fbpx

W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

پاکستان کے آسمان میں رات کے وقت ستاروں کا ایک بہت خاص جھرمٹ نظر آتا ہے ، شمال کی طرف ایک بڑے سے W کی شیپ میں بنا جھرمٹ ۔

آج سے 450 سال پہلے اس جھرمٹ میں ایک بڑا واقعہ ہوا تھا ، اب تک صرف آٹھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہیں انسان نے ننگی آنکھ سے دیکھا ہے ، اس واقعے کے متعلق میں آپ کو اس لیے بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے چیپٹر میں اللہ تعالیٰ کا آدمؑ کو دیا ایک بہت بڑا تحفہ ڈسکس ہونا ہے ، زبان کا تحفہ ، اسی تحفے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا پیغام دیا تھا یعنی قرآن پاک کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وہ بھی ایک ایسی عربی زبان جس کی چار مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے ۔

لیکن الشعراء (26:195) میں اس تعریف کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت ہی خاص لفظ استعمال کیا ہے ’’عربی مبین‘‘

میرا ایک سوال ہے کہ آپ نے اس لفظ مبین کا کیا ترجمہ پڑھا ہے ؟

موسٹلی اس کا ترجمہ …

’’صاف اور واضح عربی زبان‘‘

لکھا ہوا ہے ، جو بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کا ایک ترجمہ میں آپ کو بتاؤں ؟

’’ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ lead کرے‘‘

اور اب میں آپ کو ستاروں کے اس جھرمٹ میں ہونے والے واقعے کے متعلق بتاتا ہوں ، W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں … 11 نومبر 1572ء کی رات یعنی آج کی رات ، اس جھرمٹ میں ایک ستارہ پھٹا تھا جس نے ارسطو کے بتائے ہوئے آسمانوں کی صدیوں پرانی انڈرسٹینگ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

اسے سینکڑوں لوگوں نے پھٹتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ سترہ مہینے تک آسمان میں ایک خوبصورت سے سرخ اور گلابی دائرے کی شکل میں نظر آتا رہا تھا ۔

اسی ستارے کو دیکھ کر ملکہ الزبتھ ii نے اپنے دربار والوں سے رائے طلب کی تھی کہ ایک نیا خوبصورت ستارہ پیدا ہوا ہے ، تاج برطانیہ کو کیا کرنا چاہیئے ؟

اسی ستارے کو دیکھ کر چائنہ میں ming dynasty کے دو شہزادوں کے درمیان ڑائی چھڑ گئی تھی کہ اگلا بادشاہ کون بنے گا کیوں کہ ان کے مطابق ایک خوبصورت نیا ستارہ اگلے بادشاہ کے لیے بہت مبارک ثابت ہونا ہے ۔

لیکن اس وقت ڈنمارک میں ایک سائنسدان tycho brahe بھی رہا کرتا تھا جس نے اس ستارے پر اپنی سائنٹیفک آبزرویشنز اپنی لاطین ڈائری میں لکھی تھیں جس کا اردو زبان میں مطلب ہے …

’’ایک ایسا خوبصورت ستارہ ، جسے آج سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا‘‘

اس ٹیکسٹ میں لکھا ہے کہ …

’’آسمان میں ایک نیا ستارہ پیدا ہوا ہے جو اپنے گلابی اور سرخ رنگ کی وجہ سے آسمان کی ہر چیز سے زیادہ خوبصورت اور چمکدار لگتا ہے ، یہ سب سے الگ تھلگ ہے اور ہم اسے orf کہتے ہیں‘‘

آج ہم اس ستارے کو SN-1572 کہتے ہیں یعنی 1572ء میں نظر آنے والا سوپرنووا (یعنی ایک پھٹتا ہوا ستارہ)

یہاں تک پہنچ کر لوگ پھر سوپرنووا کی سائینس بیان کرنے لگ جاتے ہیں لیکن کوئی یہ بات نہیں سوچتا کہ پندرہویں صدی ڈنمارک والوں نے اس ستارے کا نام orf کیوں رکھا ۔

اسکا جواب میں آپ کو دیتا ہوں !

کیوں کہ پندرہویں صدی ڈنمارک کے اس orf کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اٹھارہویں صدی کے ایک امیرکن شاعر edgar allan poe نے اپنی سب سے لمبی نظم لکھی تھی ۔

اس نظم میں وہ ایک بہت اونچی اور خوبصورت جگہ کی بات کرتا ہے جو آسمانوں میں سب سے الگ ہے ، جنت اور جہنم دونوں سے الگ ، لیکن ایڈگر کی امیرکن انگلش میں ایسی جگہ کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا اور نہ ہی ٹائکو کی لاطین زبان میں ایسا لفظ تھا جو ایک خوبصورت بلند جگہ کو ڈیفائن کر سکے ۔

لہٰذا ٹائکو نے اس ستارے کو orf کا نام دیا اور ایڈگر نے اپنی نظم کو aaraf کا نام دیا اور دونوں کے الفاظ orf اور aaraf کی انسپائریشن … القرآن کی ساتویں سورۃ … ’’الاعراف‘‘ تھی جس کا مطلب ہی ’’بلندیوں کی بھی بلندیاں‘‘ ہے ۔

ایک ایسی flawless لینگوئج ، جس نے ڈنمارک اور امیرکہ میں بھی کسی نہ کسی صورت lead کیا ہے ، اپنا ’’عربی مبین‘‘ ہونا ثابت کیا ہے ۔

عربی مبین ، ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ باقی سب کو lead کر جائے ، سٹینڈرڈز سیٹ کر جائے ۔

آپ نے کبھی سورۃ نجم پڑھی ہے ؟

کبھی سورۃ نجم کی لینگوئج پر غور کیجیئے گا ، اس سورۃ کی لینگوئج اس قدر پاورفل ہے کہ جب مکہ مکرمہ میں اسکا نزول ہوا تو اس پر آپ ﷺ نے بھی سجدۃ کیا ، آپؐ کے ساتھ جتنے لوگ تھے ان سب نے سجدۃ کیا ، آپؐ کے قرب میں جو بھی جن و انس تھے وہ سب سجدے میں گر پڑے حتیٰ کہ …

اس سورۃ کی طاقت نے وہاں موجود کفار کو بھی سجدے میں گرا دیا تھا ، اور اس وقت وہاں جو بدترین کافر بوڑھا (امیۃ بن خلف) تھا وہ بھی resist نہ کر سکا اور یہاں تک مجبور ہو گیا کہ جھک کر مٹی اٹھائی اور اپنے ماتھے پر مل لی اور کہنے لگا ، میرے لیے بس یہی کافی ہے (مسلم 1297 ، مشکوٰۃ 1023).