fbpx

امریکہ:2018 سے2022 تک4لاکھ 60 ہزارامریکیوں نے خود کُشی کی:شرح میں مزید اضافہ

واشنگٹن:جدید سہولیات ، بہترین معالج اور زندگی کی رنگینیون کے باوجود امریکی زندگی سے اُکتانے لگے، چند ہی سالوں میں خودکُشی کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہوگئی ، ادھر اس حوالے سے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی ہدایت پرواشنگٹن نے امریکا میں خودکشی روکنے اور ذہنی دباؤ کا شکار افراد کی فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن 988 متعارف کروا دی ہے

 

 

 

ورلڈ پاپولیشن ریویو کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں 41 ہزار سے زائد لوگوں نے امریکا میں خودکشی کی اور یہ اعداد و شمار سنہ 2020 میں 45979 تک جا پہنچے۔

 

 

ڈائریکٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف اسٹیٹ مینٹل ہیلتھ پروگرام ڈاکٹر برائن ہیپبرن کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کی بہبود کے حوالے اس ہیلپ لائن کا قیام ضروری تھا کیونکہ دن بدن امریکہ میں خودکشی کے اعداد و شمار بڑھتے جا رہے ہیں.

 

 

 

امریکا میں ذہنی صحت سے متاثرہ افراد کی فلاح بہبود کیلئے ایک خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے جس کا مقصد ہر سطح پر لوگوں کی رہنمائی کرنا اور انہیں الجھاؤ کا شکار ذہنی کیفیت سے باہر نکالنا ہے۔ ذہنی صحت کو ملکی سطح پر بہتر بنانے کیلئے موبائل مینٹل ہیلتھ کرائسس ٹیم اور ایمرجنسی مینٹل ہیلتھ سینٹرز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

 

 

یاد رہے امریکہ میں مایوسی، ذہنی دباؤ اور اعصابی تنائو میں گھرے ہوئے لوگوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی تعداد امریکی حکومت کے لئے چیلنج بن چکی ہے اور انہی مسائل کی وجہ سے ملک میں ہونے والی خودکشیوں کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔