برطانوی انتخابات ، کنزرویٹوپارٹی کوبدترین شکست ،کیئر اسٹارمر وزیرعظم بن گئے

0
90
keir

برطانوی انتخابات میں حکمراں کنزرویٹوپارٹی کوبدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا

کیئر اسٹارمر برطانیہ کے وزیرعظم بن گئے، کیئر اسٹارمرکی کنگ چارلس سے ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد کیئر اسٹارمرکو کنگ چارلس نے وزیراعظم مقرر کیا.

برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کئیر اسٹارمر نے کہا کہ وہ ابھی شاہی محل سے واپس آئے ہیں اور انہوں نے بادشاہ چارلس کی جانب سے ملک میں حکومت بنانے کی دعوت قبول کرلی ہے،دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، برطانیہ کوایک بارپھر رہنمائی کرنے والا ملک بنائیں گے، آپ کی حکومت ہر شہری کواحترام کی نگاہ سے دیکھے گی، ہماری حکومت ان سب کے لیےکام کرے گی جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا اور جنہوں نے نہیں دیا

لیبر پارٹی نے 1997 کی تاریخ دہرا دی، 1997 میں لیبر پارٹی کو419 سیٹیں ملی تھی، اس وقت ٹونی بلیر پارٹی سربراہ تھے،کنزرویٹیو کو 1997 میں 165 سیٹیں ملی تھیں، حالیہ انتخابات میں بھی لیبر پارٹی فاتح رہی

برطانوی نو منتخب وزیراعظم کون ؟
برطانیہ کے نئے وزیر اعظم لیبر پارٹی کے سربراہ سر کئیر اسٹارمر نے ایک مزدور گھرانے میں پرورش پائی، ان کے والد ایک ٹول میکر تھے جبکہ والدہ نرس تھیں،سر کئیر اسٹارمر خاندان میں پہلے شخص تھے جو یونیورسٹی گئے، لیڈز اور آکسفورڈ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1987 میں بیرسٹر بنے،انہوں نے کیریئر کا بڑا حصہ انسانی حقوق کے مقدموں پرکام کرتے ہوئے گزارا، انہوں نے کئی ملکوں میں سزائے موت کے قانون کے خاتمے کیلئے بھی کام کیا،سر کئیر اسٹارمر 2008 میں پبلک پراسیکیوشن کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے، 2015 میں پہلی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے، 2020میں جیریمی کوربن کی جگہ لیبرپارٹی کی قیادت سنبھالی،اُنہوں نے اپنی جماعت میں تبدیلیاں کرتے ہوئے چارسال میں اسے محنت کشوں کی خدمت کرنے والی جماعت بنادیا، اسٹارمر بریگزٹ کے مخالف تھے،کورونا کے دوران مقامی فوڈ بینک میں رضاکارانہ طورپر بھی کام کیا تھا، فٹ بال ان کا پسندیدہ کھیل ہے اور وہ گٹار بجانے کا شوق رکھتے ہیں

وٹرز نے تبدیلی کے لئے ووٹ دیا،کیئر اسٹارمر
سربراہ لیبرپارٹی کیئر اسٹارمر کا برطانیہ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر کہنا تھا کہ آج عوام نے ووٹ دیکر صفحہ بدل دیا ہے، اتنے بڑے مینڈیٹ کیساتھ بڑی ذمہ داری بھی عوام نے دی ہے، ووٹرز نے تبدیلی کے لئے ووٹ دیا،میں ووٹ اس لئے ملا کہ جماعت میں تبدیلی لائیں، تبدیلی لانے کیلئے فوری اقدامات کرینگے، لیبرپارٹی بدل چکی ہے یہ طرز عمل ہماری حکومت میں بھی نظر آئیگا، عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

برطانیہ عام انتخابات، ووٹوں کی گنتی ،لیبر پارٹی 412، کنزرویٹو 121، لبرل ڈیموکریٹ 71 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے،اسکاٹش نیشنل پارٹی کی 9، شن فین کی 7 نشستیں ہیں،برطانوی پارلیمنٹ میں 6 آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں,ریفارمز اور گرین پارٹی 4،4 نشستوں پر کامیاب رہی,2 نشستوں کے نتائج آنا باقی ہیں،لیبر پارٹی 14 سال بعد اقتدار سنبھالے گی,سر کیئر اسٹارمر برطانیہ کے وزیر اعظم ہوں گے,ارکان پارلیمنٹ 9 جولائی کو حلف اٹھائیں گے,وزیر اعظم رشی سونک نے شاہ چارلس کو استعفیٰ پیش کردیا,استعفیٰ منظور کرنے کے بعد شاہ چارلس کیئر اسٹارمر کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے,کیئر اسٹارمر آج ہی 10 ڈاوننگ اسٹریٹ پہنچ جائیں گے،برطانیہ میں کنزرویٹو کا 14 سالہ اقتدار کا دور ختم ہوگیا ،عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے فتح حاصل کرلی ہے

1950 کے بعد سب سے زیادہ آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں،سابق لیبر سربراہ جیریمی کوربن نے آزاد حیثیت سے نشست حاصل کرلی،ریفارمز رہنما نائجل فراژ پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ ہوں گے،بریڈفورڈ ویسٹ سے پاکستانی نژاد لیبر امیدوار ناز شاہ کامیاب ہوئے ہیں،پاکستانی نژاد لیبر امیدوار یاسمین قریشی نے تیسری مرتبہ نشست جیت لی ،پاکستانی نژاد روزینہ خان نے کامیابی حاصل کرلی،پاکستانی نژاد لیبر امیدوار شبانہ محمود، طاہر علی اور عمران حسین بھی جیت گئے،برٹش پاکستانی امیدوار افضل خان اور زہرہ سلطانہ کامیاب ہو گئے،ٹوری امیدوار ثاقب بھٹی اور نصرت غنی رکن پارلیمنٹ منتخب، رحمان چشتی ہار گئے،اسکاٹش نیشنل پارٹی کی انعم قیصر انتخابات میں ناکام ہوئیں.

برطانوی انتخابات،242 خواتین جیت گئیں، سابق خاتون وزیراعظم ہار گئیں
برطانوی انتخابات میں خواتین امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے تو وہیں کئی خواتین امیدوار اپنی نشست ہاری بھی ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق 242 خواتین امیدوار برطانوی انتخابات میں کامیاب ہوئی ہیں،برطانوی عام انتخابات میں پاکستانی نژاد روزینہ ایلن خان لندن کے علاقے ٹوٹنگ سے ایک مرتبہ پھر کامیاب ہوئی ہیں،کنزرویٹیو پارٹی کی رہنما و سابق وزیراعظم لز ٹرس اپنی نشست ہا ر گئی ہیں، لز ٹرس کو لیبر پارٹی کے ٹیری جیرمی سے 600 ووٹ سے شکست ہوئی،بریڈفورڈ ویسٹ سے لیبر رہنما پاکستانی نژاد ناز شاہ جیت گئیں،پاکستانی نژاد لیبر رکن یاسمین قریشی تیسری مرتبہ سیٹ جیتی ہیں.

شکست کے بعد برطانوی وزیراعظم رشی سونک پارٹی عہدے سے بھی مستعفی
برطانوی وزیرعظم رشی سونک نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے جب کہ رشی سونک نے سر کیئر اسٹارمر کو کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔انتخابات میں شکست کے بعد 10ڈاؤننگ اسٹریٹ سے رشی سونک نے الوداعی خطاب کیا اور کہا کہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں، نیالیڈرآنے تک ذمے داری ادا کرتا رہوں گا،عوام کے غصے اور مایوسی کا احساس ہے، اس نقصان کی ذمے داری قبول کرتا ہوں، عوام نے واضح اشارہ دیا ہے کہ حکومت کو بدلنا ہوگا، ہم ڈیلیور نہیں کر سکے،وزیر اعظم بننے کے بعد میرا سب سے اہم کام معیشت میں استحکام بحال کرنا تھا، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور معیشت ترقی کر رہی ہے ملک اب مضبوط ہے،اپنی کامیابیوں پر فخر ہے ،برطانیہ 2010 کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہے

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی کامیاب ہوئی ہے تا ہم مسلم اکثریت علاقوں سے لیبر پارٹی نہ تو جیت سکی او ر ہی زیادہ ووٹ ملے،غزہ کے حامی کئی آزاد امیدواروں نے لیبر پارٹی کے امیدواروں کو ان کے مضبوط حلقوں میں شکست دی ہے، 10 فیصد سے زیادہ مسلمان آبادی والے علاقوں میں لیبر پارٹی کے امیدواروں کے ووٹوں میں کمی دیکھنے میں آئی ،بڑی مسلم آبادی والی 5 نشستیں لیبر پارٹی کو نہ مل سکیں، ان میں سے 4 آزاد امیدواروں نے اور ایک کنزرویٹیو امیدوار نے جیتی ہے،شیڈو منسٹر جوناتھن اشورتھ لیسٹر ساؤتھ سے سیٹ ہار گئے جو کہ 13 سالوں سے ان کے پاس تھی، یہاں تقریباً 30 فیصد آباد مسلمانوں کی ہے، شوکت آدم نے کامیابی حاصل کی، برمنگھم پیری بار سے لیبر پارٹی کے خالد محمود کو آزاد امیدوار بیرسٹر ایوب خان نے سخت مقابلے کے بعد شکست دی،آزاد امیدوار بیرسٹر ایوب خان نے سخت مقابلے کے بعد صرف 500 ووٹوں کے مارجن سے کامیابی حاصل کی،خالد محمود 2001ء سے برمنگھم پیری بار سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے چلے آ رہے تھے اور وہ سینئر ترین مسلمان پارلیمنٹیرین تھے۔

غزہ جنگ کو اپنی انتخابی مہم میں شامل کرنے والے آزاد امیدواروں نے کئی بڑے اور مضبوط ناموں کو شکست دی ہے،ڈیوزبری، بٹلی اور بلیک برن میں بھی آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جہاں پہلے لیبر پارٹی مضبوط تھی

برطانیہ میں دارالعوام کے الیکشن میں650نشستوں کے لیےساڑھے 4ہزارامیدوارمدمقابل تھے- انگلینڈ533 ،اسکاٹ لینڈ59 ، ویلز 40اور شمالی آئرلینڈ کی 18 نشستیں ہیں،ملک بھرمیں ووٹنگ کے لیے40ہزارسے زائدپولنگ اسٹیشنزقائم کئے گئے تھے،برطانیہ میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے کیلئے شناخت ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا،حکمران کنزریٹو پارٹی، لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، اسکاٹش نیشنل پارٹی میدان میں ہیں،

Leave a reply