وفا و فلاح کے پیکر…!!! قسط:3 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

وفا و فلاح کے پیکر…!!![قسط:3]۔
(تحریر:جویریہ چوہدری)۔
گفتگو واقعی جرأتمندانہ تھی…
قریش کو اپنے لوگوں کی جانیں جانے کا خطرہ لاحق ہوا،
تب ایک شخص بولا:
لات و عزیٰ کی قسم…
صہیب تم وہ وقت یاد کرو جب تم مفلس تھے،مکہ پہنچ کر تجارت شروع کی…
اور تھوڑے عرصہ میں ہی تم اتنے مال دار ہو گئے،تمہاری تجارت وسیع ہوتی چلی گئی…
اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ کمایا ہوا ڈھیروں مال تم اپنے ساتھ مدینہ لے جاؤ گے؟
یہ تو ممکن نہیں کہ تم سب لے اُڑو اور ہم منہ دیکھتے رہ جائیں…
صہیب نے ان کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئے،
اچھا کیا تمہاری نظر صرف میرے مال پر ہے؟
جبکہ میرا مشن تو اس سے کہیں ارفع اور بیش قیمت ہے…
تو کیا میں اپنا سارا مال تمہارے سپرد کر دوں تب تم میری راہ چھوڑ دو گے ؟
انہیں اور کیا چاہیئے تھا،جھٹ تیار ہو بیٹھے کہ ہاں اگر تم اپنے سامان و خزانے کا پتہ ہمیں دے دو تو ہم تمہارا رستہ چھوڑ دیں گے…!!!
صہیب نے انہیں وہ جگہ بتا دی جہاں دولت چھپی ہوئی تھی…
وہ خوشی خوشی رستہ چھوڑ کر لَوٹ گئے اور سارا مال اپنے قبضے میں کر لیا…
اور ادھر صہیب رہِ وفا کے تقاضے نبھاتے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے،آپ کو اپنے مال و دولت کے لُٹ جانے کا ذرا برابر بھی غم نہ تھا…
کیونکہ انہوں نے جان لیا تھا کہ اللّٰہ کی پہچان اور محمد رسول اللہ کی رسالت کا اقرار کرنے کے بعد یہ مال کیا،جان کی بھی پرواہ نہیں رہتی…
اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیئے رب کی عطا کردہ نعمتوں کے چھوٹ جانے کی ذرا پرواہ نہیں رہتی…!!!
وفورِ شوق سے قدم مدینہ کی طرف رواں تھے…
محبوبِ رب کی زیارت کا شوق تھکے قدموں کو توانائیاں فراہم کر رہا تھا…
دل میں موجزن ایمان کا سمندر لیئے صہیب جب قبا میں پہنچے تو رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے…
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب صہیب کو دیکھا تو فرمایا:
ابو یحییٰ تجارت منافع بخش رہی…
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا…
صہیب کا چہرہ خوشی سے جگمگا اُٹھا…
عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھ سے قبل یہاں کوئی نہیں آیا،یقیناً یہ خبر آپ کو جبریل امین علیہ السلام نے دی ہو گی ؟
ادھر صہیب راہ وفا کی کھٹنائیوں سے نبرد آزما ہوتے ہوتے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور اُدھر جبریل امین اللّٰہ تعالٰی کا پیغام لیۓ پہنچ گئے…
محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر پر قرآن اُتر رہا تھا:
"اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللّٰہ کی رضا کی طلب میں اپنی جان تک کھپا دیتا ہے اور اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے…”

وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1 ؛جویریہ چوہدری

وفا و فلاح کے پیکر…!!!قسط:2 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.