fbpx

پی ڈی ایم والو:اھلاوسھلاتشریف لائیں‌ مگرپاکستانیوں کانقصان نہ کرناورنہ یہ قوم معاف نہیں کرے گی:پرویزخٹک

اسلام آباد:پی ڈی ایم والو:اھلاوسھلاتشریف لائیں‌ مگرپاکستانیوں کانقصان نہ کرناورنہ یہ قوم معاف نہیں کرے گی:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ پی ڈ ی ایم 26مارچ کو اسلام اباد آرہےہیں‌، ہم ان کو خوش امدید کہے گے جمہوریت کے اندر ہر ایک جماعت کو جلسے جلوس کرنے کی اجازت ہے لیکن اپوزیشن کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ جلسے جلوس کی اڑ میں توڑ پھوڑ اورقیمتی زندگی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے اگر قانون توڑا گیا تو پھر قانون حرکت میں آئے گا

پرویزخٹک نے کہا کہ ہمیں پی ڈی ایم کے اتحاد کا کوئی خطرہ نہیں اپوزیشن لانگ مارچ کا شوق بھی پورا کریں اور سینٹ میں اپنا متفقہ امیدوار بھی سامنے لائیں سینٹ کے الیکشن ہوں گے جتنے ممبر ان اپوزیشن کے ہوں گے اتنی سیٹیں ہی یہ جتیں گے ہم نے اپنے حصے کی سیٹیں جیتنی ہے اور انہوں نے اپنے حصے کی سیٹیں جیتنی ہے سینٹ انتخابات میں یہ ہارس ٹریڈنگ ہوں گی اور نہ ہی ہم کرنے دیں گے

پرویزخٹک نے کہا کہ مجھے اس بات کو کوئی علم نہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ کونسے ادارے رابطے میں ہے پہلے تو یہ کہتے ہے کہ ہمارے ساتھ اداروں کا کوئی رابطہ نہیں پھر کہتے ہے کہ ہمارے ساتھ رابطہ کیا ہے پھر یہ خود اپنی بات سے مکر جاتے ہے پی ڈ ی ایم حواس باختہ ہوچکی ہے شام کو کچھ کہتی ہے اور صبح کچھ ان کے قول فعل میں تضاد ہے

وہ نوشہرہ مانکی شریف میں میں وکرز کنونشن سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر قومی اسمبلی میں مجلس قائمہ برائے توانائی وقدرتی وسائل کے چیر مین ڈاکٹر عمران خٹک ،پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی جنر ل سیکرٹری رضا سعید بابر ،اشفاق پراچہ ،وزیر اعلی کے مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ بھی موجود تھے

پرویز خان خٹک نے کہا کہ پر امن احتجاج سب کا حق ہے اور ائیں اپنا پرامن احتجاج کریں پی ڈی ایم ایک سال بھی اسلام اباد میں پرامن بیٹھے رہے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اپوزیشن اس خام خیالی سے باہر اجائیں کہ ان کے اسلام اباد لانگ مارچ حکومت ختم ہوجائیں حکومت کہیں نہیں جائیں گی اگر یہ مقابلہ کرنا چاہتے ہے کہ تو ان سے دس گناہ زائد لوگ ہم جمع کرکے ہم بھی جلسے کرسکتے ہے

پرویز خٹک نے کہا کہ پی ڈ ایم کے پاس احتجاج کا کوئی بنیادی نقطعہ نہیں اپوزیشن کا اکھٹا ہونا صرف اپنی چوری بچانے اور نیب میں اپنے کیسز ختم کرنے کے لیے ہے اگر کل عمران خان کہ دے اپوزیشن کے خلاف سارے کیسز ختم کردوں تو یہ سب عمران خان کے دوست بن جائیں گے اورپھر کچھ نہیں ہوں گا انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نہ عوام کی ہمدرد ہے اور نہ ہی عوام کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے

پرویز خٹک نے ایک سوال کہ پی ڈی ایم کی قیادت کیہ رہی ہے وزیرا عظم عمران خان کو لانے والی قوتیں ہمارے ساتھ رابطے میں ہے اور سینٹ کے انتخابات میں اوپن بیلٹ پر کرانے کی حمایت مانگ رہے ہے تو پرویز خٹک نے کہا کہ مجھے اس بات کو کوئی علم نہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ کونسے ادارے رابطے میں ہے پہلے تو یہ کہتے ہے کہ ہمارے ساتھ اداروں کا کوئی رابطہ نہیں پھر کہتے ہے کہ ہمارے ساتھ رابطہ کیا ہے پھر یہ خود اپنی بات سے مکر جاتے ہے پی ڈ ی ایم حواس باختہ ہوچکی ہے شام کو کچھ کہتی ہے اور صبح کچھ ان کے قول فعل میں تضاد ہے

انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ میں تحریک کے انصاف کی دس سیٹیں بنتی ہے جو ہم جیتے گے اسی طرح پنجاب میں گیارہ سیٹوں میں چھ سیٹیں ہماری ہے جو ہم جیتیں گے اسی طرح سندھ میں ہماری دوسیٹیں بنتی ہے جو ہم جیتے گے بلوچستان میں بھی دو سیٹیں ہماری بنتی ہے جو ہمارا حق ہے نہ ہم زیادہ سیٹیں جیتنا چاہتے ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے سیٹیں جیتنے دیں گے

پرویز خٹک نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتاہے پہلے اپوزیشن سینٹ انتخابات اوپن بلیٹ پر کرانے پر بہ ضد تھے کہ پتہ چلیں کہ کون کس کو ووٹ دے رہا ہے لیکن ابھی یہ اپنی بات سے مکر گئے ہے ووٹنگ جس طرح بھی ہوں دونوں طریقوں میں تحریک انصاف ہی جیتے گی جیتنے بھی جماعتیں میں پی ڈی ایم میں شامل ہے ان سب کی حکومتیں گزری ہے پھر یہ موقع دینے کی بات کرتے ہے تیس سال توان جماعتوں کو موقع ملا تیس سال میں ان لوگوں نے ملک کا ستیاناس کرکے کباڑہ نکال دیا

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے تیس سالوں میں ملکی کی معیشت کو تباہ کردیا جبکہ بجلی ،گیس سمیت پورا انفرا سٹرکچر تباہ کرکے رکھ دیا لیکن اس کے باوجود یہ پھر کہتے ہے ہمیں اورٹائم دوں اور اس ملک کو کتنا تباہ کرنا ہے انہوں نے کہا کہ جو حکومت عمران خان کو ملیں وہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی تھی ملک کا سارا نظام درہم برہم تھا پورا سسٹم خراب تھا نہ تھانوں میں انصاف تھا سکول کی حالت ابتر تھی اور ہسپتالوں میں صحت کی کوئی سہولیات نہ تھی ان جماعتوں نے تیس سالوں میں پاکستان کی یہ حالت کردی تھی

پرویزخٹک کہتے ہیں کہ اس کے بعد یہ لوگ کہتے ہے کہ ہمیں ٹائم دوں اور کیا پورے سوسال اور ان لوگوں کو چاہیے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اپنی پانچ سالہ ائینی مدت پوری کریں گے اور پانچ سال عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہے اور ان پانچ سالوں میں عوام کو تحریک انصاف کے پروگرامز کے ثمرا ت ملنا شروع ہوں گے اور ائندہ بھی عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے

پرویز خٹک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ،اسفندیار اورمیاں نواز شریف قوم کو بتائیں کہ انہوں نے اپنی حکومتوں میں عوام کو کیا دیا صرف تجوریاں بھری اب ان سے حساب لیا جارہا ہے تو وہ وایلا مچارہے ہے وہ جتنا بھی شور کریں وزیر اعظم عمران خان پر ان کا کوئی اثر نہیں ہونے والا وزیر اعظم نہ ان کو این ار او دیں گے ان سے پائی پائی کا حساب لیں مولانا فضل الرحمان بتائیں کہ انہوں نے اسلام کی کیا خدمت کی انہوں نے اسلام کے نام پر اسلام اباد کی سیاست کررہے اے این پی نے پختونوں کے نام پر جبکہ پی پی پی نے روٹی کپڑ اور مکان کے نام پر جبکہ مسلم لیگ ن نے قائداعظم کے نام پر سیاست کی ہے

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے زیادہ تو میں نے اسلام کی خدمت کی ہے میں نے اپنے وزرات اعلی کے منصب میں صوبے میں سود اور یگر چیزوں کو ختم کیا انہوں نے کہاکہ یکم جولائی سے صوبہ بھر کے اٹھائیس ہزار ایما کرام کو دس ہزار روپے کا وظیفہ شروع ہوجائیں گا اس میں تمام پیچدگیاں ختم کردی گئی ہے

پرویز خٹک نے مزید کہا کہ وزیراعلی محمود خان نے صوبہ بھر کے تمام افراد کے لے صحت کارڈ کا اجرا کرلیا جس سے ہر گرانے کا علاج دس لاکھ روپے تک مفت ہوں گا انہوں نے کہاکہ اپوزیشن مفت کا واویلا کررہی ہے پی کے 63کے ضمنی الیکشن میں میاں عمر دو تہائی اکثریت سے جتیں گے اور مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہوں گی کیونکہ میں نے اور میرے خاندان نے ضلع بھر کے عوام کی خدمت کی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ہمیشہ مجھ پر اعتماد کیا نوشہرہ کو سیلاب سے بچانے کے لیے تیرہ ارب روپے کے منصوبے پر کام جارہی ہے

وزیردفاع پرویزخٹک نے کہاکہ نوشہرہ میڈیکل کالج ٹیکنیکل یونیورسٹی فضائیہ یونیورسٹی سمیت میگا پروجیکٹ میرے دور میں مکمل ہوئے اور کچھ تکمیل کے اخری مراحل میں ہے کامیاب نواجوان پروگرام کے ذریعے نوجوان اگے بڑھے اور اپنا روزگار شروع کریں انہوں نے کہاکہ رشکئی اکنامک زون سے اس صوبے کا نقشہ بدل جائیں گا اور نوجوانوں کو نئے روزگار کے مواقع ملیں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.