fbpx

امریکہ : یوم آزادی پریڈ کے دوران فائرنگ،ہلاکتیں:24 گھنٹےگزرنےکے باوجود ہرطرف خوف ہی خوف

شکاگو۔امریکہ : یوم آزادی پریڈ کے دوران فائرنگ،ہلاکتیں:24 گھنٹےگزرنےکے باوجود ہرطرف خوف ہی خوف،اطلاعات کے مطابق امریکہ میں یوم آزادی کی پریڈ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے ہیں ، لیکن امریکہ میں ابھی تک اس فائرنگ نے ہرشخص کو خوف زدہ کررکھا ہے اور 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ہرطرف پولیس اوردیگرسیکورٹی ادارے خوف کے مارے تلاشی اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہیں ۔ یہ واقعہ ریاست الینوائے کے شہر شکاگو کے نواحی علاقے ہائی لینڈ پارک پریڈ شوٹنگ میں پیش آیا۔ فائرنگ کے بعد لوگ جان بچانے کے لیے ادھر سے ادھر بھاگتے نظر آئے۔ حکام نے پریس کانفرنس میں چھ افراد کے ہلاک اور 24 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ زخمیوں کو مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس کو ایک رائفل بھی ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس سے فائر کیا گیا تھا۔ تاہم ابھی تک مشتبہ حملہ آور پکڑا نہیں جا سکا ہے۔

شوٹر نے چھت سے فائرنگ کی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے پریڈ شروع ہوئی۔ تقریباً 10 دن بعد فائرنگ کی وجہ سے پریڈ روکنا پڑی۔ بتایا گیا ہے کہ فائرنگ عمارت کی چھت سے کی گئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں حملہ آور کی تلاش میں ہیں۔ لیک کاؤنٹی شیرف کے دفتر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ "یوم آزادی پریڈ اسٹریٹ” کے علاقے میں ہوئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر امریکہ کے خطرناک گن کلچر کو بے نقاب کر دیا ہے۔ 24 مئی کو، ، ٹیکساس کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں فائرنگ سے دو اساتذہ اور 19 بچے ہلاک ہو گئے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مجرم نے 20 سے زیادہ گولیاں چلائیں

لینڈ پارک کی رہائشی ڈیبی گلک مین نے بتایا کہ وہ ساتھیوں کے ساتھ پریڈ کے فلوٹ پر تھیں اور جب اس نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو کئی لوگ پریڈ کے راستے سے نیچے جانے کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ چیخ رہے تھے، وہاں ایک شوٹر ہے، ایک شوٹر ہے، وہاں ایک شوٹر ہے، "گلک مین نے مزید کہا کہ ہم نے بھی یہ سن کر بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ شہر کے رہنماؤں نے ٹوئٹر پر مطلع کیا ہے کہ ‘پولیس دی ہائی لینڈ پارک شوٹنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اس دوران فورتھ فیسٹ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

فائرنگ کا یہ حالیہ واقعہ امریکہ میں اسلحے کے بڑھتے ہوئے جرائم کا ایک اور سلسلہ ہے، جہاں گن وائلنس آرکائیو ویب سائٹ کے مطابق ہر سال فائرنگ سے 40 ہزار کے قریب اموات ہوتی ہیں۔

اس سے امریکہ میں 246 ویں یوم آزادی کی تقریبات پر بھی اثر پڑا، جہاں ملک بھر میں شہروں اور قصبوں میں پریڈ منعقد ہوتی ہیں اور شہری پارٹیوں اور آتش بازی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ پولیس کے مطابق فائرنگ صبح 10 بج کر 14 منٹ پر شروع ہوئی جب پریڈ آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔

صدر جو بائیڈن نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’اس یوم آزادی پر بے مقصد فائرنگ نے ایک بار پھر امریکی برادری میں سوگ کا سماں پیدا کر دیا ہے۔‘ انہوں نے کہا: ’میں اسلحے کے تشدد کی وبا کے خلاف لڑائی میں ہار نہیں مانوں گا۔‘ صدر بائیڈن نے پیر کی شب وائٹ ہاؤس میں فوجی خاندانوں اور انتظامیہ کے اہلکاروں سے خطاب میں کہا: ’حالیہ دنوں میں یہ سوچنے کی وجوہات سامنے آئی ہیں کہ شاہد ہمارا ملک پیچھے جا رہا ہے، کہ آزادیوں میں کمی آ رہی ہے، کہ وہ حقوق جنہیں ہم محفوظ سمجھتے تھے، اب نہیں ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ تھکا دینے والا اور پریشان کن ہے مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس سب سے نکل جائیں گے۔