fbpx

یوکرین کے خلاف روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے،امریکی صدر

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روسی پسپائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے۔

باغی ٹی وی : صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ میں روس کے لیے جنگی حکمت کے حوالے سے اہم شہر خیرسن سے فوجی پسپائی کےاعلان پرکہا کہ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ روس اور روسی فوج کو یوکرین کے ساتھ جنگ لڑنے میں حقیقی طور پر مسائل درپیش ہیں۔

دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ تباہ کن ہو سکتا ہے،روس کا انتباہ

صدر جو بائیڈن نے کہا ہمیں امید ہے کہ ہم خارجہ پالیسی کے میدان میں روس کے یوکرین پرحملے کا جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے۔

واضح رہے روس نے یوکرین کے جوابی حملوں میں شدت کے پیش نظر بدھ کے روز دریائے دنیپرو کے مغربی کنارے خیرسن شہر سے اپنی افواج کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ روس کے اس فیصلے کو روس کے لیے پسپائی اور ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے یہ فیصلہ یوکرین کے قبضے میں لیے گئے شہر خیرسن کے نزدیک یوکرین کے حالیہ حملوں سے اپنے فوجی نقصان کو بچانے کی غرض سے کیا ہے۔

خیرسن ان چار یوکرینی علاقوں میں سے ایک ہے جنہیں روس نے جاری جنگ کے دوران قبضے میں لیا اور بعد ازاں ایک متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے ان علاقوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا مبصرین روسی فوج کو اس علاقے سے پسپائی کے لیے ملنے والے احکامات کو روس کی یوکرین کے مقابلے میں بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ کہ روسی فوج اس علاقے میں یوکرینی حملوں کا جواب دینے اور انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ہے۔

روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

واضح رہے روس نے یوکرین پر 24 فروری کو حملہ کیا تھا۔ اب اس جنگ کو نو ماہ ہونے کو ہیں لیکن یوکرین مغربی اور امریکی حمایت کے سبب مسلسل روسی افواج کا مقابلہ کر رہا ہے۔

روس کی اس جنگ کی کمان کرنے والے جنرل سرگئی سروی کن نے اس روسی فیصلےکے بارے میں کہاکہ یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ روسی فوج کی طرف سے خیرسن شہرکو سپلائی جاری رکھی جاتی انہوں نے تجویز کیا ہے کہ روس نے دریا کے مشرقی کنارے پر دفاعی پوزیشن قائم کرے۔

یہ روسی فیصلہ ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں یوکرینی فوج کی پیش قدمی اور روس کی طرف سے ایک لاکھ کے قریب شہریوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنےکا بتایا گیا تھا۔

روسی کمانڈر نے کہا تھا کہ ہمارے لیے اپنے فوجیوں کی جانیں بچانا زیادہ ضروری ہے’۔ ‘ہم اپنے فوجیوں کی جان اور لڑنے کی صلاحیت کی حفاظت کریں گے۔ اس لیے ان کو دریا کے مغربی کنارے پر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اب ان میں سے بعض کو دوسرے محاذوں پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

روسی ہیکرز کا امریکی وزارت خزانہ کے سسٹم پر سائبر حملہ