ورلڈ ہیڈر ایڈ

یغور حراستی کیمپ: اقوام متحدہ کو کھلا خط ’بہتان‘ ہے، چین کا ردعمل

بیجنگ :چین میں یغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے آنے والی خبریں عام ہیں اور اس وقت دنیا بھر سے چین کے جارحانہ رویے کے خلاف ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے .دوسری طرف چین کا کہنا ہے کہ یہ سراسر الزامات ہیں ایسا کچھ نہیں.چین نے اس خط کو ’بہتان قرار‘ دے دیا جسے دنیا کے تقریباً 22 ممالک نے اقوام متحدہ کو ارسال کیا تھا جس میں سنکیانگ صوبے میں مسلمان اقلیتوں سے متعلق بیجنگ حکام پر تنقید کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کے شمال مغربی خطے میں یوغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان زینگ شانگ نے روزمرہ پریس بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ خط ’چین کے خلاف حملہ، بہتان اور غیرضروری الزامات‘ پر مبنی ہے اور یہ چین کے داخلی امور پر بے جا مداخلت ہے۔

اقوام متحدہ میں 22 ممالک کی طرف سے ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے جس پر 22 ممالک میں تعینات اقوام متحدہ کے سفیروں نے دستخط کیے جن میں آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے سفیر بھی شامل ہیں۔اس مراسلے میں چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو حراستی کیمپ میں قید کرنے سے متعلق ’مصدقہ رپورٹس‘ پر تحفظات کا اظہار کیا ایغور مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی جاری ہے اور انہیں مختلف پابندیوں میں بھی جکڑا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کو بھیجے جانے والے اس مراسلے میں چین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سنکیانگ میں مسلمان اور دیگر مذہبی اقلیوں کو حراستی کیمپ میں قید کرنے سے باز آئے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایسی تصدیق شدہ اطلاعات ہیں کہ تقریباً ایک لاکھ یوغورز اور دیگر مسلم اقلیتوں کو تعلیمی سینٹرز میں نظربند رکھا گیا ہے۔

ایک طرف چینی حکومت نے کہا ہے کہ وہ عالمی میڈیا کو ان الزمات کی چھان بین کرنے کی اجازت ہے اور چینی حکومت بھر پور تعاون کرے گی لیکن دوسری طرف صحافیوں کو کئی بار حراست میں لیا جاچکا ہے اور پولیس کی جانب سے انہیں یوغورز کے نظر بندی کیمپوں میں جانے سے روکنے کے اقدامات سامنے آئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.