fbpx

عزیر بلوچ عدالت میں ایک بار پھر اقبالی بیان سے منحرف

لیاری گینگ وار کا سرغنہ عزیر بلوچ کمرہ عدالت میں ایک بار پھر اقبالی بیان سے منحرف ہوگیا اور کہا میں نے کبھی اقبالی بیان نہیں دیا ، مجسٹریٹ کو عدالت میں بلایا کر پوچھا جائے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں لیاری میں پولیس پرحملے ،قتل سمیت دیگرکیسز سماعت ہوئی ، دوران سماعت گینگسٹر عزیربلوچ کمرہ عدالت میں ایک بار پھر اقبالی بیان سے منحرف ہوگیا۔

عزیربلوچ نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نے کبھی اقبالی بیان نہیں دیا ،جوڈیشل مجسٹریٹ عمران زیدی کوکئی ماہ سے بلایا جارہا ہے پیش نہیں ہورہے، مجسٹریٹ کو عدالت میں بلایا جائے اور پوچھا جائے اقبالی بیان دیا تھا یا نہیں، مجھے یقین ہے مجسٹریٹ جھوٹ نہیں بولیں گے۔

یاد رہے جوڈیشل کمپلکس میں جمع کرائے گئے اقبالی بیان میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ نے اہم انکشافات کیےتھے اور عدالت نے اس اقبالی بیان کو کیس کا حصہ بنا دیا تھا۔

اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس افسران یوسف بلوچ، جاوید بلوچ اور چاند نیازی کی مدد سے اس نے لیاری گینگ وار کے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا.

ان تینوں کے سر تن سے جدا کر کے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا، اس کے بعد دہشت پھیلانے کے لیے لاشوں کی ویڈیو بنا کر پورے ملک میں پھیلا دی۔

جوڈیشل کمپلیکس میں جمع کرائے گئے 164 کے اقبالی بیان میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے سابق صدر آصف زرداری، اویس مظفر ٹپی، شرجیل میمن اور قادر پٹیل و دیگر کے بھی راز کھولے تھے۔

رینجرز اہل کاروں کے قتل کیس میں جمع اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے ایرانی خفیہ ایجنسی کو پاکستان کی حساس معلومات دینے کا بھی اعتراف کیا جبکہ اقبالی بیان کے آخری حصے میں عزیر نے کہا کہ ایران کو کراچی کے حساس اداروں کے اعلیٰ افسران کے نام اور رہائش گاہوں کی معلومات بھی دی۔