مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

0
144
bushra

مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا
مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

بشری اعجاز

18 جون 1959: یوم پیدائش

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس اور کالم نگار بشری اعجاز صاحبہ 18 جون 1959 سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں کوٹ فضل احمد میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک روایتی زمیندار گھرانے سے ہے ان کے والد صاحب کا نام میاں نوازش علی رانجھا اور خاوند محترم کا نام اعجاز احمد ہے ۔ اولاد میں انہیں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں اور ماشاء اللہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے ان کا بیٹا اپنی والدہ محترمہ کی تقلید کرتے ہوئے شاعری میں طبع آزمائی کر رہے ہیں ۔ بشری صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے اور وہ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کرتی ہیں ان کا شمار پاکستان کی مقبول و معروف شاعرات اور لکھاریوں میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے شادی کے بعد شعر و شاعری اور لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا 1989 میں کی۔ ان کی اب تک نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 بارہ آنے کی عورت 2 پباں بھار 3 آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں 4 بھلیکھا اور دو سفرنامے ہیں ایک حج پر اور دوسرا بھارت کے سفر پر لکھا گیا ہے۔ بشری صاحبہ آجکل روزنامہ نئی بات میں ” تیسرا کنارہ” کے مستقل عنوان سے کالم لکھ رہی ہیں اور وہ لاہور کینٹ میں رہائش پذیر ہیں ۔ ان کی ایک غزل قارئین کی نذر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہئے
رہ نورد شوق کو رستہ دکھانا چاہئے

اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر
منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہئے

سوچنا یہ ہے کہ اس کی جستجو ہونے تلک
ساتھ اپنے خود رہیں ہم یا زمانا چاہئے

تیری میری داستاں اتنی ضروری تو نہیں
دنیا کو کہنے کی خاطر بس فسانا چاہئے

پھول کی پتی پہ لکھوں نظم جیسی اک دعا
ہاتھ اٹھانے کے لیے مجھ کو بہانا چاہئے

وصل کی کوئی نشانی ہجر کے باہم رہے
اب کے سادہ ہاتھ پر مہندی لگانا چاہئے

پھول خوشبو رنگ جگنو روشنی کے واسطے
گھر کی دیواروں میں اک روزن بنانا چاہئے

شام کو واپس پلٹتے طائروں کو دیکھ کر
سوچتی ہوں لوٹ کر اب گھر بھی جانا چاہئے

بشریٰ اعجاز

Leave a reply