عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

پنجاب حکومت کی کارکردگی صفر بٹا صفر ۔۔۔

سردار عثمان بزدار نے پولیٹیکل سائنس مں ایم اے کا ہوا ہے۔عثمان بزدار 2002 سے 2008 تک مسلم لگ۔ ق۔ مشرف دور مں تونسہ کے تحصل ناظم ۔ دوہزار ترہ میں مسلم لگا ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا . مگرپیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہار گئے۔پھر 2018 میں عثمان بزدار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا حصہ بن گئے۔گزشتہ جنرل الیکشن میں عثمان بزدارتونسہ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پہلی ہی باری میں صوبے کے سب سے بڑے عہدے کے لیے نامزد ہو گئے۔

مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کیا تھے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ انھں عمران خان نے وزیراعلیٰ کیوں بنایا یہ بات اور بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بننا جہانگیر ترین نے تھا وہ نااہل ہوئے تو انھوں نے اپنا بندہ بنوا لیا۔ کوئی کہتا ہے کہ پرچی نکالی گئی ہے۔کسی کا اندازہ ہے کہ کسی دعا یا استخارے کے نتیجے میں یہ وزیر اعلی بنے۔ مگراس بات کو تو عقل ماننے کو تیار نہیں کہ عثمان بزدار کو پسماندہ علاقے سے تعلق ہونے کی بنا پر وزیر اعلی بنایا گیا۔چلیں وجہ جو بھی ہو۔اگر ان کے9 سے 10 ماہ کی کارکردگی کا موزانہ سابق وزراء اعلی سے کیا جائے تو بزدارکا دور شایدپنجاب کی تاریخ کا سب سے خراب اوربدترین دور ہے۔اس میں کسی کوکوئی شک و شبہ نہیں کہ عثمان بزدار نالائق اور نااہل ہیں ۔ بظاہر تو عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے کے سربراہ ہیں ۔مگر ایسی طاقت کا کیا فائدہ جب آپکو استعمال کرنی ہی نہ آتی ہو۔شاید اگلے چا ر سالوں تک عثمان بزدار اپنے اختیارات کو استعمال کر نا سیکھ جائیں مگر تب تک پنجاب کا بٹھہ ضرور بیٹھا جائیں گے۔کیونکہ کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں جووہ اپنے حلقے کے عوام کے لیے اب تک کر سکے ہوں تو پورے پنجاب کے لیے انھوں نے کیا کرنا ہے۔پنجاب کے سیاسی کلچر میں کمزور اور مسکین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لوگ طاقتور اور مضبوط حکمران چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

سونے پر سہاگہ کہ عثمان بزدار نے اپنے دفاع کے لیے ترجمانوں کا پورا دستہ تیار کر لیا ہے . یعنی 38 ترجمان مقرر کر لے ہیں. اتنے پنجاب میں ڈسٹرکٹ نہیں ہیں۔ان ترجمانوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔وہ اس لیے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی ہی صفر بٹاصفر ہے۔ صاف بات ہے پنجاب کو ایسے نہیں چلایا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے خود بھی شعوری طور پر انکو قبول نہیں کیا ہے ایک جانب تو ان کو وزیر اعلی پنجاب لگا دیا دوسری جانب پارٹی کے ورکر اور لیڈر خود ان کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔پنجاب کوئی بلوچستان نہیں، پنجاب کوئی کے پی نہیں۔ یہ کوئی چھوٹا صوبہ نہں بلکہ ساٹھ فیصد پاکستان ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے موثر اور بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کمزور وزیر اعلیٰ کیسے کامیا ب ہو سکتاہے۔

عثمان بزدار کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ جتنا باہر کاٹتا ہے اتنا ہی اندر کاٹتا ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مخالفین کو جائز و ناجائز گندا کرنے کے لیے میڈیا کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ان کی باری ہے۔
ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ ہو۔ سانحہ ساہوہال ہو۔ ہیلی کوپٹر کا استعمال ہو۔ وزیر اعلی پنجاب کے پروٹوکول کا معاملہ ہو۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلیاں ہوں۔ شہروں مں کوڑاکرکٹ کے ڈھیر ہوں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ہو۔ ساہیوال ہسپتال مں اے سی نہ چلنے سے بچوں کی اموات ہوں۔ اربوں کی سبسڈی کے باوجودرمضان بازار فلاپ ہوں۔اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو۔ بیوروکریسی میں تقرر وتبادلے ہوں۔مارکیٹ پرائس کمیٹیاں ہوں۔عثمان بزدار کے اپنے حلقے تونسہ میں بغرر بورڈ اور متعلقہ افراد کی منظوری کے 102 افراد میں 1 کروڑ 6 لاکھ روپوں کی تقسیم ہو۔لیہ گرلز کالجز کی طالبات کو دوردراز علاقوں سے لانے والی بسوں کو ڈی جی خان شفٹ کرنے کا معاملہ ہو۔ ہر امتحان مں پنجاب حکومت فیل ہی ہوئی ہے اور اس سب کی ذمہ داری صرف اور صرف عثمان بزدارکی ہے۔

مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

عثمان بزدار کا موازنہ اچھا یا برا شہباز شریف سے ہی کیا جائے گا۔ اوراب تک کارکردگی میں شہباز شریف عثمان بزدار سے لاکھ درجے بہتر ہی تھے۔پنجاب میں اگر کوئی تحریک انصاف کو کمزور کر رہا ہے تو وہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہی ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد عثمان بزدار عمران خان کے نمبر ٹو ہیں۔وہ عمران خان کے بعد سب سے اہم ہیں۔ شاہ محمود، جہانگیر ترین، علیم خان، اسد عمر اب اتنے اہم نہیں جتنے سردار عثمان بزدار اہم ہیں۔وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ بزدار کے بارے میں بار بار فرماتے ہیں. وہ شہباز شریف کی طرح لوٹ مار نہیں کرے گا۔یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مگر ممکن ہے عثمان بزدار کی نااہلی سے پنجاب کو مالی طورپر نقصان شہباز شریف کی لوٹ مار سے زیادہ ہو جائے۔

مزید پڑھئے: رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

عوام کو عثمان بزدار نے دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔کوئی اصلاحات نہیں ہوئیں . نہ ہی کوئی کا م ہوا ہے پہلے کی طرح بدحالی عوام کا مقدر دیکھائی دے رہی ہے۔ ویسے ہی لوگ سٹرکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ بے روزگاری۔مہنگائی اور فاقوں مں اضافہ ہورہا ہے۔ ویسے ہی جاگر داری اور طاقت کا نظام قائم ودائم ہے۔پہلے سے بھی زیادہ صرف میڈیا اور ٹویٹر پر جعلی کارکردگی جاری وساری ہے۔ عملی کام صفر ہیں۔پہلے کی طرح ہی ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ پہلے ہی کی طرح صرف سب اچھا ہے کی رپورٹ ہے۔ یہ ہے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی.

اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.com

ٹویٹر پر فالو کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.