fbpx

وڈیو مافیاز تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

@lalbukhari

ویسے تو وطن عزیز ہر قسم کے مافیاز کے نرغے میں ہےہی،

مگر اب کچھ عرصہ سے ایک نیا مافیاز سر اُٹھا رہا ہے۔

یہ مافیاز اپنے مخالفین اور اپنے ساتھیوں کی قابل اعتراض وڈیوزبنا کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور پھر بوقت ضرورت اسے استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔

اس گندے مگر دھندے میں تازہ ترین بھونچال مسلم لیگی راہنما محمد زبیر کی وڈیو کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے،

جس کے آفٹر شاکس ابھی تک جاری ہیں۔

وڈیو کس نے جاری کروائیں؟

وڈیوز جاری کروانے کے پیچھے مقاصد کیا تھے؟

ان سوالات کا ابھی تک جواب آنا باقی ہے۔

وڈیو آنے کے فورا” بعد سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں ۔

کچھ لوگوں نے مبینہ طور پراسے مریم اور اسکی ٹیم کی کارستانی گردانا اور کچھ نے الزام ایجنسیوں پر لگانے کی کوشش کی۔

مگر ایک بات جو فوری طور پر زہن میں آتی ہے،

وہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں وڈیو زہن میں آتے ہی جو نام سب سے پہلے زہن میں آتا ہے،

وہ مریم صفدر کا ہی ہے۔

وجہ یہ ہے کہ مریم صفدر ببانگ دہل اس دھندے میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکی ہیں۔

جج ارشد ملک مرحوم کی قابل اعتراض وڈیوز جاری کرنے کا اعزاز بھی محترمہ کو ہی حاصل ہے۔

اس جج کو بلیک میل کر کے اپنی مرضی کے فیصلے بھی لئے اور بعدازاں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے اسکی وڈیوز بھی جاری کر دیں۔

اس خاندان کی ججوں کو بلیک میل کر کے اور زاتی مفادات پہنچا کرمرضی کے فیصلے کروانے کی بہت پرانی تاریخ ہے۔

ملک قیوم جیسے ججوں کے نام پر دھبہ افراد کے زریعے بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف کرواے گئے فیصلے کون بھول سکتا ہے؟

مرحوم جج ارشد ملک کی وڈیوز کی ریلیز کے تاریخی موقع پر مریم صفدر نے ایک اور تاریخی اعلان بھی کیا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی ایسی وڈیوز موجود ہیں،

جو اس وقت جاری کی جائیں گی جب قائد محترم نواز شریف چاہیں گے۔

یہ چیز حیران کن تھی کہ ایک بیٹی اعلان کر رہی تھی کہ اسکے باپ کے پاس کچھ ایسی وڈیوز ہیں،

جن سے بوقت ضرورت مخالفین کو بلیک میل کرنے کا کام لیا جاۓ گا۔

محمد زبیر کی وڈیوز کس نے جاری کیں،

ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا۔

کراچی میں کچھ وکلا نے محمد زبیر کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست دیتےہوۓ قانونی کاروائ کا مطالبہ کیا ہے۔

دیکھتے ہیں کہ اس درخواست کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟

محمد زبیر والی وڈیوز کی دوطرح کی انکوائری بہت ضروری ہے،

تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

ایک تو یہ پتہ چلایا جاۓ کہ محمد زبیر یہ کبیع فعل کس کے ساتھ اور کیوں کر رہا تھا؟

کہیں وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کر کے کسی کا مجبوری کا فائدہ تو نہیں اُٹھا رہا تھا؟

کیونکہ ان میں سے کچھ وڈیوز اس دور کی ہیں،

جب زبیر بطور گورنر سندھ کام کر رہا تھا۔

دوسری یہ چیز دیکھنی چاہیے کہ یہ وڈیوز کس نے جاری کیں اور اس کے پیچھے مقاصد کیاہیں؟

غریدہ فاروقی،اقرار الحسن اور منصور جیسے کئی لبرلز صحافیوں کے نزدیک ،

کہ اگر یہ گھناونا فعل باہم رضامندی سے ہوا تویہ زبیر کا نجی معاملہ ہے،

لہذااس پر کاروائ کی ضرورت نہیں۔انکے مطابق صرف وڈیو جاری کرنے والے کو سامنے لانے کے لئے قانونی کاروائ کی ضرورت ہے۔

یہ تھیوری اور سوچ بلکل غلط ہے،

ہم جس معاشرے میں رہتےہیں،

وہاں اس قسم کے گھٹیا کاموں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

زبیر کی وڈیو میں نظر آنے والا شرمناک کام نہ تو قانونی طور پر جائز قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر،

ہمارہ معاشرہ پہلے ہی ان لبرلز کی وجہ سے تباہی کی طرف گامزن ہے۔

یہ گھٹیا لوگ ایسے گھٹیا کاموں کے درست ہونے کا بھی جواز دینے لگے ہیں،

جو ہماری سوسائٹی کی لیے تباہی کا باعث ہے،

یہ رویہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

یہ کام ہر طرح سے شرمندگی کا باعث ہے،

خاص طور پر جب اسے کرنے والا ایک پبلک سرونٹ یا اہم سیاسی و سرکاری شخصیت ہو۔

لبرلز کا بس چلے تو ہمیں یورپ میں پائ جانے والی بے ہودگی اور عریانیت کا حصہ بنا دیں،

مگر اس ملک کے غیور عوام جو اپنی ملکی اور اسلامی اقدار کی اہمیت سمجھتے ہیں،

وہ ایسا ہر گز ہونے نہیں دیں گے۔

ہمیں وہ مادر پدرآزادی نہیں چاہیے۔

جس سے ہم اپنے کلچراور اپنے آفاقی مذہب سے خدانخواستہ دور ہوتے جائیں۔

ہمارے معاشرے میں بگاڑ کے لئے بہت سے مافیاز سرگرم ہیں۔

آجکل نشر کئے جانے والے ڈرامے ہی دیکھ لیں۔

ان ڈراموں میں موضوعات اور ڈائیلاگ و سین اتنے تھرڈ کلاس اور قابل اعتراض ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

ان ڈراموں کو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا تک نہیں جا سکتا۔

ان ڈراموں سے نوجوان نسل کو کھلم کھلا غلط پیغام دیا جارہا ہے،

مستقبل کے معماروں کو مذہبی درخشندہ روایات کا باغی بنایا جا رہا ہے۔

گھٹیا ڈراموں کےاس مکروہ دھندے ہر حکومتی خاموشی بھی ناقابل فہم ہے۔

اس میں کوئ شک نہیں کہ ہر طرف مافیاز کی بھرمار سے حکومت بھی انڈر پریشر رہتی ہے،

ایک مافیا پر ہاتھ ڈالا جاۓ تو کئی دوسرے مافیاز اسکی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں۔

مگر حکومت اور قانون کے ہاتھ ان مافیاز سے لمبے ہوتے ہیں۔

ان مافیاز کے خلاف کاروائ ضرور ہونی چاہیے تاکہ انہیں اپنی حدود اور قیود کا پتہ ہو۔

کئی دفعہ یہ فیصلہ کرنا مُشکل ہو جاتا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور تفاوت پیدا کرنے میں زیادہ کردار یہ منفی ڈرامے ادا کر رہے ہیں یا غریدہ جیسے نام نہاد اینکرز ،

جو باہم رضامندی سے ہونے والے زنا کو جائز سمجھتے ہیں۔

جیسا کہ محمد زبیر کی وڈیوز سامنے آتے ہی غریدہ نے اپنےٹویٹس میں کہا کہ وڈیو میں نظر آنے والا غلیظ کام اگر باہم رضامندی سے ہوا ہے تو بات دوسری ہے !

یہاں بات دوسری ہے 

سے مُراد غالبا” یہی ہے کہ مرضی سے کیا گیا گناہ ،

گُناہ نہیں رہتا اور یہ کہ اسے چلنے دیں ،بس یہ تحقیق کر لیں کہ وڈیوز کیسے جاری ہوئیں؟

ہمارے ملک میں صحافت کی بدنامی کا باعث بننے والے غریدہ جیسے ہی لوگ ہیں،

جو ن لیگ پر اگر کوئ مصیبت آۓ تو اینکری چھوڑ کر ترجمان کا روپ دھار لیتے ہیں۔

اور بات اگر پی ٹی آئ کی ہو تو انکا بغض ہر حال میں قائم رہتا ہے۔

ریحام خان کی لچر قسم کی کتاب اور عائشہ گلالئی کے عمران خان پربے بنیاد میسیجز الزامات پر ہفتوں ٹاک شوز ہوتے رہے۔

اب کہا جا رہا ہے کہ زبیر والے معاملے کی پروہ پوشی احسن اقدام ہوگا،

حالانکہ وڈیوز میں ہر چیز پوری طرح عیاں ہے۔

ان دوہرے معیارات نے ہمارے ملک کی صحافت کو رنڈی والا دھندا بنا دیا ہے۔

پیسے کے بغیر نہ تو خبر دی جاتی ہے اور نہ ہی تجزیہ

اور جب لفافہ مل جاۓ تو ایک خاص اینگل سے تبصرے کر کے حق لفافہ ادا کیا جاتا ہے۔

محمد زبیر کی وڈیوز آنے کے بعد اسکا اپنا موقف بھی سامنے آچکا ہے،

محمد زبیر کے مطابق یہ ایک پست زہنیت کی ڈاکٹرڈ ۔قسم کی فیک کاروائ ہے۔

ویسے بائ دا وے،انجینئرڈ کاروائ کا تو سنتے رہتے ہیں،

یہ ڈاکٹرڈ کاروائ کیا ہوتی ہے،؟

اسکے بارے میں تو کوئ اس کام کا ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے،

اور اس کام کا ڈاکٹر ،

مریم صفدر سے بڑااور سپیشلسٹ اور کون ہو سکتا ہے؟

جسکے پاس بقول اسکے اپنے،

وڈیوز کی پوری لائبریری ہے۔

محمد زبیر کو بھی ایک بار پھر اپنے قائد اور اپنے قائد کی بیٹی سے ہی رہنمائ لینا ہو گی،

کہ یہ ڈاکٹرڈ ،کاروائ کیسے ہوئ؟#

تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

@lalbukhari

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!