fbpx

ویلنٹائن حرام محبت کا موجب از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

ویلنٹائن ۔۔۔۔۔۔۔حرام محبت کا موجب
از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

. . پوری قوم. ۔۔۔۔۔۔۔ بالخصوص نوجوان لڑکے اور لڑکیاں loveکے جذبے سے سرشار…… بازاروں …..سڑکوں…… چوراہوں پر نکلے ہوئے ہیں……..”ایک ہلچل مچی ہے سارے بازار”
ہر چیز سرخ رنگ میں نہائی ہوئی ہے. سرخ بار……. سرخ پھول۔۔۔۔۔ سرخ لباس
میں محبتوں کے د عوے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی جارہی ہیں۔ آج کے دن سب وعدے وفا کرنے ہیں

جی ہاں !
یہ اہتمام یلنٹائن ڈے کے موقع پر ہورہا ہے۔
گویا کہ یہ کوئی مذہبی اور دینی فریضہ ہے۔
حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہمارے مذ ہب میں ایک دن کی محبت اور وہ بھی نا جائز ذرائع سے حاصل کی گئ محبت کی کوئی گنجائش نہیں ۔
غیروں کے پیچھے لگ کر اوچھی حرکتیں کرنا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتیں غیر مسلموں کو وہ محبتیں کرنی ہیں جنہیں ان کا مذہب اجازت دیتا ہے اور ہم نے وہ محبتیں بانٹنی ہیں جن کا حکم ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے

ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ُ

کرسمس کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ یہ تہوار منایا جاتا ہے اسے محبت کرنے والوں کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے۔
میڈیا کی بہت زیادہ تشہیر کے سبب پاکستان میں بھی اس کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔
یہ دن ایک عیسائی پادری کی ناکام محبت کی یاد میں منایا جاتا ہے
جس کا نام سینٹ ویلنٹائن تھا ا سے کسی جرم کی بنا پر قید کردیا گیا اور قید کے دوران اس کی ملاقات حاکم وقت ‘کلوڈیس’ کی بیٹی” جولیا "سے ہوئی وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔
‘ جولیا ‘روز ایک گلاب کا سرخ پھول لے کر اس کے پاس آتی جب اس کی خبر کلوڈیا کو ہوئی تو اس نے ویلنٹائن کو 14 فروری کو سرعام پھانسی دے دی ۔
اس نے پھانسی دیے جانے سے قبل جولیا کے نام خط لکھا جس کے الفاظ پہ تھے
From your valentine
اس وجہ سے یہ دن ۔۔۔۔۔۔۔۔ویلنٹائن ڈے کے نام سے مشہور ہو گیا ۔
جسے بارہویں صدی میں فروغ ملا۔
کافروں عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ ان کے نزدیک بدکاری و بے حیائی کا تصور کچھ خاص حیثیت نہیں رکھتا انہوں نے نعوذ باللہ حضرت مریم جن کو یہ اپنا خدا مانتے ہیں یوسف نامی آدمی کے ساتھ بدکاری میں ملوث کردیا تھا ۔
( نعوذباللہ)
بات تو مسلمانوں کے غور و فکر کی ہے کہ یہ کس مقصد کے تحت اس کو مناتے ہیں ؟؟؟ جبکہ ہمارا قرأن غیر مرد اور عورت کا أپس میں ناجائز تعلق رکھنے والے کو ۔۔۔۔۔۔ 100کوڑوں۔۔۔۔۔ ملک بدری اور رجم ( پتھر مار مار کر ہلاک کر دینا) کی سزا سناتا ہے
دیکھنے والے چاہے اس امر کو ظلم ۔۔۔۔۔زیادتی ۔۔۔۔۔یا دہشت گردی کا نام دیں لیکن اسلام کی نظر میں یہ پر حکمت ہے۔ بدکاری کرنے والے مرد اور عورت کو اگر سرعام سنگسار کر دیا جائے تو دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ ہزاروں لوگ ڈر کے مارے ہی اس فعل قبیح سے باز آ جائیں اور معاشرہ زناکاری و بدکاری حرام محبت سے پاک ہو جائے
اور بنت حوا کی عزت لٹنے کی بجاۓ محفوظ ہو جائیں۔ کیونکہ اسلام ہمیں ایک پاکباز ماحول اور پاکیزہ معاشرہ دینا چاہتا ہے اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کی پاسداری ہمارے معاشرے کو دوسرے مذاہب میں ممتاز کرتی ہے ۔ کیونکہ جتنا زور ہمارے مذہب نے اس پر دیا کسی اور مذہب نے نہیں دیا
ویلنٹائن ڈے حرام محبت کو فروغ دیتی ہے۔
محبت کرنے کے دو طریقے ہیں حلال یا حرام
ہمارے پاس حلال محبت کے وسیع ذرائع ہیں جیسا کہ
اللہ سے محبت
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
والدین سے محبت
بہن بھائیوں سے
دوست احباب سے
رشتے داروں سے
اچھے تعلقات استوار کرنا
اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا
والدین کی اطاعت و فرمانبرداری
ان محبتوں میں سے کس کس کی پاسداری کی جاتی ہے؟ ؟؟کس کی اطاعت کی جاتی ہے؟ ؟؟
سارا دن گھر میں لڑائی جھگڑا کرنے ۔۔۔۔۔۔ بدتمیزی سے پیش آنے والا ۔۔۔۔۔۔۔ اور بے حس انسان ۔۔۔۔۔۔ پھولوں کا گلدستہ لے کر گلی کے چوراہے پر کھڑا ہو جاتا ہے اور کسی انجان حسینہ کے سامنے دنیا کا نمبر ون شریف النفس بن کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔
ہزاروں جائز محبتوں کو ایک حرام محبت کی خاطر میں پشت ڈال دیتا ہے ۔
ایک حرام محبت کی خاطر ساری دنیا سے لڑائی مول لے لیتا ہے ۔
انسان کی فطرت ہے کہ وہ ممنوع اشیاء کی طرف دوڑ کر جاتا ہے بابا آدم اور اماں حوا کو اللہ تعالی نے جنت کی رنگینی عطا کی تھی ۔
ہم جنت کا تصور کریں تو دل خوش ہو جاتا ہے جب کہ آدم علیہ السلام نے قریب سے جنت کو دیکھا اور انہیں کھلی اجازت دی گئی کہ” کلو واشربو ھنیا مریا”
اور ایک چیز کے قریب جانے پر پابندی لگا دی
لیکن ہمارے مائی باپ سے رہا نہ گیا اور وہ ہزاروں حلال نعمتوں کو ایک طرف کرکے شجر ممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے نتیجتا جنت سے خارج کر دیے گئے اس واقعے سے بنی نوع انسان کو یہ پیغام دینا مقصود تھا اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء رب کائنات کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے اور جو ان سے اپنا آپ بچا لیتا ہے وہ اللہ کے ہا ں سرخرو ہو جاتا ہے اور اللہ پاک اس کو مزید رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا ہے ۔
انسان خطا کا پتلا ہے ۔
اسی لئے آدم اور حوا علیہماالسلام انجانے میں غلطی کر بیٹھے حقیقتاً تو وہ معصوم عن الخطاء تھے ۔
لیکن ہم میں سے اکثر جان بوجھ کر گناہ کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں بالکل اسی طرح سب جانتے ہیں کہ شادی سے پہلے کا love یا عشق گناہ ہے اصل محبت تو شادی کے بعد شروع ہوتی ہے جسے نبھانا ہمارے معاشرے میں "جوئے شیر لانے ” کے مترادف بن چکا ہے ۔
خدارا !
اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا لیجئے ۔۔۔۔۔ اپنے رب سے محبت کیجئے۔۔۔۔۔۔ جس نے آپ کو اشرف المخلوقات بنایا۔۔۔۔۔۔۔ حقیقی رشتوں کو پہچانیئے ۔۔۔۔۔۔۔ان کا خیال کیجئے۔۔۔۔ُ ان سے محبت کیجئے۔۔۔۔۔۔ اپنے جیون ساتھی سے مودت کا رشتہ قائم کر یں۔۔۔۔۔۔۔ ادھر ادھر منہ مارنے کی بجائے غیر قوموں کی تقلید میں اپنے حقیقی اور خونی رشتوں کو اگنور مت کر یں ۔۔۔۔۔
أپ انہیں محبت دیں گے تو وہ بھی آپ کا خیال رکھیں گے اس طرح خاندان تو کیا پورا معاشرہ امن و سلامتی اور پیار و محبت کا گہوارہ بن جائے گا یاد رکھیے یوم محبت ایک دن پر محیط نہیں بلکہ پوری زندگی پر محیط ہے جس سے ہمیں ہر روز منانا ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.