fbpx

امید کی کرن: تحریر.عمرخان

آگ تو ناجانے کب کی بُجھ گئی تھی۔ اب صرف راکھ بچی تھی اور میں اپنی سوچوں میں ڈوبا خواہشوں اور امیدوں کی تکمیل کا سوچتے اُس راکھ کو گورے جا رہا تھاجو دھیرے دھیرے یخ ٹھنڈی ہوئے جا رہی تھی۔
میری سوچیں میرے دماغ پہ حاوی ہوئے جا رہی تھیں،
آخر یہ اُمیدوں اور خواہشوں کی تکمیل کیونکر ممکن نہیں؟ کیونکر وقت کہ ساتھ ہر اُمید ختم ہوئے جاتی ہے؟ کیونکر میں خواہشوں کو تکمیل نہیں دے پا رہا؟لگتا تھا کہ اب کامیابی ممکن ہی نہیں۔ اب تو ناکامی مقدر ہے۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ راکھ جو میری آنکھوں کے سامنے بلکل بُھج چکی تھی‚ اس میں ایک ہلکی سی روشنی منور ہوئے جاتی ہے۔ یہ روشنی !!یہ روشنی کیسی ہے؟ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا میں ایک اور سوچ سوچنے ہر مجبور ہوا کہ جیسے اس بُجھی ہوئی راکھ میں سے اس چھوٹی سی چنگاری نے اُمید نہ کھوتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس مجھے دلایا تو میں انسان ہو کر نہ اُمید کیسے ہو سکتا ہوں ؟
تب سمجھ آیا کہ انسان زندگی کہ کتنے ہی اندھیروں کا شکار کیوں نہ ہو ایک جگنو اُمید کا اسکے ہمدم ہوتا ہے جو ہر وقت اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اندھیرا زیادہ دیر نہیں ہے خواہ وہ جگنو چھوٹا ہی ہوتا ہے لیکن اس سے جڑی امیدیں بہت بڑی ہوتی ہیں.
انسان زندگی میں کتنا ہی بے سکون اورنہ اُمید کیوں نہ ہو اسکی زندگی مکمل امیدوں اور کاوشوں ہر انحصار کرتی ہے.
امیدیں ایک ایسی ڈور ہیں جو انسان کو زندگی کی روشنیوں سے باندھے رکھتی ہیں. زندگی کی خوبصورتی انہی چھوٹی اور بڑی امیدوں کی تکمیل پر ہے. جب زندگی میں اُمید کی کوئی کرن جاگتی ہے تو اسے پورا کرنا جوش اور ولولہ انسان کو اس کے خالق کے قریب کر دیتا ہے بس عقل انسانی اپنی امیدوں کو پہچاننے سے قاصر ہے.
اس بُجھی راکھ میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے آگ مکمل نہ بُجھنے کا احساس دلا کر مجھے اس قابل بنایا کہ اپنی خواہشوں کی تکمیل کےلئیے اپنی اُمید کی کرن کو کبھی مرنے نہیں دینا اور یہی زندگی کی بھاگ دوڑ ہے۔

‎@U4_Umer_