fbpx

سندھ کےڈاکولاہورمیں اغوابرائےتاوان کی وارداتیں کرنےلگے:ایک کروڑ روپےتاوان کیلیےچچا بھتیجا اغوا

لاہور: ایک کروڑ روپے تاوان کے لیے چچا بھتیجا کے اغوا کی واردات کی تحقیقات کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

پولیس کے مطابق چچا بھتیجا کو ایک کروڑ وپے تاوان کی غرض سے اغوا کرنے کی واردات سندھ کے علاقے گھوٹکی سے آپریٹ کرنے والے گروہ کی جانب سے کی گئی۔ ایس پی انویسٹی گیشن زوہیب رانجھا کے مطابق مغوی چچا بھتیجا کو ہنی ٹریپ کیا گیا۔

گروہ کی نشاندہی کے لیے جیوٹیگنگ کی گئی ہے، تاہم بھاری تاوان کی غرض سے اغوا کیے گئے چچا بھتیجا کو بازیابی کے دوران جانی نقصان سے بچانا ترجیح ہے۔ واضح رہے کہ زبیر اور اس کے چچا شوکت کو چند روز قبل لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت سے اغوا کیا گیاتھا ۔ جس کے بعد اغوا کاروں نے مغوی شوکت کے موبائل سے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر پاکستان کے شہر پشاور میں اغوا برائے تاوان کا ایسا واقعہ ہوا ہے جس میں مبینہ طور پر پولیس اور شعبہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکار ملوث پائے گئے ہیں۔پشاور کے نواحی علاقے سربند سے 18 اگست کو محمد شفیق نامی نوجوان گھر کے باہر سے لاپتا ہوا اور 19 اگست کو محمد شفیق کے بھائی نے گمشدگی کی رپورٹ تھانہ سربند میں درج کرائی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے وٹس ایپ نمبر پر چار کروڑ روپے کے تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ الزام لگایا کہ میرے بھائی کو فیلڈر گاڑی میں وردی میں ملبوس افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

واقعے کے کچھ روزبعد ڈرامائی انداز میں محمد شفیق کی واپسی ہوئی اور انہوں نے واپس آتے ہی انکشاف کیا کہ ان کو پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے اغوا کیا تھا جن میں مبینہ طور پر باڑہ کے ایس ایچ او بھی شامل تھے۔ محمد شفیق کی مدعیت میں چھ ستمبر کو ایف آئی آر درج ہوئی جس میں ایس ایچ او سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس