اقوام متحدہ فلسطین اور کشمیرکےمسئلے کو حل کرنےمیں ناکام رہی ہے, شاہ محمود قریشی

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نہتے کشمیریوں پر طاقت کا استعمال گذشتہ 7دہائیوں سےکررہاہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ طاقت کےاستعمال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ کشمیر میں بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمت عملی ناکام ہونےکی آوازیں ہندوستان کے اندر سےاٹھ رہی ہیں۔ بھارت نے یکطرفہ قوانین اوربندشوں کے ذریعے کشمیریوں کی آوازکو دباناچاہا۔ 5اگست 2019 کے بعد کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے گئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت وقتی طور پر آواز دبانے میں کامیاب تو ہو سکتا ہے مگر ان مظالم سے ،مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ بھارتی اقدامات کی وجہ سے آج کشمیریوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر میں آزاد کشمیر کا پرچم لہرایا جا رہا ہے۔ آج مقبوضہ کشمیر میں شہیدوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کیاجارہاہے۔کشمیر میں پاکستان زندہ باد کے نعرےلگتے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے یکطرفہ فیصلوں کوقبول نہیں کیا.وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم کشمیر کا مسئلہ ہرفورم پر اٹھاتے رہیں گے۔ آج عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیرکو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایس سی او اجلاس کی سائیڈلائن پر میری دیگر ممالک کےوزرائےخارجہ سےملاقاتیں ہوئیں۔
ان دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی مسئلہ کشمیر زیربحث آیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 25 تاریخ کو جنرل اسمبلی کےاجلاس میں اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پربات کریں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ نےکیسے نظر انداز کیا اس پربات ہو گی۔اقوام متحدہ نےجہاں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں وہاں فلسطین اور کشمیرکےمسئلے کو حل کرنےمیں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یورپین یونین کی سفیرسے اپنی ملاقات کے دوران بھی یہی کہا کہ یورپی یونین تو انسانی حقوق کی علمبردار ہے ان کو کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانی چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ
ریکوڈک کے معاملے میں کامیابی پر سب کو مبارکباد دیتاہوں۔ پاکستان کو وقتی طور پرایک بہت بڑا ریلیف ملا ہے۔ وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ کورونا کی وجہ سے جب معیشت دباؤ میں ہے ان حالات میں یہ بڑاریلیف ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین ہمارا دوست ہے۔ مشکل وقت میں چین نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیاہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے بہت گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔سعودی عرب کیساتھ ہمارا ایک جذباتی لگاؤہے۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں این سی او سی سمیت ہمارے تمام متعلقہ اداروں نے کورونا وبا کے حوالے سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم نے تعلیمی ادارے کھول دیے ہیں وہاں بھی ہمیں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طبی ماہرین بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ موسم سرما میں کورونا کی دوسری لہر آسکتی ہے۔ ہمیں احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہنا ہوگا تاکہ ہم غفلت کے مرتکب نہ ہوں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.