fbpx

اردوادب میں عیدالاضحی تحریر: محمد فہیم خان

اردو کی غزالیہ شاعری میں عید؛عید کاچاند حلال وآبرو محبوب سے روز عید کی ملاقاتیں اور اس کے متعلق ہی اہم رہے لیکن 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب اردو شاعری کی حدود میں وسعت پیدا ہوئی اور نظموں کی طرف توجہ تیز ہوگئی تو عید کے بعد موضوع میں بھی اشارتی اور علامات یا امکانات زیادہ اجاگر ہوئے اور اردو شاعری کو 1757 کے بعد ملی احساسات کی ترجمانی کا وسیلہ بھی بنایا گیا اور اس طرح مسلمانوں کی فکری زندگی کے خط و خال نے اردو ادب میں اسلامی اقدار اور روایات کی پاسداری کے عمل کو شدید سے شدید تر کر دیا۔عید الفطر پر نظموں کی کثرت کا سبب بھی یہی ہے اور شعرا و ادبانے جب تخلیقی جوہر کے حوالے سے ان افکار کی پیشکش کا سامان فراہم کیا تو یہ موضوع کئی جہتوں میں پھیل گیا ۔ عید کب محدث خوشیاں عید کے چاند کو محض سال میں ایک بار جھلک دکھا کر غائب ہونے کے حوالے سے دیکھنے کی بجائے اسے مسلمانوں کی تہذیبی اور فکری زندگی کے وسیع تر جغرافیے سے ملا دیا گیا ؛ جسے عید کے موضوعات میں نئی نئی باریکیاں پیدا کرکے اسے ادبی خوشی کے ملے جلے جذبات تک لے گئے گلدستہء عید میں موضوعات ؛ صحن عیدگاہ میں ملاقات اور دوران خانہ عید ملن تک محدود نہیں رہے بلکہ جذبات کے وسیع تر رقبوں میں لاکر رکھ دکھایا گیا ہے۔”مسلمان فیشن ایبل خاتون کی ڈائری” سے چل کر”رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عید”؛”سہاگن کی عید” ؛ ” بچوں اور بڑوں کی عید” ؛ "دوگانی عید” ؛ ” ترکن ماما کی عید” ؛”عید اور قرض” ؛ "عیدی”گھر کی مالکہ کی عید” ؛ "یتیموں کی عید” تک عیدالاضحیٰ میں متوسط طبقے اور غریب طبقے کے مسائل و حالات سے منسلک نظر آتی ہے۔اس تمدنی وسعت پذیری سے موضوع کی جڑیں ہماری ادبی روایات میں پھیل گئی ہیں۔ خواجہ حسن نے دلی کی بربادی کے جو نوحے لکھے ہیں ؛ ان میں دولت و عزت سے محروم ہونے والے شہزادوں اور شہزادیوں کی کس مپرسی میں عید بسر کرنے کا زکر اہمیت رکھتا ہے اس روایت کا آغاز سر سید احمد خان سے ہوتا ہے ؛ جنھوں نے” مسلمانان ہند کی عید” کے عنوان سے مسلمان کی معاشرتی زندگی کی خامیوں کو بیان کرنے کے علاوہ ؛ ان کی غریبی کے نقشے بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیے۔حسن نظامی کے موضوعات میں "عظمت رقتہ کی یاد”عید کو علامتی حوالہ عطا کرتی ہے ” یتیم شہزادے کی عید” ؛ "عید گاہ ماغریباں کوئے تو” دینی جذبے کی شدد اور مزہبی امور سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے
"اے مہ عید! بے حجاب ہے تو
حسن خورشید کا جواب ہے تو
تو کمند غزال شادی ہے
لزت افزائے شور طفلی ہے”

@FK5623