ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کا سیلاب آنے والا ہے :بندرگاہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس کی امید

اسلام آباد: ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کا سیلاب آنے والا ہے :بندرگاہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس کی امید،اطلاعات کےمطابق بجٹ 2020-21 میں گاڑیوں کو تجارتی درآمد کی اجازت دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کاروں نے کراچی بندرگاہ پر موجود طریقہ کار کی خلاف ورزی پر درآمد شدہ 7 ہزار سے زائد گاڑیوں کی کلیئرنس کا مطالبہ کردیا۔

رپورٹ کے مطابق آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ڈی اے) کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ان گاڑیوں کی کلیئرنس پر غور کرنا چاہیے تاکہ ’تارکین وطن پاکستانی کی مدد ہوسکے‘۔بجٹ پیشکش میں اے پی ایم ڈٰی اے نے کہا کہ حکومت کو 660 سی سی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینی چاہیے جو کم لاگت کی ہوتی ہیں اور اس میں ایندھن لا بھی کم استعمال ہوتا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو بھیجے گئے خط میں ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس آر او 52 کے نفاذ کو فوری طور پر روکا جائے اور گفٹ اسکیم کے تحت درآمدی کاروں کی منظوری کے لیے سابقہ طریقہ کار کو بحال کیا جائے۔

وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کو بھیجے گئے ایک اور خط کے ذریعے ایسوسی ایشن نے مقامی ڈیلروں کو استعمال کیا جانے والی گاڑیوں کی تجارتی درآمد کے لیے مقامی جمع ہونے والوں کو اس طرز پر اجازت دینے کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے مطالبات نئی پالیسی مرتب کرنے کے نہیں بلکہ موجودہ پالیسی میں تبدیلی لانا ہیں‘۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.