fbpx

جنگ کا خدشہ،یوکرین کا آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ

یوکرین نے آئندہ 48 گھنٹوں میں روس سے ملاقات کا مطالبہ کردیا ہے۔

باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق یوکرین دیگر اہم یورپی ممالک کے سکیورٹی گروپس سے بھی ملاقات کا خواہاں ہے، روس نے سرحد پر فوجیوں کی اضافی تعیناتی سے متعلق وضاحت دینے کو بھی نظر انداز کیا ہے۔

وزیر خارجہ یوکرین دمترو کلیبا کا کہنا ہے کہ روس کے منصوبوں کے متعلق اگلے 48 گھنٹوں میں ایک اجلاس بلانے کی درخواست کی جائے۔

یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

یاد رہے روس نے یوکرین کے سرحد پر تقریباً ایک لاکھ فوجی تعینات کررکھے ہیں۔ تاہم روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک جھوٹی معلومات فراہم کر رہے ہیں امریکہ کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر فضائی حملے سے جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔

امریکہ ،برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، نیدرلینڈز، لیٹویا، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک نے یوکرین سے اپنے شہریوں کا انخلا کا حکم دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ روسی حملے کا آغاز فضائی بمباری سے ہو گا جس کے باعث یوکرین چھوڑنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں ہو گی۔

یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

برطانوی مسلح افواج کے وزیر نے خبردار کیا ہے اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو برطانیہ ملک میں موجود اپنے شہریوں کو فضائی راستے سے نہیں نکال سکے گا۔

ادھر سعودی عرب نے یوکرین میں موجود اپنے تمام شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دارالحکومت کیف میں اپنے سفارت خانہ سے فوری رابطہ کریں تاکہ ان کی ملک سے روانگی کا بندوبست کیا جاسکے اور ان کے انخلا کے عمل کو آسان بنایاجاسکے۔

روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

سعودی سفارت خانہ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پرجاری کردہ ایک بیان میں مملکت کے تمام شہریوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تاحکم ثانی یوکرین کا اپناسفرملتوی کردیں۔

کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیج کے متعدد ممالک نے بھی اپنے شہریوں پرزوردیا ہے کہ وہ کیف اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یوکرین کے سفرکے کسی ارادے کو ملتوی کردیں۔

حوثیوں کے حملے کا خدشہ: امریکی لڑاکا طیارے ایف-22 ابوظہبی پہنچ گئے

یوکرین اور روس کے درمیان گشیدگی گذشتہ برسوں کے مقابلے میں اس وقت انتہائی عروج پر ہے لیکن دوسری جانب بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیزی سے جاری ہیں یوکرین، روس سرحدی کشیدگی کے بیچ نیٹو اور روس میں سفارتی اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے مطابق ‘مشرق کی جانب نیٹو کی مزید توسیع اور ہتھیاروں کی تعیناتی روسی فیڈریشن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے

روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین…