fbpx

جان لیوا وائرس کی ایک اور قسم "کیلیفورنیا اسٹرین” پاکستان پہنچ گئی

مہلک وائرس کی ایک اور قسم پاکستان پہنچ گئی ہے جس کو “کیلیفورنیا اسٹرین” کا نام دیا گیا ہے۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ممکنہ طور پر 40 افراد کے نئے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے کووڈ ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق کوویڈ 19 کی ایک خطرناک قسم کا پتا لگایا گیا ہے جو کیلیفورنیا میں نمودار ہوئی اور برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک تک پھیل گئی تاہم اب پاکستان میں بھی اس کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے ڈیلٹا ویریئنٹ کو سب سے خطرناک قرار دیا

ڈاکٹر جاوید اکرم نے مزید کہا کہ اب تک ایپسیلون کی پانچ مختلف اقسام پائی گئی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ تمام ویکسینز اس نئے وائرس کے خلاف مؤثر ہیں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وائرس پر قابو پالیا گیا ہے لیکن ختم نہیں ہوا اس لیے اس کے دوبارہ پھیلاؤ کے امکانات ہیں۔

دوسری جانب وزارت قومی صحت (این ایچ ایس) اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ایک ویڈیو پیش کی جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ کووڈ 19 ویکسین کیسے کام کرتی ہے۔

اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کی کوویڈ 19 کے لیے ٹیکنیکل لیڈ جینیوا میں مقیم ڈاکٹر ماریہ وان کیر خوو نے آن لائن خطاب میں کہا تھا کہ کورونا وائرس کا نیا ویریئنٹ ’’میو‘‘ سامنے آنے کے باوجود ڈیلٹا ویریئنٹ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ڈیلٹا ویریئنٹ تمام ویریئنٹس سے زیادہ خطرناک ہے ڈ یلٹا ویریئنٹ اپنے سے پہلے کے ویریئنٹ کے مقابلہ میں دو گنا تیزی سے پھیلتا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ زیادہ لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے سائنس دان کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

کورونا ویکسین کے بوسٹر شاٹس نہ لگوائیں ڈبلیو ایچ او کی اپیل

عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے کورونا وائرس کی نئی قسم ’’میو‘‘ دریافت کی تھی جس کی شناخت پہلی بار جنوری 2021 میں جنوبی امریکا کے ملک کولمبیا میں ہوئی تھی جو کولمبیا میں موجودگی کے بعد یورپ اور دیگر جنوبی امریکی ممالک میں رپورٹ ہوا ہے جنوبی امریکا سے باہر اس قسم کے کیسز برطانیہ، یورپ، امریکا اور ہانگ کانگ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

اگرچہ عالمی سطح پر کووڈ کے مجموعی کیسز میں میو قسم کی شرح 0.1 فیصد سے بھی کم ہے مگر کولمبیا اور ایکواڈور میں یہ تیزی سے پھیل رہی ہے جہاں بالترتیب 39 اور 13 فیصد کیسز اس کا نتیجہ ہیں سائنسدانوں کی جانب سے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ نئی قسم زیادہ متعدی یا زیادہ خطرناک بیماری کا باعث تو نہیں بنتی۔

بھارتی کھلاڑی برطانیہ میں کورونا پھیلانے لگےمگرریڈ لسٹ سے پھر بھی باہر

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!