fbpx

یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

نیویارک:چند دن پہلےاقوام متحدہ کی 2 فوڈ ایجنسیوں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے پوری دنیا میں خوراک کے متعدد بحرانوں کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا تھا

ذرائع کے مطابق اس حوالےسے ‘ہنگر ہاٹ اسپاٹس: شدید غذائی عدم تحفظ پر ایف اے او-ڈبلیو ایف پی کے ابتدائی انتباہات’ کے عنوان سے اپنی مشترکہ رپورٹ میں فوڈ ایجنسیوں نے غذائی بحران سے شدید متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جہاں اگلے چند ماہ میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں ایتھوپیا، نائیجیریا، جنوبی سوڈان، یمن، افغانستان اور صومالیہ کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا، اس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں تقریباً ساڑھے 7 لاکھ افراد کو بھوک اور اموات کا سامنا ہے۔

جبکہ دوسری طرف یوکرین کی صورتحال نے دنیا کی زندگی اور بھی مشکل میں ڈال دی ، اس وقت ایک ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے اور وہ صورتحال غذائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سر اٹھانے والا غذائی بحران لاکھوں جانیں نگل سکتا ہے۔گلوبل فنڈز ٹو فائٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ ملیریا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیٹر سینڈز کا جی 20 وزرائے صحت کے اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ صحت کے بحران کا آغاز ہو چکا ہے مگر یہ کسی نئے جرثومے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ لوگ خوراک کی کمی کے باعث بیماریوں کا زیادہ شکار ہوں گے۔ متعدی امراض، خوراک کی کمی اور توانائی کے بحران کے مجموعی اثرات کے باعث لاکھوں اموات معمول کی اموات کے علاوہ ہیں۔

 

پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی حکومتوں کو چاہیے کہ خوراک کے بحران کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے صحت کی سہولتوں پر توجہ دیں، خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لیے، ایسے افراد کو طبی مسائل کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بنیادی صحت خصوصاً دیہات کے نظامِ صحت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ہسپتال بھی اہمیت کے حامل ہیں تاہم جب اس قسم کے چیلنج کا سامنا ہو تو بنیادی صحت کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جدوجہد کے دوران وہ وسائل بھی صرف ہو گئے جو تپ دق سے بچانے کے لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے باعث 2020ء میں 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2020ء میں دیکھا گیا کہ عالمی سطح پر 15 لاکھ افراد نے ٹی بی کا کم علاج کرایا جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں لوگ نہ صرف مریں گے بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کریں گے۔

مغرب اور یوکرین روس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ یوکرین سے اجناس کی برآمد روکنے کے لیے رکاوٹیں ڈال رہا ہے جس سے عالمی سطح پر قحط کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے اجناس کی برآمد میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

اسی لاکھ کم سن بچے موت کے خطرے کا شکار

پانچ برس تک کی عمر کے قریب 80 لاکھ بچے غذا کی قلت کے سبب موت کے خطرے سے دو چار ہیں۔ یہ بات بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہی ہے۔ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ان 15 ممالک کے بچے ہیں جہاں اس وقت خوراک کی قلت ہے۔ ان میں افغانستان، یمن، ایتھوپیا اور ہیٹی بھی شامل ہیں۔ یونیسف کے مطابق موت کے خطرے سے دوچار ایسے بچوں کی تعداد ہر منٹ بڑھ رہی ہے۔ اس بگڑتی صورتحال کی ایک وجہ روس کے یوکرین پر حملے کے سبب عالمی سطح پر اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔