fbpx

روس کے مقابلےکے لیے امریکہ کی یوکرین کے لیے بڑی امداد کا اعلان

واشنگن :روس کے مقابلےکے لیے امریکہ کی یوکرین کے لیے بڑی امداد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق صدر جو بائیڈن سے توقع ہے کہ جمعے کے روز یا اس ہفتے کے آخر میں یوکرین کے لیے کم از کم 100 ملین ڈالر کے ایک نئے ہتھیاروں کے پیکج پر دستخط کریں گے۔

24 فروری کو روس کے حملے کے بعد سے امریکہ نے یوکرین کو 3.4 بلین ڈالر مالیت کے ہتھیار بھیجے ہیں جن میں ہووٹزر، طیارہ شکن اسٹنگر سسٹم، ٹینک شکن جیولن میزائل، گولہ بارود اور باڈی آرمر شامل ہیں۔

عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ تازہ ترین پیکج میں ممکنہ طور پر ہووٹزر جیسے سسٹمز کے لیے مزید جنگی سازوسامان شامل ہوں گے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی تقریباً 184,000 توپ خانے بھیجے ہیں۔

دو عہدیداروں نے بتایا کہ اعلان اگلے 24 گھنٹوں کے اندر جلد ہی آسکتا ہے۔

ہتھیاروں کی منتقلی کی نئی قسط صدارتی ڈرا ڈاؤن اتھارٹی میں بقیہ $250 ملین سے آئے گی، جو صدر کو کسی ہنگامی صورت حال کے جواب میں کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکی اسٹاک سے اضافی ہتھیاروں کی منتقلی کی اجازت دیتا ہے۔

پچھلے مہینے بائیڈن نے یوکرین کے لیے 33 بلین ڈالر کے امدادی پیکج کی تجویز پیش کی تھی، جس میں 20 بلین ڈالر سے زیادہ کی فوجی امداد بھی شامل تھی۔

ادھریوکرین کے وزیر اعظم ڈینس شمٹ نے جمعرات کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں یوکرین کے لیے امداد سے متعلق ایک بین الاقوامی اجلاس کی صدارت کی، جس میں عطیہ دہندگان نے 6.5 بلین دینے کا وعدہ کیا۔

اجلاس کا مقصد یوکرین کو فوری مدد فراہم کرنا تھا جو جنگ کے بعد اب بھی ملک کی تعمیر نو کا عمل جاری ہے جس کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔

بعد ازاں پولینڈ کے وزیراعظم ماتوز موراؤک نے مختلف ممالک اور کاروباری اداروں کی جانب سے عطیات کے وعدوں کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سویڈن کی وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسن کا کہنا تھا کہ آج توقع سے زیادہ عطیات جمع ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یوکرائن کو روزانہ کی بنیاد پر 12 ہزار ٹن امداد کی ضرورت ہے جب کہ اس وقت صرف 3 ہزار ٹن امداد دستیاب ہے۔