fbpx

اردو میٹھی زبان تحریر۔۔فرزانہ شریف

ہر پاکستانی کی طرح میرا دل بھی شدت سے چاہتا ہے کہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں ان کی زبان بولی جاتی ہے ویسے ہی ہمارے ملک میں ہماری ذبان بولی جائے اتنا میرا ملک ترقی کی منازل طے کرلے کہ پھرمیرے ملک میں رہنے والوں کو اردو زبان بولتے ہوئے شرم نہ آئے یا احساس کمتری کا احساس نہ ہو یہ بات بیرون ملک آکر میں نے بہت شدت سے محسوس کی کہ ہم خود کو بڑا ایڈوانس اور کوئی اونچی شے شو کرنے کے لیے اپنے بچوں کو فل انگلش میڈیم سکول میں تعلیم دلواتے ہیں اور فخر سے اپنے رشتےداروں کو بتاتے ہیں کہ جہاں ہمارا بچہ پڑھ رہا ہے وہاں مکمل آکسفورڈ کا نصاب ہے اردو کی بکس نہیں تو یہاں سے ہی ہماری قومی زبان کی بے حرمتی شروع ہوجاتی ہے ہمیں سب کو انفرادی طور پر اپنا آپ بدلنا ہوگا اگر چاہتے ہیں کہ ہماری ذبان کو بھی عزت ملے ۔مانتی ہوں انگلش انٹرنیشل زبان ہے بعض جگہ پر بولنی ضروری بھی ہوجاتی ہے اپنا پیغام کو بہتر انداز سےرسائی دینے کے لیے۔۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم اپنی زبان کو بھول ہی جائیں ہمارے بچے انگلش میں بات کرنی ذیادہ آسان سمجھیں بنسبت اردو کے ۔اور ہم اپنے بچوں کو فر فر انگلش بولتے ہوئے دیکھ کر واری صدقے جانا شروع ہوجائیں ۔۔ا
پاکستان کا ماحول ہی ایسا بن چکا ہے بچے تو بچے بڑے بھی اردو کے بجائے انگلش میں بات کرنا ذیادہ آسان سمجھتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں کہ سامنے والا انھیں کوئی بہت اونچی چیز سمجھ رہا ہے بڑا پڑھا لکھا سمجھ رہاہے ۔۔اور تو سکول میں بچوں کو کلاس میں بھی سختی سے انگلش میں بات کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے توان بچوں نے پھر انگلش میں ہی بات کرنی ہے ناں جیسا ماحول ویسی تربیت ۔۔۔!!
اور اگر خوش قسمتی سے بچہ سرکاری سکول۔کالج میں داخل کروا دیں تو وہاں بھی دوسری قوموں کی غلامی کرنے پر ہماری پاکستانی قوم نمبر ایک پر ہی آئے گی فارسی ۔عربی کو لازمی نصاب میں شامل کیا ہوتا ہے ان مضامین میں پاس ہونا لازمی ہے ۔انگلش تو ہے ہی لازمی ۔اردو اختیاری مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے مطلب اس مضمون میں فیل بھی ہو جاو گے تو بھی کوئی بات نہیں آپ کو فیل نہیں مانا جائے گا بس انگلش میں پاس ہونا ضروری ہے ۔۔!!
افسوس ہم احساس کمتری کے ماری قوم ہمیں اپنی پہچان پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے دوسروں کی پہچان کا رنگ اپنے اوپر حاوی کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہوتے ہیں ہمارا پھر وہ حساب بن جاتا ہے۔۔
"کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ”
بس یہ ہی کہنا چاہوں گی کہ ہمیں اپنی زبان کو ذندہ کرنا ہوگا ہر صورت ۔ہرقیمت پر ۔ہمیں طے کرنا ہوگا ہماری قومی زبان ہی ہماری دفتری زبان ہے یہ نہیں جس ملک سے ہمیں بھیک کے نام پر امداد مل جائے اسی کے گن گانے لگ جائیں اور اپنی روایات بھول جائیں اور اسی ملک کی زبان کے رٹے لگانے شروع کردیں
تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے کہ کتنے ملک پاکستان کے ساتھ آزاد ہوئے تھے آج وہ ملک ترقی پذیر ممالک میں شامل ہوچکے ہیں ہمارے ملک کو سب نے اپنے گھر کی لونڈی سمجھ رکھا تھا ۔خوب نوچا گھسوٹا اور دوسرے ممالک میں بھاگ گے ۔ایک وقت تھا جرمنی نے پاکستان سے قرض لیا تھا آج جرمنی کہاں اور ہم کہاں ۔۔!!ابھی بھی ملک کی تباہی نکل جاتی اگر اللہ تعالی پاکستان کو صادق وآمین ملک کا سربراہ عنائت نہ فرما تا صد شکر ۔۔تو بات کررہی تھی اردو زبان کی ۔جو سکون بھری راحت میں اردو میں محسوس کرتی ہوں اپناناپن محسوس ہوتا ہے ایسا دنیا کی کسی زبان میں محسوس نہیں کیا میری کوشش ہوتی ہے کم ازکم اپنے پاکستانیوں سے اردو میں بات کروں غیر ملکیوں سے ان کی زبان میں بات کرنا ہماری مجبوری ہے ورنہ میرا بس چلے تو انھیں بھی اپنی زبان سکھا دوں ویسے کافی غیرملکی لوگوں کو جن کے ساتھ میری اچھی دعا سلام ہے ان کو السلام علیکم بولنا سکھایا ہے ۔۔۔
ہماری پاکستانی عوام کو اب غفلت کی نیند سے جاگ جانا چاہئیے اپنے بچوں کو اپنے کلچر کے بارے میں بتاتے رہنا چاہئے ۔ اپنے بچوں کو بتانا چاہئیے کہ اردو بولنی کیوں ضروری ہے اردو زبان سے ہمارا کیا رشتہ ہے ۔اور اردو بولنا جہالیت نہیں اردو ہماری قومی زبان ہے ہمارا فخر ۔۔میں دوسروں کی کیا بات کروں میں اپنی کزنز سے کبھی وٹس آپ پر بات کروں تو وہ جواب انگلش میں دیتی ہیں اور میں دل میں کہتی ہوں ” ایڈی تسی انگلش دی جانشین "جیسے میں تو آپکو جانتی ہی نہیں ہوں ۔۔!!
پھر میں تو اردو میں ہی جواب دیتی ہوں کبھی احساس کمتری محسوس نہی ہوا اپنی زبان بولتے ہیں الحمدللہ ۔
اب پاکستان کے حالت بدل چکے ہیں ۔اب ہمیں اپنے گلے سے غلامی کا طوق اتار کر پھینک دینا چاہئیے کنویں کے مینڈک بن کر بہت ذندگی گزار لی اب اس حصار سے خود کو نکالنا ہوگا بحثیت قوم ہمیں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہونا ہوگا خود سے ابتدا کرنی ہوگی اور ایک تندرست معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اپنے لیڈر قائداعظم کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہوگا۔۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
"نہیں بدلی کبھی ان قوموں کی حالت
جن کو خیال نہیں آتا اپنی حالت خود بدلنے کا ۔۔ !!