fbpx

اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اس میں "خطوں کی مساویانہ نمائندگی” میں اضافہ ہونا چاہیے،وزیر خارجہ

اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اس میں "خطوں کی مساویانہ نمائندگی” میں اضافہ ہونا چاہیے،وزیر خارجہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’”United (UFC) for Consensus "‘ کے وزارتی اجلاس سے ورچوئل خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ میں اٹلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے (یو۔ایف۔سی) گروپ کا یہ اہم وزارتی اجلاس آج منعقد کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو درپیش مختلف اقسام کے مسائل کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی ایسی سلامتی کونسل درکار ہے جو زیادہ نمائندہ ، جمہوری، شفاف، موثر اور جوابدہ ہو۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات میں رکن ممالک کا کلیدی مفاد ہے، لہذا اس ضمن میں فیصلے اقوام متحدہ کی رکنیت کی زیادہ سے زیادہ اکثریت کی حمایت یعنی اتفاق رائے سے ہونے چاہیئں۔یہ ہی ہمارے اس گروپ کا نام اور اس کا بنیادی مقصد ہے جو ہمیں متحد کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 23 (1) اور (2) کے مطابق کونسل کی اصلاحات سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اس میں "خطوں کی مساویانہ نمائندگی” میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ایک ایسے قابل قبول فارمولے سے ہی تمام ممالک کو کونسل میں مساوی نمائندگی مل سکتی ہے جس میں غیر مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ ہو اور جمہوری انتخابات کے ذریعے باری باری انہیں یہ منصب تفویض ہو۔علاقائی نمائندگی کے ساتھ باری کے اصول کے مطابق منصب کی تفویض سے ریاستوں کے مختلف گروپس کے ارکان کی مکمل نمائندگی ممکن ہو سکے گی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں مایوسی و جھنجھلاہٹ پر مبنی اور بین الریاستی مذاکرات میں جی فور کی ساز باز کی کوششیں دیکھنے میں آئیں جس کا مقصد اپنے لئے استحقاق کے نئے مراکز پیدا کرنے کی خاطر دباو استعمال کرنا تھا۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ اقوام متحدہ کے ارکان کی بڑی تعداد نے گزشتہ جون میں سامنے آنے والی اس پینترے بازی کی مخالفت کی۔ عجلت میں دی جانے والی ایسی تجاویز کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کے بجائے، جس سے اصلاحاتی نظام پٹڑی سے اتر سکتا ہے اور تنظیم اندر تقسیم کے عمل میں اضافہ ہوگا، ناگزیر امر یہ ہے کہ آئی جی این کے عمل میں بات چیت جاری رکھی جائے۔ رکن ممالک کو مناسب وقت اور گنجائش دی جائے تاکہ وہ تمام امور پر اپنے موقف کو باہم مربوط بناسکیں، وسیع معاملات پر ہم آہنگی پیدا کرسکیں اور اختلافات میں کمی لاسکیں تاکہ اقوام متحدہ کے تمام ارکان کے لئے قابل قبول حل کی راہ ہموار ہو۔ ”سب کے لئے سلامتی کونسل میں اصلاحات“ کی طرف اس سے قابل عمل راہ اور کوئی نہیں۔ تمام عمل کو کچل کر استحقاق کے مناصب کے حصول کے متلاشیوں کا سامنا کرتے ہوئے ہمارے گروپ کے لئے یہ امر ضروری ہے کہ ہم متحد رہیں اور آئی جی این میں بات چیت کے عمل کے دفاع میں باہمی ہم آہنگی سے بھرپور مہم چلائیں۔ہمیں ہر طرح کے منظر ناموں کو سوچتے ہوئے ان کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ ہماری نظر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس میں اس گروپ (اتحاد برائے اتفاق) کی ترجیحات میں درج ذیل نکات شامل ہونے چاہئیں اول، ہمیں رکنیت سازی پر مبنی ساکھ کو برقرار رکھنے اور آئی جی این کی مرکزیت کے حامل اصلاحاتی عمل کو قائم رکھنا چاہیے جو تمام رکن ممالک کے مفادات پر مبنی منصفانہ اور شفاف سمجھوتہ سے حاصل ہونے والے حل اور اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی ”ممکنہ طور پر وسیع قبولیت“ کا حامل ہو۔دوم، ہمیں یہ اعادہ کرنا ہوگا کہ یہ عمل ابھی اس مرحلے پر نہیں ہے کہ کوئی ایک ایسا متن وضع ہوسکے جو بات چیت کی ایسی بنیاد مہیا کرے جو رکن ممالک کی اکثریت کی حمایت کا حامل بن سکے کیونکہ متعدد کلیدی پہلووں پر بنیادی اختلاف رائے موجود ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ صدر پر زور دینا چاہئے کہ آئی جی این کے عمل کو اس کی وضع کردہ حدودقیود میں ہی رکھا جائے۔ ہمارا پیغام واضح ہونا چاہئے۔ یک طرفہ یا متازعہ انداز مسلط کرنے کی کوششیں نہ صرف اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کا خطرہ پیدا کریں گی بلکہ بذات خود اصلاحاتی عمل کے اختتام کا باعث بھی بنیں گی۔ سوم، اصلاحاتی عمل پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں میں کی جانے والی صراحت کے مطابق ”ٹھوس‘ اور ”ضابطہ جاتی“ اصلاحاتی عمل کے پہلوﺅں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ ضابطہ جاتی اصلاحاتی عمل میں تبدیلیوں کے لئے رکن ممالک کی رضامندی اور اتفاق رائے درکار ہے۔ مزید برآں ’ضابطہ جاتی‘ درستگیاں ’ٹھوس‘ معاملات کو جواب فراہم نہیں کرسکتیں۔ چہارم، ہمیں افریقہ کے ساتھ اپنی بات چیت کو ازسرنوشروع کرنا ہوگا اور افریقہ کی جائز امنگوں کو پورا کرنے کے راستے تلاش کرنے ہوں گے، تاکہ تاریخی طورپر جو ناانصافیاں ہوئی ہیں، اتحاد برائے اتفاق کی متعین حدود کے اندر رہتے ہوئے ان کی اصلاح کی جائے۔ ہمیں جی فور کی افریقی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فروعی مفادات اور مقاصد کے لئے استعمال کی کوششوں کا بھی تدارک کرنا ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں اصلاحات کے معاملے پر اتحاد برائے اتفاق (یو۔ایف۔سی) اور افریقی یونین کمیٹی آف 10 (سی 10) کے درمیان بات چیت کی ہماری کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ ہمیں چھوٹے ترقی پزیر جزیروں کی حکومتوں تک بھی رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ پنجم، ’یو۔ایف۔سی‘ کا اصلاحات کے معاملے پر اصولی موقف کونسل میں اصلاحات کا ایک ہی عملی حل پیش کرتا ہے۔ رکن ممالک کی اکثریت کی آراءیا تو ’یو۔ایف۔سی‘ کے موقف سے ہم آہنگ ہے یا پھر قریب ہے۔ اس ضمن میں پاکستان ’یو۔ایف۔سی‘ میں سعودی عرب کی شمولیت میں دلچسپی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس گروپ کے رکن کے طورپر سعودی عرب کو بخوشی خوش آمدید کہے گا۔ ہمیں ہم مزاج اور ایک سوچ رکھنے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان ممالک کو مکمل یا ایسوسی ایٹ رکنیت دیتے ہوئے اس گروپ کو توسیع دینے اور متنوع بنانے کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’یو۔ایف۔سی‘ کے حصے کے طورپر پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کے فروغ کے لئے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا جس کا مقصد کونسل کو عالمی امن وسلامتی قائم کرنے والا ایک جمہوری، زیادہ نمائندہ، جوابدہ، شفاف اور مستعد ادارہ بنانا ہے۔

@MumtaazAwan

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے جاپان کے ہم منصب توشی مِٹسو موتیجی کی ملاقات کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ، افغانستان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ اپنے سیاسی اور معاشی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان جاپان کو ایک ترقیاتی حوالے سے قابل اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے،آئندہ سال پاک جاپان سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ منانے کا ارادہ رکھتے ہیں،شاہ محمود قریشی نے اپنے جاپانی ہم منصب کو افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا