fbpx

امریکہ ضرور پنگا لے گا، تحریر:عفیفہ راؤ

امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد جس ایک خدشے کا سب سے زیادہ اظہار کیا گیا وہ یہ تھا کہ افغانستان میں بہت سے قبائل ہیں جو کئی دہائیوں سے جنگ لڑتے آ رہے ہیں اس لئے امریکہ کے جانے کے بعد صورتحال یہ ہو گی کہ وقتی جیت کی خوشی منانے کے بعد یہ اپنے اپنے حصے کی بوٹی کے لئے آپس میں لڑنا شروع کردیں گے کیونکہ ان کو لڑنے کی عادت ہے۔
لیکن اگر یاس مین کچھ حقیقت ہے تو یہی فارمولا امریکیوں پر بھی توفٹ ہوتا ہے امریکہ بھی تو کئی دہائیوں سے کسی نہ کسی ملک میں جنگ لڑتا آیا ہے۔ صرف1945 کے بعد سے اب تک امریکہ نے پانچ بڑی جنگیں لڑی ہیں جن میں کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چند معمولی جنگیں بھی ہیں جن میں صومالیہ، یمن اور لیبیا کی جنگیں شامل ہیں۔
یہ ایک الگ بحث ہے کہ ان جنگوں میں ظاہری طور پر امریکہ کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن یہ بات بھی اب دنیا کے سامنے آ چکی ہے کہ ان جنگوں کی آڑ میں امریکی کمپنیوں نے بہت سا پیسہ بنایا ہے کئی ملک جو ترقی کر رہے تھے وہاں امریکہ کے جانے کے بعد تمام انفراسٹرکچر کا ستیاناس ہو گیا۔ یہ ممالک جنگوں کی وجہ سے کئی دہائیوں پیچھے چلے گئے۔تو اب جو امریکی فوج اتنے سالوں سے جنگیں لڑ رہی ہے کیا افغانستان میں موجود قبائل کی طرح وہ نہیں چاہیں گے ان کو ایک نیا ٹارگٹ ملے ایک نیا محاذ کھولا جائے۔ وہ امریکی دفاعی اور نجی کمپنیاں جو اب تک جنگوں میں مال بناتی آئی ہیں وہ نہیں چاہیں گی کہ دوبارہ سے کوئی ایسا سلسلہ شروع ہو جس میں وہ اپنی دیہاڑیاں لگا سکیں۔

تو آج میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اب امریکہ سکون سے بیٹھنے والا نہیں ہے ایک مخصوص حلقے نے اپنی پوری تیاری کر لی ہے کہ امریکہ سے ایک نئی جنگ شروع کروائی جائے اور اب کی بار یہ کوئی چھوٹی جنگ نہیں ہوگی بلکہ ایک بڑی طاقت کے ساتھ پنگا لیا جائے گا۔ اور کیونکہ مقابلہ ایک مضبوط ملک کے ساتھ ہوگا تو امریکہ اس جنگ میں اکیلا نہیں جائے گا بلکہ اپنے اتحادیوں کوبھی اس جنگ میں گھسیٹے گا۔یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟اور جنگی ہتھیاروں کے حوالے سے امریکہ کی کیا دوغلی پالیسی ہے؟جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ اب کی بار بہت بڑی جنگ ہو گی امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا تو آپ جان لیں کہ بہت زیادہ چانسز ہیں کہ امریکہ اس بار
Directہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں کرتے آ رہے ہیں۔ اور اب اگر آپ امریکہ سمیت اس کے اتحادی ممالک کے میڈیا پر چلنے والی خبریں بھی دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کے میڈیا پر اس بارے میں بہت زیادہ
Debateبھی شروع ہو چکی ہے۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے اس بار امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacificمیں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ سب اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکہ نے خود بھی آواز سے پانچ گُنا تیز رفتار میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق2013کے بعد سے اس طرح کے کسی ہتھیار کا یہ اولین تجربہ ہے۔ امریکا کی
Defence Advance research projects agency (DARPA) طرف سے بھی بتایا گیا ہے کہHyper sonic air weapon concept(HAWC) کی پرواز کا تجربہ گزشتہ ہفتے ہی کیا گیا ہے۔ اسی سال جولائی میں روس نے بھی ہائپر سانک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ روسی صدر نے اس موقع پر کہا تھا کہ اس میزائل کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ جس کے مقابلے میں اب امریکہ نے یہ تجربہ کیا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ کئی دوسرے ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ دنیا میں اب ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔

جس کی ایک مثال شمالی کوریا بھی ہے جس نے آج ہی ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔لیکن امریکہ کا دوغلا پن دیکھیں کہ وہ اس تجربے می مذمت کر رہا ہے۔ یعنی وہ خود جو مرضی کرے وہ ٹھیک ہے اپنے اتحادیوں کو جو مرضی تربیت دی جائے وہ جائز ہے لیکن اگر کوئی اور ایسا ملک تجربہ کرتا ہے جو امریکہ کا اتحادی نہیں ہے تو اس کی مزمت شروع ہو جاتی ہے۔امریکہ نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل کا یہ تجربہ اقو ام متحدہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور اس کی وجہ سے شمالی کوریا کے پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ہم شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطے کے اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شمالی کوریا نے جب یہ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تو اس سے چند گھنٹے پہلے ہی اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نمائندے نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک کے خلاف دیگر ملکوں کی جو مخالفانہ پالیسیاں ہیں ان کی وجہ سے پیانگ یانگ کو ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف اپنے دفاع اور ملک میں سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے ہی اپنے قومی دفاع کومستحکم کررہے ہیں۔ امریکا نے ہمارے جنوب میں تقریبا 30 ہزار فوجیں تعینات کررکھی ہیں اور کوریا جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ایک ماہ کے دوران شمالی کوریا کا میزائلوں کا یہ تیسرا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے اس نے ایک کروز میزائل اور دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ امریکہ کے علاوہ جنوبی کوریا کی حکومت نے بھی قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ طلب کی اور میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک کم فاصلے تک پہنچنے والا میزائل تھا اور شمالی کوریا نے ایسے وقت اس کا تجربہ کیا ہے جب کوریا میں سیاسی استحکام کی صورت حال بہت نازک ہے۔جنوبی کوریا کے علاوہ امریکی دوست ملک جاپان کے وزیراعظم نے بھی بیان دیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک میزائل کا تجربہ کیا ہے جو بیلسٹک میزائل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے ان کی حکومت نے اپنی چوکسی اورنگرانی تیز کردی ہے۔اس سے آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان میں اگر لڑائی ہوتی بھی ہے تو وہ آپس میں ان کے ملک کے اندر ہی ہو گی لیکن امریکہ کو جو لڑائی کی لت پڑ چکی ہے وہ کہیں زیادہ خطرناک ہے اس لئے آنے والے دن پوری دنیا کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ ضرور کسی نہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ پنگا لے گا۔ اس کے بعد بے شک ان کو کوئی ظاہری ناکامی کیوں نہ ہو لیکن مالی طورپر تو فائدے ہی فائدے ہوں گے۔