صدارتی انتخابات کےبعدامریکہ میں تشدد پھوٹ پڑنےکا خدشہ،خانہ جنگی کا خظرہ

واشنگتن :صدارتی انتخابات کے بعد امریکہ میں تشدد پھوٹ پڑنے کا خدشہ،غیرمقامی شہری پریشان،اطلاعات کے مطابق امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کیلئے قبل از وقت شروع ہونے والی ووٹنگ میں اب تک 9 کروڑ سے زائد امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات کے بعد اختلافات اور تشدد پسندانہ اقدامات کا امکان زیادہ ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے بعد اختلافات اور تشدد پسندانہ اقدامات کی آگ بھڑکنے کا قوی امکان پایا جاتا ہے۔ اخبار کے مطابق اختلافاتات کا امکان اس لئے زیادہ ہے کہ ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انتخابات کے ختم ہو جانے کے کئی دن بعد تک بھی کامیاب امیدوار طے نہیں ہو پائے گا۔

اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اسلحہ کی خرید و فروخت میں اضافہ، سوشل میڈیا پر خانہ جنگی کی ترغیب دلانے والے انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی سرگرمیاں اور ملک کے دیگر رہنماؤں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت صدر ٹرمپ کا سخت لب ولہجہ اختیار کرنا یہ وہ مسائل ہیں جنہوں نے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے امکان کو زیادہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں 3 نومبر کو صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں موجودہ صدر ٹرمپ کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن سے ہے۔ امریکہ میں ہونے والے متعدد سروے رپورٹوں کے مطابق اعداد و شمار ٹرمپ کے مقابلے میں جوبائیڈن کی زیادہ مقبولیت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

امریکہ میں کورونا کے پیش نظر صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ کو قبل از وقت شروع کر دیا گیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق قبل از وقت شروع ہونے والی ووٹنگ میں اب تک نو کروڑ سے زائد امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں جو امریکی تاریخ میں ایک ریکارڈ سمجھا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.