وبا، سلیم صافی اور مولویوں کا مسئلہ کیا ہے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

وبا، سلیم صافی اور مولویوں کا مسئلہ کیا ہے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک اہم مسئلہ ہے ،کئی دن سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اس پر آپ کی کیا رائے ہے، پاکستان میں مولوی حضرات کیوں بضد ہیں کہ باجماعت نماز اور تراویح پڑھنی ہے ایسے موقع پر جب وبا بری طرح پھیلی ہوئی ہے دنیا اس کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہے.

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ روزنامہ جنگ 22 اپریل کا اس میں میرے بڑے ہی پیارے دوست ہیں سلیم صافی کا ان کا اس پر ایک بھر پور کالم آیا ہے ، سلیم صافی سے ہم نے گفتگو بھی کی، ان کے کالم میں کئی چیزوں سے ایگری کرتا ہوں،اور کچھ چیزیں ، اصل میں سلیم صافی سے آپ اختلاف رائے رکھ سکتے ہیں،وہ شائستہ انسان ہیں اور وہ مہذب زبان استعمال کرتے ہیں،صافی صاحب لوگوں کی عزت ضرور رکھتے ہیں بھلے انکی رائے سے اختلاف کیا جائے، مجھے پتہ ہے کہ میرے پی ٹی آئی کے دوست اس سے ضرور اختلاف کریں گے میں سب کچھ جانتے ہوئے کہہ رہا ہوں

سلیم صافی کا کالم پڑھنا ضروری ہے، انکے کالم کا عنوان ہے وبا اور اہل مذہب، اسکا خلاصہ بہت ہی اہم ہے وہ کہتے ہیں کہ بحران لیڈر بناتے ہیں یا گراتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن، سراج الحق، مولانا طارق جمیل اور مفتی تقی عثمانی اور پیر نقیب الرحمٰن جیسے لوگوں نے کورونا کی وبا کی آزمائش میں اپنے قد بلند کئے۔ مولانا فضل الرحمٰن اُن سیاستدانوں کی صف میں شامل ہیں جن کا حق تبدیلی کی خاطر مارا گیا۔ پھر اُس حکومت نے اُن کے خلاف ہر حد پار کردی۔

مولانا چاہتے تو کورونا کے مسئلے کو حکومت کے خلاف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے تھے لیکن کورونا کی وبا سامنے آتے ہی انہوں نے انتہائی جراتمندانہ اور مدبرانہ موقف اپنا کر لوگوں کو وہی کچھ کرنے کا کہا جو ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں۔

انہوں نے مساجد میں اجتماعات کی پابندی کے حکومتی اقدام کی مزاحمت نہیں کی اور حکومت کی طرف دستِ تعاون بھی دراز کیا۔ اسی طرح سراج الحق صاحب نے بھی پہلے دن سے یہی جراتمندانہ اور سوشل ڈسٹینسنگ پر زور دینے والا موقف اپنایا۔ جماعت کے وسائل بھی حکومت کو آفر کیے فخر کے ساتھ اپنے ڈاکٹر بیٹے کو کورونا کے مریضوں کی خدمت پر مامور کرکے دوسروں کے لئے اعلیٰ مثال قائم کی۔

دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

اسی طرح مفتی تقی عثمانی صاحب نے جو پہلا فتویٰ جاری کیا، وہ نہایت متوازن تھا۔ مولانا طارق جمیل صاحب نے بھی یہ قابلِ ستائش قدم اٹھایا کہ لوگوں کو سوشل ڈسٹینسنگ کی تلقین کی اور میرے ٹی وی پروگرام میں یعنی سلیم صافی کے پروگرام میں اس موقف کی صراحت کے ساتھ وضاحت کی کہ انسانی جان کا تحفظ ہر عبادت سےمقدم ہے۔

اسی طرح عیدگاہ شریف کے سجادہ نشین پیر نقیب الرحمٰن صاحب نے بھی پہلے دن سے جو کوششیں کیں، اس کا محور انسانی جانوں کا تحفظ ہی رہا۔ وبا کا پہلا کیس سامنے آتے ہی میں لکھتا اور بولتا رہا کہ حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تمام دینی جماعتوں کے سربراہوں، علمائے کرام اور مشائخ کو جمع کرکے کورونا کے تناظر میں ایک متفقہ فتویٰ سامنے لانا چاہئے لیکن افسوس کہ حکومت اس طرف متوجہ نہ ہوئی۔

جو برائے نام لاک ڈائون ہوا اس میں پاکستان کے اندر جو شخص سب سے زیادہ کنفیوژن کا شکار رہے، وہ حکمراں ہی تھے۔ اوپر سے کسر یوں پوری کردی گئی کہ گزشتہ ہفتے لاک ڈائون میں نرمی کردی اور بعض شعبوں کو کھول دیا۔ یوں مفتی منیب الرحمٰن صاحب کو جواز ہاتھ آگیا اور انہوں نے بجا طور پر یہ سوال اٹھانا شروع کردیا کہ فلاں فلاں کاروبار کھل سکتے ہیں تو مساجد کیوں نہیں کھل سکتیں۔

دوسری طرف حکومتی اجلاس اور فیصلے سے قبل 14اپریل کو کراچی میں تمام علما کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے مساجد کے حوالے سے لاک ڈائون ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یوں حکومت ہوش میں آئی اور صدر عارف علوی کے ذریعے علمائے کرام کا اجلاس بلایا گیا جس میں بیس نکاتی معاہدے پر دستخط ہوئے۔

وبا کے کامیاب طریقہ علاج کی طرف پیشرفت، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کے لئے سمری صدر کو کیوں بھیجی؟ سیاسی میدان میں بڑی ہلچل

ناامیدی کفر ہے، مشکل حالات میں امید کی کرن…مبشر لقمان کی تازہ ترین ویڈیو لازمی دیکھیں

امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

عالمی طاقتوں کی نا انصافی کا علاج…کرونا وائرس، گورنر کے پی شاہ فرمان کی کھری باتیں مبشر لقمان کے ساتھ

چین سے پہلے امریکہ کو وبا کا پتہ تھا،ٹرمپ دنیا کو ماموں بناتے رہے، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

گریٹ گیم، اصل کہانی تو مئی کے بعد شروع ہو گی، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

گویا حکومت دبائو کے آگے جھک گئی اور فیس سیونگ کے طور پر یہ بیس نکاتی ناقابلِ عمل منصوبہ بنایا گیا۔ ناقابلِ عمل میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دیہات تو کیا بڑے شہروں کی مساجد میں بھی اس معاہدے پر عمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں مسجد کی طرف ضعیف العمر لوگ زیادہ لپکتے ہیں۔

میں عالم نہیں ہوںلیکن علمائے کرام اور دینی حلقوں یا جماعتوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بہت ہوا، یوں کسی حد تک مذہبی حلقوں کا مزاج شناس ضرور ہوں۔ یوں مساجد میں باجماعت تراویح پر اصرار کرنے والے لوگوں سے بصد ادب و احترام چند سوالات کا جواب جاننا چاہتا ہوں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ مساجد سب محترم ہیں لیکن مسجدالحرام اور مسجدِ نبویﷺ کا مقام تو کسی اور مسجد کو حاصل نہیں۔ اگر وہاں انسانی جان کی حرمت کی وجہ سے امسال عام لوگوں کے لئے تراویح کی نماز تو کیا فرض نمازوں میں بھی شمولیت ممنوع ہے تو ہمارے ہاں اس پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ جب پچاس سال سے زائد عمر یا پھر بیمار افراد کو گھر پر تراویح پڑھنے کا وہی ثواب ملے گا جو مسجد میں آنے والوں کو تو پھر باقی لوگوں کو مسجد میں لانے پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ تراویح نفلی عبادت ہے جبکہ پانچ وقتہ نماز فرض ہے۔ فرض نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کا حکم قرآن میں ”وارکعو مع الراکعین“ کی شکل میں دیاگیا ہے جبکہ باجماعت تراویح کے بارے میں قرآن میں ایسا کوئی حکم نہیں آیا۔ اب جب کورونا کی وبا کی خاطر دینی تعلیمات ہی کی روشنی میں فرض نمازیں دو ہفتے گھروں پر ادا کرنے پر علمائے کرام نے بھی اعتراض نہیں کیا تو پھر نفلی عبادت کے لئے باجماعت ادائیگی پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ علمائے کرام اور حکومت کے اس معاہدے کے باوجود علما کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے میرے ساتھ ٹی وی انٹرویو میں اعلان کیا کہ وہ تراویح گھر پر ہی پڑھیں گے۔ اب اگر علما کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اگر گھر میں تراویح پڑھ سکتے ہیں اور کسی عالمِ نے ان کے اس فیصلے کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں دیا تو پھر دیگر علما دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر مسجد ہی میں باجماعت تراویح پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟

پانچواں سوال یہ ہے کہ ڈاکٹروں کی رائے اور ماہرین کے مشورے کے مطابق اگر حکومتی حکم کے مطابق مساجد میں باجماعت تراویح سے گریز کیا جاتا تو اگر لوگوں کو باجماعت تراویح سے محروم رکھنا گناہ کے زمرے میں آتا بھی تو اس کی ذمہ داری کسی امام مسجد یا عالم کے کاندھوں پر نہ ہوتی۔

قیامت کے روز وہ اللہ کے سامنے یہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ یا اللہ حکومتِ وقت نے پابندی لگائی تھی اور انسانی جانوں کو خطرہ تھا جس کو آپ کے احکامات کے مطابق کعبے سے زیادہ تقدس حاصل تھا۔

اس لئے ہم نے باجماعت تراویح کا احترام نہیں کیا لیکن اب اگر خدانخواستہ کسی بھی مسجد میں اجتماع کی وجہ سے کسی بھی انسانی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا تو قیامت کے روز حکومت کے ساتھ ساتھ وہ مذہبی رہنما بھی ذمہ دار ہوں گے جنہوں نے باجماعت تراویح پر اصرار کیا۔ اب میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مفت میں یہ لوگ اتنی بڑی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لینے کے لئے کیوں بےتاب ہیں؟

آخری سوال صرف محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب سے کہ چونکہ ان کی کمیٹی ریاست نے قائم کی ہے اس لئے شرعی لحاظ سے اس کے فیصلے کو تسلیم کرنا لازم ہے اور مفتی پوپلزئی صاحب کی شہادتیں کتنی قوی کیوں نہ ہوں۔ ان کا اقدام ریاست سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ریاست نے انہیں یہ مینڈیٹ نہیں دیا۔ میں ہر سال مفتی منیب الرحمٰن کے فیصلے کے مطابق روزہ رکھتا ہوں اور عید مناتا ہوں حالانکہ مردان اور نوشہرہ میں مقیم میرے بیشتر رشتہ دار پوپلزئی صاحب کی تقلید کرتے ہیں چونکہ مفتی صاحب کو یہ منصب ریاست نے سونپا ہے اس لئے مجھے اگر ان سے اختلاف بھی ہو تب بھی میں رویتِ ہلال کے معاملے میں ان کی تقلید کرتا ہوں۔

اب جبکہ ریاست نے اٹھارہ اپریل کو فیصلہ کرنا تھا تو مفتی صاحب نے چودہ اپریل کو مساجد کا لاک ڈائون ختم کرنے کا اعلان کرکے ریاست کو چیلنج کیا۔ اب کیا اس معاملے میں مفتی منیب الرحمٰن، مفتی پوپلزئی کے نقشِ قدم پر نہیں گئے اور مسجد کو کھولنے کے معاملے میں جب انہوں نے ریاست سے بغاوت کرلی تو کیا پھر شہاب الدین پوپلزئی وغیرہ کے پاس بھی اب مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی سے بغاوت کا حق حاصل نہیں ہو جاتا؟

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم پوائنٹس ہیں، سلیم صافی نے کوشش کی وہ کھل کر نہیں بولے وہ شریف انسان ہیں، میں انکو ہمیشہ کہتا ہوں کہ آپ عمر میں چھوٹے اور درجے میں بڑے ہیں،جنتی ادب سے وہ الگے کو بے نقاب کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انکو ذوئے کلام دیا ہے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سلیم صافی صاحب آپ نے کبھی غور کیا کہ رویت ہلال کمیٹی سال میں ایک مہینے میں اختلاف کی وجہ بن جاتی ہے لیکن باقی مہینوں میں نہیں بنتی ،مذاق اڑوا دیا ہے انہوں نے تین تین دن میں عید ہوتی ہے ،جب ملک میں ایک دن عید ہوئی تھی تو لوگ بڑے خوش تھے کہ مولوی ایک ہو گئے، لوگوں نے جشن منایا،یہان پر یہ بحث چل رہی ہوتی ہے کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ عید کیوں نہ کریں فلاں کے ساتھ کیوں نہ کریں ، اب سعودیہ کے ساتھ کر لیں جب انہوں نے اجتماعات کو بند کیا تو آپ اب بند کیوں نہیں کرتے،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سلیم صافی صاحب اب رمضان آیا ہے رمضان میں ان لوگوں کو صدقات، زکوۃ ملنی ہوتی ہے،خیرات کی رقم آتی ہے کتنی رقم آتی ہے 80 لاکھ مدارس میں طلبا ہیں، 30 لاکھ تو وہ ہیں جن کو وفاق المدارس اعتراف کرتا ہے کہ انکو ڈگری دی جاتی ہیں، 30 لاکھ کا لگا لیتے ہیں،30 لاکھ کا لگائیں اور کم سے کم کھانا اگر 30 روپے کا وقت لگاتے ہیں اور دن میں تین کی بجائے دو وقت کے کھانے کا بھی حساب کرتے ہیں تو 9 کروڑ تو ایک دن کا ہو گیا، سال میں ڈالروں میں چلتا ہے، تین وقت کا کھانا کرنا ہے،تنخواہیں ہیں، بجلی گیس کے بل ہیں، گاڑیاں ، لینڈ کروزرز ہیں، یہ سب ہو جائے تو پتہ ہے کتنے بلین ڈالر پر گیم جاتی ہے،

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کو پتہ ہے کہ انہوں نے جو صدر مملکت کے ساتھ گیم کی ہے کہ 50، 60 سال سے عمر کا کوئی فرد مسجد نہیں جائے گا، ان میں سے کوئی بھی اس عمر سے کم نہیں ہے،جو معاہدہ کر کے آئے ہیں، اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے آپ کے اور ہمارے بچوں کو آگے لائیں گے بالکل ان جہادی تنظیموں کی طرح جہان ان کے اپنے بچے آگے جہاد کے لئے نہیں جاتے، کوئی کدھر پڑھ رہا ہے کوئی کدھر بہت کم لوگ ہیں یہاں پر میں سراج الحق کی عزت کرتا ہوں،کہ انکا بیٹا ڈاکٹر ہے اورانہوں نے وبا سے لڑنے کے لئے اسے بھیج دیا ہے، سلام ہے ان کو.

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی ابھی کچھ دن پہلے ان کے صاحبزادے سے ملاقات ہوئی اسدن سے واقعی میں ان کی قدر کرنا شروع ہوا جب میں ان کے بیٹے سے ملا تو وہ باقاعدہ عالم دین کی طرف انکا سفر گامزن ہے، یعنی جو وہ فیل کرتے ہیں وہ اپنی اولاد کی طرف منتقل کر رہے ہیں،یہی ایک دین کی محبت کافی ہے کہ اگر آپ اپنی اولاد کو اسکے لئے وقف کر دیتے ہیں یہ ایک سیریس کمٹمنٹ ہے،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے مذاق بنا لیا ہے،11 مہینے چاند دیکھنے پر لڑائی نہیں ہونی ایک مہینے میں دو بار ہونی ہے اگر اس مہینے میں یہ چپ رہتے ہیں تو یہ بلین ڈالرز کون اکٹھے کرے گا،یہ زکوہ میں کوئی شوکت خانم،. انمول الخدمت، گھرکی ہسپتال میں چلی جائے گی اور انکو یہ برداشت نہیں،اب آپ کو سمجھ آئی صافی صاحب

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مفتی صاجب 20 سال سے رویت ہلال کمیٹی کے یہی سربراہ ہیں اور یہ کون سی جاب ہے ہر مراعات لینی ہیں میں مفتی پوپلزئی سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ مسلمان ہیں اور جو انکے عینی شاہد ہیں وہ بھی مسلمان ہیں، جب ڈیڑھ ڈیڑھ سو رویت آتی ہیں تو پھر پورے ملک میں چار منٹ کا فرق ہے بنتا نہیں کہ انکی ہر شہادت کو رد کریں ایسا بھی ہو چکا ہے کہ کے پی کی رویت ہلال کمیٹی پوپلزئی صاحب سے ایگری کر چکی ہے لیکن مرکزی کمیٹی نے ایگری نہیں کیا یہ مذاق ہے،یہ دوسروں کے بچوں کو مساجد میں لانا چاہتے ہین وہان سماجی فاصلہ نہیں ہو سکتا، ان میں سے اگر ایک بھی موت ہوئی تو ذمہ دار یہ خود ہوں گے، یہاں ایف آئی آر نہین کٹنی کیونکہ صدر محترم ان سے مل چکے ہیں ،اللہ کے حضور ایف آئی آر کٹے گی، جنہوں نے ریاست کے سامنے اس معاملے پر سیاست کرنے کی کوشش نہیں کی وہ قابل احترام ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.