آزادی اظہار کے ساتھ مذاہب کا احترام بھی ضروری ہے،ورنہ معاشرے تباہ ہوجائیں گے،دنیا ہوش کے ناخن لے: اقوام متحدہ

جنیوا:آزادی اظہار کے ساتھ مذاہب کا احترام بھی ضروری ہے،ورنہ معاشرے تباہ ہوجائیں گے،دنیا ہوش کے ناخن لے: اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیب کے نمائندہ اعلیٰ مگیل اینجل موراتینو نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بے چینی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کے لیے مذاہب کا باہمی احترام بہت ضروری ہے، مذاہب اور مقدس شخصیات کی توہین سے سوسائٹی میں منافرت اور شدت پسندی کو بڑھاوا ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کا استعمال اس انداز میں ہونا چاہیے جس میں مذاہب، ان کی تعلیمات اور اصولوں کا احترام بھی ملحوظ رکھا گیا ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذہب یا عقیدے کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے وضاحت اقوام متحدہ کے آرٹیکل 18 اور 19 میں پائی جاتی ہے۔ ان بنیادی حقوق کی تائید اور حفاظت کرنا ممبر ممالک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تشدد کی کارروائیوں کو کسی مذہب ، قومیت ، تہذیب یا نسلی گروہ سے وابستہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ایک ہی وقت میں ، مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر عدم رواداری کی کارروائیوں کے لئے تشدد کا جواز یا قابل قبول جواب کبھی نہیں مل سکتا ہے۔

حال ہی میں وہاں ایک ایسے ٹیچر کا سر ایک چیچن مسلم نوجوان نے اس لیے قلم کر دیا تھا کہ اس نے اپنی کلاس میں یہ خاکے دکھائے تھے۔ اس قتل کے بعد فرانسیسی صدر نے ان خاکوں کی اشاعت اور ان کے دکھائے جانے کے حق میں جو بیان دیا تھا، اس پر بہت سے مسلم اکثریتی ممالک میں پایا جانے والا غم و غصہ اور بھی زیادہ ہو گیا تھا۔

صدر ایمانوئل ماکروں نے آزادی اظہار رائے اور فرانس کی ثقافتی اقدار کا حوالہ دیتے ہوئے زور دے کر کہا تھا کہ فرانس ان متنازعہ خاکوں کی اشاعت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس پر کئی مسلم اکثریتی ممالک میں وسیع تر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن سمیت کئی ممالک کے اعلیٰ سیاسی اور مسلم مذہبی رہنماؤں نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کر دیا تھا۔

اس پس منظر میں ‘تہذیبوں کے اتحاد‘ کے سربراہ اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار میگوئل موراٹینوس نے فرانسیسی صدر ماکروں کے ان متنازعہ خاکوں کے حق میں دیے گئے بیان کا کھل کر حوالہ دیے بغیر اپنے ایک بیان میں کہا، ”تہذیبوں کے اتحاد کی قیادت پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت سے پیدا ہونے والی عدم برداشت اور بڑھتے ہوئے کھچاؤ پر بہت فکر مند ہے۔

‘‘

میگوئل موراٹینوس نے اپنے بیان میں کہا، ”ان اشتعال انگیز خاکوں سے پرتشدد واقعات کو مزید ہوا ملی ہے اور اس تشدد کا نشانہ ایسے معصوم اور عام شہری بنے، جن کا قصور ان کا مذہب، عقیدہ یا ان کی نسلی پہچان تھی۔‘‘ موراٹینوس کے مطابق، ”مذاہب اور مختلف مذاہب کی مقدس علامات کی تذلیل اور توہین سے نفرت اور خونریز انتہا پسندی کو ہوا ملتی ہے، جن کا نتیجہ مختلف معاشروں میں تقسیم اور بہت نقصان دہ دھڑے بندیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کا استعمال اس انداز میں ہونا چاہیے جس میں مذاہب، ان کی تعلیمات اور اصولوں کا احترام بھی ملحوظ رکھا گیا ہو۔واضح رہے کہ فرانس میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مسلسل نفرت انگیز بیانات اور اقدامات سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ ماہ رسوائے زمانہ اخبار شارلی ہیبڈو کی جانب سے ایک مرتبہ پھر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت، فرانس میں ان کی تشہیر اور فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیانات کے بعد مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور دنیا بھر میں مسلمان سراپا احتجاج ہیں

یاد رہےکہ اقوام متحدہ کا اتحاد برائے تہذیب پندرہ سال پہلے بین الثقافتی اور باہمی گفتگو کے فروغ اور مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے مابین تفہیم کے پلوں کی تعمیر کے ذریعے تنازعات کی روک تھام کے لئے کام کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.