fbpx

استاد اور اس کی شفقت تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

میرا نام وسیم ریاض ہے میرا تعلق جھنگ  شہر سے ہے میں جھنگ میں اپنا ایک کلینک چلاتا ہوں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ میں اس مقام تک کیسے پہنچا اس مقام تک پہنچنے کے لیے استاذہ کرام اور میرے والدین کا کیا کردار تھا میں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے قریبی سکول تور ہائی سکول سے حاصل کی چوتھی کلاس تک تو بہت مزے سے زندگی گزر رہی تھی لیکن جیسے ہی پانچویں کلاس میں آئے تو سب بچوں کے منہ پر تھا کہ ہمارے نئے انچارج آئے ہیں جو کہ بہت ظالم ہے اور بہت مارتے ہیں لیکن میں اس بات کو مذاق سمجھتا رہا چند دن کلاس میں گزرے تو ایک روز میں سکول میں کام کرکے نہ گیا تو سر نے میرے ہاتھ پر دو ڈنڈے مارے زور سے جس کی مجھے بہت تکلیف ہوئی اس کے بعد میں سر کے ڈر سے ہمیشہ کام کرکے جاتا تھا ایک مرتبہ سر میں میتھ کا ٹیسٹ دیا وہ ہم سب تیار کرکے آئے اس ٹیسٹ میں میرے 40 میں سے 35 نمبر آئے  لیکن اس کے باوجود بھی سر نے مجھے پانچ ڈنڈے مارے تاکہ مجھے یہ یاد رہے تمہیں پانچ نمبر کیوں کاٹے اور میں آگے اس کی پانچ نمبروں کی بھی تیاری کرو تاکہ آنے والے امتحانوں میں میں پورے نمبر لے سکوں اس وقت بے شک یہ ایک ظلم لگتا تھا اردو ایسے لگتا تھا کہ میں کسی قید خانے میں آگیا ہوں صبح اسکول جانے کا دل نہیں کرتا تھا اور رات کو کام یاد کیے بغیر نیند نہیں آتی تھی یہ خوف اور یہ پڑھائی اس کا یہ صلاح ملا کے  پانچویں میں میرے 85% نمبر آئے جب میں نے اپنے نمبر دیکھیں تو مجھے وہ سب مارے ہیں وہ سب ظلم بھول گئے اور مجھے ایسے لگ نے اور مجھے ایسے لگ گیا کہ یہ سر نہیں یہ ایک فرشتہ ہے کہ انہوں نے مجھ جیسے ایک نالائق بچے کو بھی اس قابل بنا دیا کہ وہ اچھے نمبر حاصل کرسکتا ہے تھوڑی سی محنت اور توجہ سے لگن کے ساتھ ایسے ہی سلسلہ چلتا رہا اور میں اپنی تعلیم جاری رکھتا رہا اور بہت سے استادوں کی شفقت حاصل کرتا رہا آج اگر میں ڈاکٹر ہوں تو صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی محنت کی وجہ سے اگر وہ محنت نہ کرتے تو شاید میں آج اس مقام پر نہ ہوتا۔ آج اس بات کا فرق پتہ چلتا ہے کہ جن استادوں نے ہم پر محنت نہیں کی انہوں نے ہم پر کتنا ظلم کیا حقیقت میں۔ آج میں ڈاکٹر ہوں اپنے شہر میں ایک نام ہے ایک مقام ہے یہ صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے مجھ پر اتنی محنت کی مجھے پڑھایا تاکہ میں قابل انسان بن سکوں اور معاشرے کے لئے بہتری کا سبب بن سکوں کیونکہ بہترین انسان وہی ہے جس سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچے۔ بچپن میں ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے جو مارتے بھی نہیں تھے اور پڑھاتے بھی نہیں تھے گھر کے کام کرواتے تھے تو ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے دل کرتا تھا کے ساری زندگی ان استادوں کے پاس پڑھیں۔ لیکن حقیقت میں وہ ہماری زندگی تباہ کر رہے ہوتے تھے یہ بات اب سمجھ آتی ہے جب ہم کسی مقام پر پہنچے ہیں کا میری آپ سب لوگوں سے اپیل ہے اپنے بچوں کے لئے اچھا سوچیں اور اچھے سکول کا انتخاب کریں تاکہ وہ استاد کی شفقت سے محروم نہ رہے اور ان کو اصل معنی میں محنتی استاد ملے تاکہ وہ آپ کے بچوں پر محنت کرے اس تاکہ آپ کے بچے کا کوئی قابل انسان بن سکیں میرے آپ سب والدین  سے درخواست ہے کہ جب بچہ آپ کو آکر کہے کہ آج مجھے استاذہ کرام نے مارا ہے تو ان کو آگے سے جھڑکے اور کہیں کہ آپ سکول کا کام کر کے جاتے تو استاذہ کرام آپ کو نہ مارتے کیونکہ جب تک آپ بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے اس معاملے میں کہ آپ کو استاذہ  کرام نے کیوں مارا تب تک آپ کا بچہ نہیں پڑھے گا اور استاد بھی اصل معنی میں آپ کے بچے پر محنت نہیں کر سکیں گے اور جب کل کو آپ کا بچہ اچھے مقام پر نہیں پہنچ سکے گا تو آپ کو اس بات کا پچھتاوا ہو گا
Twitter: @WaseemjuttMalik