرہی تھی کہ عرب امارات نے پاکستان کوپیغام بھیجا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ ان عرب ممالک کی بلیک میلننگ میں نہیں آئے گا اوراپنا مقام اورحیثیٹ منواکررہے گا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.