مسئلہ کشمیرو فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا: ترک صدرکی جنرل اسمبلی میں‌ دھواں‌ دارتقریر

نیویارک : مسئلہ کشمیرو فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا: ترک صدرکی جنرل اسمبلی میں‌ دھواں‌ دارتقریر ،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سالانہ اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث مختلف ممالک کے سربراہان مملکت بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کررہے ہیں۔ ویڈیو لنک پر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔

ذرائع کے مطابق طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔طیب اردوان نے کہا کہ اگرمسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا توپھران اداروں کے وجود کی کوئی حیثیت نہیں ہے

ترک صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات نے مسئلہ کو پیچیدہ کردیا ہے، ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔

طیب اردوان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بالخصوص کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بھی ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین بھی پیچیدہ ہوگیا ہے لیکن آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ قیام ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو بااختیار بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے جب کہ ایران جوہری پروگرام تنازع عالمی قوانین کےمطابق سفارتکاری اوربات چیت سے حل ہونا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق ترک صدرطیب اردوان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ نیوزی لینڈ حملے کی تاریخ 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی یکجہتی کا دن قرار دے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال بھی ترک صدر طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.