مہربانی کرکے ہمارا آئل ٹینکر ہمیں واپس کردیں، برطانیہ نے ایران سے مطالبہ کردیا

لندن:برطانیہ اور ایران کے درمیان برف پگھلنے لگی یا برطانیہ دھمکیوں پر اتر آیا اس کو تو بعد میں پتہ چلے گا .فی الحال برطانیہ نے مودبانہ درخواست کردی ہےکہ وہ آئل ٹینکر کو واپس کردیں، برطانوی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کو فون کر کے کہا کہ تہران اپنے اقدام کو ردعمل سمجھ رہا ہے، سچ کے آگے کچھ نہیں ہو سکتا۔

آئل ٹینکر تحویل میں لینے کے معاملے پر ایران اور برطانیہ آمنے سامنے آ گئے، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو تحویل میں لینے کے بعد دونوں ممالک میں پہلا رابطہ ہوا، برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کو فون کر کے تیل بردار جہاز چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا۔

دوسری طرف جیرمی ہنٹ کا کہنا تھا کہ تہران اپنے اقدام کو ردعمل سمجھ رہا ہے، سچ کے آگے کچھ نہیں ہو سکتا، ایرانی اقدام سے آبنائے ہرمز میں برطانیہ اور بین الاقوامی شپنگ کی سکیورٹی سے متعلق سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ جواب میں ایران نے برطانیہ کو امریکا کی معاشی دہشتگردی کا حصہ بننے سے باز رہنے کا کہہ دیا۔

برطانیہ کی جارحیت پر اور ایرانی بحری حدود کی خلاف ورزی پر جواد ظریف نے واضح کیا کہ آئل ٹینکر بین الاقوامی بحری ضوابط کی خلاف ورزی کر رہا تھا اور بحری جہاز کو اس وقت قبضے میں لیا گیا جب وہ ماہی گیر کشتی سے ٹکرایا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.