fbpx

اڑان .تحریر: ڈاکٹر ہما

وہ روز صبح ہی صبح اڑان بھرتی، اور اپنی چونچ میں کچھ نا کچھ بھر کر لاتی ریتی،تب تک جب تک بچوں کی بھوک ختم نا ہو جاتی،اور وہ خاموش نا ہو جاتے
اور میں روزانہ یہ اڑان دیکھتی
پھر ایک دن کیا ہوا کہ صبح دم کی چہل پہل میرے روشن دان میں ختم ہو چکی تھی۔ اور وہاں بس خاموشی کا راج تھا۔ چڑیا کے بچے اڑنا سیکھ چکے تھے، اور وہ گھونسلا چھوڑ کر اڑ گئے۔ چڑیا بھی دوبارہ نظر ناآئی، کافی دن انتظار کر کے گھونسلہ ادھر سے ہٹادیا۔ تھوڑے دن گزرے تھے کہ ہماری کام والی واویلا کرتی آن موجود ہوئی، امی کے سامنے بیٹھےروئے جائے، پانی کھانا،چائے پینے کے بعد کچھ ڈھارس بندھی تو پتا چلا کہ بیٹے کی نوکری دوسرے شہر میں ہو گئی، بہت اچھی تنخواہ مل رہی اب ماں کے لئے اس گھر کو چھوڑنا اپنے محلے داروں رشتے داروں سے دور رہنا ممکن نہیں ہو رہا، اور وہ زور دے رہی تھی کہ کوئی اس کے بیٹے کو سمجھائے اپنے شہر سے دور نوکری نا کرے۔
اور وہ رات اس سوچ میں گزری کہ ماں تو ماں ہے، وہ کیوں اتنا کچھ کرتی، وہ کسی پرندے کی ہو یا انسان کی،خود سے بڑھ کر اپنی اولاد کو دیتی۔ ہر سکھ کے لئے بار بار اڑان بھرتی۔ اندر باہر کے چکر کاٹتی۔

لیکن کیاوجہ ہے کہ چڑیا اپنے بچوں کو گھونسلے سے اڑان بھرنا سکھاتی!!!
جبکہ ہمارے معاشرہ کی ماں اسے اڑان سکھانے کے بجائے خود خوفزدہ اور غیر محفوظ ہوجاتی!!!
کیوں؟؟
بہت سی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہم پہلے سے ہی یہ سوچ کر بچے پیدا کرتے کہ یہ ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہوںگے۔

ہجرت ہر پیغمبر کی نسبت سے ہمارے لئے سنت ہے، لیکن ہم ہجرت کے نام سے ہی خوفزدہ ہونے لگتے۔ ہم گھروندے بنا کر انہی میں اپنی وابستگیاں اتنی گہری لگاتے کہ ان کے ٹوٹ جانے سے ڈرنے لگتے۔
یہی خوف بڑھ کر ہمارے بچوں کے اوپر ہر وقت پروں کی چھایا کئے رکھنے کی ترغیب دیتا، ہم ان کی پرواز سے ڈر جاتے کہ کہیں کچھ گزند نا پہنچے، اور یوں ان کی اونچی اڑان کی راہ میں ہم خود رکاوٹ بن جاتے

کیا ایسے ہم اس چڑیا سے زیادہ بے بس اور کمزور نا ہوئے؟ جس نے اپنی اولاد کو پرواز کرنا سکھایا، آر آزاد کر دیا کہ کاؤ، اس دنیا میں گھومو، پھرو اور اللہ کی تسبیح بیان کرو۔
ہمارے معاشرہ میں ہر جگہ پر محدود سوچ کی بنیادی وجہ ہمارا اپنے بچوں کو یہ ترغیب دینے سے کوتاہی ہی ہے۔
ذمہ داری بحیثیت والدین یا اساتذہ یہی ہے کہ ہم انہیں اڑان بھرنا سکھائیں اور جب وہ آزادانہ رہنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں اپنی زندگی کو جی کر دیکھنے دیں۔

ہاں ایک انسان اور چڑیا میں اتنا فرق ضرور ہے، کہ والدین اپنی اولاد کی کونسلنگ اور حوصلہ افزائی دونوں کے لئے ان کے پیچھے موجود رہیں تاکہ ان کے پروں کی سمت صرف اونچی پرواز ہی کی طرف اشارہ کرے، بس یہی ایک طریقہ ہو سکتا اسوقت گرتی معاشرتی اقدار کو سہارا دینے اور واپس اوج ثریا کو پانے کا۔