fbpx

ازبکستان لیفٹیننٹ جنرل وکٹرمخمودوف کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات

اسلام آباد: ازبکستان لیفٹیننٹ جنرل وکٹرمخمودوف کی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے، ازبکستان کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری لیفٹیننٹ جنرل وکٹر مخمودوف نے وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے

وزیر خارجہ نے معزز مہمان کو پاکستان تشریف آوری پر خوش آمدید کہا

ذرائع کے مطابق دوران ملاقات دو طرفہ تعلقات ،دفاعی و عسکری تعاون، افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا

مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ازبگ مہمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ازبکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے،

مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس ملاقات میں مزید کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات یکساں مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی اقدار کی بنیاد پر برادرانہ تعلقات استوار ہیں،

مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان، ازبکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو اسٹریٹیجک شراکت داری میں بدلنے کا خواہشمند ہے،

مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 16/17 جولائی 2021 کو وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ء تاشقند اور ازبک صدر شوکت مرزاایوف کیساتھ ہونے والی ملاقات سے، دو طرفہ تعلقات مزید وسعت پذیر ہوئے، پاکستان، "وژن وسط ایشیا "پالیسی کے تحت، ازبکستان سمیت وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کیلئے کوشاں ہے،

مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ سکیورٹی کمیشن کے قیام سے متعلق معاہدہ، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

مخدوم شاہ محمود قریشی کا ازبک مہمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس معاہدے سے دہشت گردی کی روک تھام ، منشیات کی سمگلنگ کو روکنے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تعاون کے حصول میں مدد ملے گی،

مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزیدکہاکہ تہران میں افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کے دوسرے وزاراتی اجلاس کے موقع پر میری ازبک وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات انتہائی سود مند رہی، افغانستان کے حوالے سے پاکستان اور ازبکستان نے افغانستان کے نقطہ نظر میں مماثلت ہے، افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری، افغان عوام کی مدد کرے،

مخدوم شاہ محمود قریشی نے ازبک جنرل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، اپنی توجہ، جغرافیائی اقتصادی ترجیحات پر مرکوز کیے ہوئے ہے،

مخدوم شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن سے وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی و اقتصادی روابط کو فروغ ملے گا،افغانستان کے قریبی ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان اور ازبکستان،یکساں طور پر افغانستان میں قیام امن کے خواہاں ہیں،

دونوں وزرائے خارجہ کا پاکستان اور ازبکستان کے مابین ،پہلے سے موجود دفاعی اور عسکری تعاون کے معاہدوں کو فعال بنانے کے عزم کا اظہار کا اظہار کیا