fbpx

بھارت میں صحافیوں پر تشدد، 256 قاتلانہ حملے:کشمیرمیں تواس سے بھی بُرا حال

نئی دہلی ÷ واشنگٹن: بھارت میں صحافیوں پر تشدد، 256 قاتلانہ حملے:کشمیرمیں تواس سے بھی بُرا حال ،اطلاعات کے مطابق امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں گزشتہ دو برسوں کے دوران صحافیوں پر تشدد کے 256 واقعات پیش آئے۔

پولیس پروجیکٹ نامی این جی اونے اپنی اس تحقیق میں مئی سن 2019 سے لے کر رواں برس اگست تک کے واقعات کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں 51، متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران 26، نئی دہلی میں فروری 2020 میں ہونے والے فسادات کے دوران 19 اور کووڈ کے کیسز کی کوریج کے دوران صحافیوں پر تشدد کے 46 واقعات پیش آئے۔

کسان تحریک کے دوران صحافیوں کے خلاف تشدد کے اب تک 10واقعات پیش آچکے ہیں جبکہ 104 واقعات ملک بھر میں دیگر موضوعات کی کوریج کرتے ہوئے پیش آئے۔ سن 2021 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈکس میں بھارت کو 180 ملکوں کی فہرست میں 142 ویں پوزیشن ہے۔

ادھر کشمیرمیں بھی گذشتہ برس پانچ اگست کے بھارتی فیصلے کے بعد کشمیری صحافت کو نہ صرف قتل کر دیا گیا بلکہ 300 سے زائد کشمیری صحافیوں اور رپورٹروں کو خاموش کر کے ان پر ایسی دہشت بٹھا دی گئی کہ وہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے میں اعصابی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔

درجنوں صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں‌

ایک رپورٹر کے بقول ’کشمیر حقیقت میں جہنم بن گیا ہے جہاں زندہ رہنا مشکل ہے، رپورٹ کرنا تو دور کی بات ہے۔‘

اخباروں اور رسالوں پر پانچ اگست سے پہلے ہی شب خون مارا گیا تھا جب چند اخبار مالکان کو تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے پوچھ گچھ کے لیے دہلی بلایا۔ اس کے فوراً بعد ان اخباروں کی خبروں کی شکل و صورت ہی بدل گئی۔ ہر خبر اور ہر مضمون دہلی حکومت کے اہلکاروں کی نظروں سے گزرنے کے بعد ہی اخبار میں شائع کرنا ضروری بن گیا، یہاں تک کہ تحریک آزادی یا اس سے منسلک قیادت کے بیانات اور خبریں سرے سے غائب کر دی گئیں۔

پانچ اگست کو جموں و کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے کے بعد گھروں سے باہر نکلنا محال بن گیا، اخبار چھاپنا یا خبر پہنچانا ہر صحافی کے لیے ایک خواب بن کے رہ گیا ہے۔

بھارت کے چند صحافیوں کو حکومت کی پسندیدہ رپورٹنگ کے لیے کشمیر بلایا گیا اور ان کو سیٹلائیٹ فون دستیاب کر دیے گئے تھے جبکہ ایک قومی چینل سے وابستہ کشمیری رپورٹر کو جو چند روز کے بعد کسی طرح زمینی صورت حال بتانے میں کامیاب ہوگیا تھا گھر بیٹھنے کا مشورہ دیا گیا۔

عالمی میڈیا سے وابستہ بعض صحافیوں نے تقریباً ایک ہفتے کے بعد سرکاری اہلکاروں سے فون کی سہولت مانگنے کی جرت کی تو ان کو ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کا حکم ملا۔ عالمی چینلوں کے شور اور ہنگامے کے بعد بعض رپورٹروں کو سرکاری دفاتر سے رپورٹ فائل کرنے کی اجازت مل گئی لیکن حالات کی صحیح عکاسی کرنے پر جیسے ایمرجنسی نافذ ہوگئی اور ہر رپورٹ کو سرکاری نظریں گھورتی رہیں۔

بیشتر رپورٹر دہلی چلے گئے جہاں سے وہ عالمی میڈیا کے لیے چند حقیقی رپورٹس بھیجنے میں کامیاب رہے جبکہ بعض صحافیوں نے سری نگر ائیرپورٹ سے پین ڈرایو میں رپورٹیں لوڈ کر کے مسافروں کے ہاتھ بھیجیں جس کا پتہ چلتے ہی ائیرپورٹ پر مسافروں کے فون کی جانچ شروع کردی جاتی ہے اوریوں اب تو پورے ہندوستان میں خفیہ ایجنیساں صحافیوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں اور ان کی زندگیاں اجیرن کردی گئی ہیں

لیکن عالمی ضمیر کو ابھی تک تالے لگے ہوئے ہیں ، عالمی ضمیر کو اس وقت دلی دکھ پہنچتا ہے جب پاکستان کے بائیں بازوکے صحافیوں پرمشکل آتی ہے تو عالمی ضمیر ہل کررہ جاتا ہے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!