fbpx

روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

کیف:روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر کی روس کی جنگ کے خلاف مدد کی اپیل میں ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یوکرین پہنچنے والے افراد کے مجموعی جنگی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

ستائیس فروری کو یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کُولیبا نے اپنے ملکی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا ایم پیغام ٹویٹر پر جاری کیا تھا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے غیر ملکی افراد روسی فوج کشی کے خلاف عملی طور شریک ہوں۔

اس پیغام کی ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ پانچ مارچ سے یوکرینی صدر کے اس پیغام کے جاری ہونے کے بعد سے جنگ میں شریک ہونے والے رضاکاروں کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی ویب سائیٹ بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے مختلف شہروں میں کئی غیر ملکی جنگجوؤں کے پہنچنے کا بتایا گیا ہے اس ویب سائیٹ میں جنگ میں شریک ہونے کی درخواست کا مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

یوکرینی حکومت نے ایسے رضاکاروں کی ممکنہ فوج کا نام ‘انٹرنیشنل ڈیفینس لیجیئن‘ تجویز کیا ہے۔ جنگ میں شامل ہونے کے خواہشمند رضاکار اس مناسبت سے مکمل تعداد کو بیان نہیں کیا گیا لیکن ہزاروں غیر ملکی افراد نے یوکرینی دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

لندن میں یورپی سکیورٹی کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ریسرچر ایڈ آرنلڈ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے والے رضاکاروں کی تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں لیکن محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

ذرائع کے مطابق کئی جاپانی بھی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں اور پانچ سو بیلاروس کے شہریوں نے بھی رضاکار بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔

ایڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں شریک سابقہ فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار دنوں میں اتنے فائر کیے ہیں جتنے وہ افغانستان میں قیام کے دوران نہیں کر سکے تھے۔ بعض جرمن میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک ہزار جرمن شہری یوکرین کا سفر اختیار کر چکے ہیں۔

ان رضاکاروں یا یوکرینی صدر کی اپیل پر جرمن شہریوں کے مثبت ردِعمل بارے برلن سے وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ایسے افراد کے سفر کے بارے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ اسی طرح سے جرمن وزارتِ داخلہ کے ترجمان میکسمیلین کارل نے بھی بدھ نو مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں یوکرین کا سفر اختیار کرنے والے ایک ہزار افراد سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شینگن علاقے میں شہری آزادانہ طور پر سفر اختیار کر سکتے ہیں اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن افراد نے امکانی طور پر ایسا کیا ہے وہ یقینی طور پر یوکرینی نژاد جرمن افراد ہو سکتے ہیں۔

میکسمیلن کارل نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی کے ادارے انتہائی دائیں بازو کے جرمن حلقوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسے افراد کی روانگی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

گزشتہ چند ایام کے دوران کچھ یورپی ممالک اور بالٹک ریاستوں جیسا کہ لیتھوانیا اور لٹویا، نے ایسی ہنگامی قانون سازی کی ہے، جس کے تحت یوکرین کی جنگ میں شرکت کے خواہشمندوں کے لیے قانونی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔