ورلڈ ہیڈر ایڈ

امریکا، طالبان مذاکرات کی معطلی، پاکستان کا بھی ردعمل سامنے آ گیا

امریکہ اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات کے معطل ہونے کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا، پاکستان نے کہا کہ فریقین تحمل سے بات چیت کریں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کی معطلی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مخلصانہ طور پر مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے تمام فریقین پر زور بھی دیا ہے کہ صبر و تحمل اور مخلصانہ طریقہ سے امن عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ پاکستان حالیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل سیاسی ہے۔ تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ جلد از جلد مذاکرات کی مزی پر آکر افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کریں

مذاکرات کی منسوخی، طالبان نے بھی اعلان کردیا، کہا اب امریکا کا ہو گا جانی و مالی نقصان

مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کے بعد طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا مذاکرات منسوخ کرتا ہے تو اس کا زیادہ نقصان اسے ہی ہوگا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکا کی جان اور مال کا ہوگا۔ طالبان نے گزشتہ 18 سال کی جدوجہد میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تک افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کا انخلا نہیں ہوتا، وہ کسی دوسری چیز پر مطمئن نہیں ہوں گے۔ اس ہدف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان وفد کو دورہ امریکا کی دعوت امریکی نمائندہ خصوصی زلمی خلیل زاد نے اگست کے آخر میں دی تھی جسے امن معاہدے پر دستخط کرنے تک ملتوی کیا گیا تھا۔ طالبان امریکا کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ امن معاہدے کے باضابطہ اعلان کے لیے تیاریوں میں مصروف تھے جبکہ 23 ستمبر کو بین الافغان مذاکرات کا پہلا دن مقرر کیا تھا۔

واضح رہے کہ اب تک امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں امن عمل کیلئے 9 مذاکرات ہوئے جن کا اہتمام دوحہ میں کیا گیا تھا۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کابل میں حملے کے بعد افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکہ اور افغان طالبان کے حوالے سے چند ہفتے  قبل ہی باغی ٹی وی نے مذاکرات ناکام ہونے کی پشین گوئی کردی تھی اور بالآخر پھر وہی ہوا

دوحہ مذاکرات ناکام ، افغان طالبان کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہوسکا- امریکی صدر سچ بول گئے

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ آج رات طالبان رہنماؤں اورافغان صدر کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہونی تھیں، جب کہ کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان رہنماؤں کیساتھ خفیہ ملاقات بھی طے تھی جس کو منسوخ کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے غلط بیعانہ بنانے کیلیے افغان طالبان نے کابل حملے کا اعتراف کیا جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد کو ہلاک کردیا۔

وائٹ ہاوس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ میں فوری طور پر طالبان کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور مذاکرات کو منسوخ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا طالبان اپنی مذاکرات کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلیے اتنے سارے لوگوں کو مار ڈالیں گے؟ انہوں نے بہت برا کیا۔

امریکی صدر نے مزید لکھا کہ اگر طالبان ان اہم امن مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر راضی نہیں ہوسکتے ہیں اور یہاں تک کہ 12 بے گناہ لوگوں کو بھی ہلاک کردیں گے تو پھر شاید ان میں اتنی طاقت نہیں ہوگی کہ وہ معنی خیز معاہدے پر بات چیت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کتنی دہائیوں تک جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور افغان طالبان کے درمیان اب تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ قطر میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان اتفاق رائے حاصل نہیں ہو سکا ہے

دوسری طرف امریکی صدر نے دعوی کیا کہ افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان اب تک کی بات چیت اچھی رہی ہے۔ اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا تھا کہ قطر میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.