ورلڈ ہیڈر ایڈ

امریکی شہری وحشی اور درندے ہوگئے ،خواتین کو درندگی کا نشانہ بنانے میں دنیا میں پہلے نمبرپر

واشنگٹن : امریکی مرد وحشی ہوگئے اور اس وحشت میں وہ کسی نوجوان ، بچی اور بوڑھی عورت کی عصمت کا خیال نہ رکھتے ہوئے ان کو درندگی کا نشانہ بناتے ہیں ،خواتین کی جانب سے کم عمری میں جنسی تعلقات استوار کرنے یا کم عمری میں ان کے ’ریپ‘ کیے جانے کی وجہ سے ان میں سامنے آنے والے صحت کے مسائل جاننے کے لیے کی جانے والی ایک تحقیق کے دوران انکشاف ہوا کہ ہر 16 ویں امریکی خاتون کو کم عمری میں ’ریپ‘ کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔

امریکا کی مختلف یونیورسٹیز اور صحت سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کے ماہرین نے کی اور اس کے نتائج 17 ستمبر کو سائنس جرنل ’جاما نیٹ ورک‘ میں شائع کیے۔تحقیق کے مطابق حیران کن طور پر امریکا کی ہر 16 میں سے ایک خاتون کو انتہائی کم عمری میں ’ریپ‘ کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔تحقیق کے دوران ماہرین نے امریکا بھر کی 13 ہزار سے زائد خواتین سے مختلف سوالات کیے، ان خواتین میں ہر رنگ، نسل اور مذہب کی خواتین شامل تھیں۔

ڈاکٹری پیغمبرانہ پیشہ ، اگرخلوص نیت ، ثواب اور انسانیت کی خدمت کی غرض سے کیا جائے ، ڈاکٹر یاسمین راشد کا ڈاکٹروں کو وعظ و نصیحت

اس تحقیق کے مطابق امریکا کی 5.6 فیصد خواتین کو زندگی کا پہلا جنسی تجربہ ’ریپ‘ کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 18 سے 44 برس کی امریکا کی 33 لاکھ خواتین کو ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا گیا۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جنسی رجحانات پر گفتگو کرنے کے دوران خود سے زائد العمر مرد ساتھیوں کی جانب سے ’ریپ‘ کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کو بڑھتی عمر کے ساتھ صحت کے مسائل ہوتے ہیں اور بعض مرتبہ یہ مسائل انتہائی پیچیدہ بن جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ وہ شرح ہے جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جن کی مرضی کے خلاف جنسی عمل کیا جاتاہے . لیکن ایک اور تحقیق کے دوران یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ویسے تو ہر تیسری خاتون جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے لیکن امریکی حکام اور ائین کے تحت جرم وہ ہو گا جوجنسی عمل کسی کی مرضی اور خواہش کے برعکس کیا جائے گا ، ورنہ جو ایسے جرائم رضامندی سے کیے جاتے ہیں تو ان کو ریپ میں شمار نہیں‌کیا جاتا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.