fbpx

اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

‏اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟

 اردو ہماری تہذیبی شناخت ہے۔ اس میں شاید ہی اختلاف ہو۔ اور مزید اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ سرکاری زبان کے ساتھ ساتھ مادری زبان بھی ہے، اختلافات تو یہ ہیں کہ یہ صرف ماضی میں ہی ضروری تھی یا مستقبل میں بھی اس کے کچھ تقاضے ہیں ؟نئی صدی میں ہونی والی ترقی نے سب کچھ بدل ڈالا ہے انسانی زندگی، رہن سہن اور وسائل سب ہی میں بڑا تغیر برپا ہے اس کے ساتھ ہی اردو کا وہ ادب بھی کمزور ہوتا جا رہا جو آج سے ساٹھ ستر سال پہلے تھا نسلِ نو اردو زبان سے بہت دور ہوتی جا رہی ہے اور اردو روایات کو سمجھنے سے قاصر ہے یہ نسل نا تو غالب و میر کو سمجھتی ہے اور نا ہی فیض اور اقبال کے استعاروں کو. اقبال و غالب کے بنا بھی بھلا اردو کی کوئی تہذیب یا روایت ہے کسی بھی قوم کی روایات اس وقت تک ہی زندہ رہتی ہیں جب تک وہ انہیں اپنی روز مرہ زندگی میں بروۓ کار لاتا رہتا ہے جس دن سے وہ بے نیاز ہوتا ہے تو وہ نا پائید ہو جاتی ہیں قومیں کیسے تباہ ہوتی ہیں بڑے بڑے دانشوروں نے اس پہ بہت کچھ لکھا اور سب کا خلاصہ یہی نکلا جو قومیں اپنی روایات سے منہ موڑ لیتی ہیں وہ ختم ہو جاتی ہیں سکندرِ اعظم ہو یا چنگیز خان جنہوں نے آدھی دنیا فتح کی مگر ان کے ماننے والے جلد ہی ختم ہو گئے کیوں.؟ کیونکہ ان کے پاس اپنی روایات تھیں اور نا ہی کوئی تہزیب. آج کے دور میں زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ علم ہے. علم کے بنا زندگی کچھ بھی نہیں ہے. اور علم اسی زبان سے کی حاصل کیا جا سکتا ہے جو وقت کی ضرورت ہو اور اسی زبان سے حاصل کر دہ علم زندگی کو سہل کرتا ہے، اس وقت اردو زبان علم کی زبان بننےسے قاصر ہے یہ کام اس وقت انگریزی نے لے لیا ہے اور اب زندگی اسی کے ساتھ ہی چل پڑی ہے کوئی بھی زبان دو وجہ سے ترقی پاتی ہے ایک تو یہ کے تخلیق کردہ علم اس زبان میں ہو یا وہ زبان دنیا بھر کے علم کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور یہ صلاحیت اب انگریزی زبان میں ہی موجود ہے. جب دنیا بھر میں عربوں کی حکومت تھی اور انہی کا راج چلتا تھا تو عربی زبان اپنے عروج پر تھی، پھر دور آیا سلطنتِ عثمانیہ کا جس کی بدولت فارسی زبان کو عروج ملا اور اس وقت دنیا بھر انگریزوں کا راج ہے چاہے وہ بلاواسطہ ہو یا بالواسطہ اور اسی ہی کی بدولت اب انگریزی زبان کو باقی سب زبانوں پہ سبقت مل چکی ہے آج اکیسویں صدی ہے اور ہر ایک کی تہزیب کی بھاگ دوڑ سائنس کی نت نئی ایجادات پر ہے اور اردو اس قابل نہیں کے جس کے ذریعے علم حاصل کر کے سائنس کے پیچھے بھاگتی دنیا کے ساتھ چلا جائے اب یہ مقام صرف انگریزی زبان کو ہی حاصل ہے اردو زبان اب ایک محدود زبان بن چکی ہے، انیسویں صدی کو اردو زبان کے عروج کا زمانہ بھی بولا جا سکتا ہے جس میں اقبال، غالب، مودودی اور شبلی نعمانی جیسے شاعر و مفکر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی شاعری اور تفسیر و تاریخ کے ذریعے اردو زبان کو عالم اسلام تک پہنچا کے اردو زبان کا لوہا منوا دیا تھا اور پھر اس کے بعد ہم آزاد ہو گئے جس وجہ سے اپنی روایات اور تہذیب کا دام بھی ہاتھ سے چھوڑنے لگے اقبال و غالب کے بعد ان کی روحانی مسندیں خالی ہو گئی اور کوئی اس قابل نا رہا کے ان کے پیغام کو آگے پہنچائے اگر کوئی آیا بھی تو ہم نے اسے قبول نا کیا، اسی طرح سے پھر اردو زبان کو فروغ کم ہوتا چلا گیا اور اردو علوم زوال پزیر ہونے لگا پھر افسوس کا مقام یہ ہوا کے انگریزوں کے چلے جانے کی بعد بھی ہمارا نظام تعلیم نا بدل سکا ہم آزاد ہو کے بھی غلام ہی رہے، اگر کیسی نے کوئی سائنسی علم حاصل کرنا ہے یا کوئی بڑی نوکری کرنی ہے تو اسے انگریزی ہی سیکھنی پڑے گی اس بنا پر ہماری نوجوان نسل کے پاس اور کوئی رستہ نہیں تھا سوائے اپنی تہذیب سے دور ہونے کے، اب اگر کوئی نوجوان اردو زبان بولتے وقت انگریزی استعمال کرتا ہے تو وہ بہت پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور وہی نوجوان اگر انگریزی کے دوران اردو کے الفاظ کے چناؤ کر لے تو اس کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہی وجہ احساس کمتری کی وجہ بنتی ہے امرا اپنے بچوں کو بڑے سکولوں میں انگریزی پڑھنے کے لیے بھیج دیتے ہیں جو کے پھر بعد میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ جو چھوٹے اسکول میں پڑتا ہے اسے اردوتو ڈھنگ سے نہیں سیکھائی جاتی انگریزی کے دروازے تو پہلے سے ہی اس کے لیے بند کر دئیے جاتے ہیں، یہ رویہ ایک بہت بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے حکومت وقت اور بڑے حلقوں کو لازمی اس پہ سوچنا چاہیے اور ایک عالمی مسئلے کی طرح اس کا حل تلاش کرنا چاہیے

‎@Durre_ki_jan