وفاق کی ذمہ داری ہے وہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرے

0
37

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے مختلف منصوبوں کی مد میں دو ہزار ارب روپے درکار ہیں، سندھ حکومت کے پاس اتنی رقم نہیں، وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ سندھ میں منصوبوں پر عمل درآمد کرے۔

یہ بات انہوں نے احسن آباد میں منعقدہ کھلی کچہری میں کہی۔ کھلی کچہری میں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، امتیاز شیخ، شہلا رضا، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور پی پی کے دیگر ارکان اسمبلی موجود تھے۔ وزیر اعلی نے شکایات سنیں اور موقع پر ہی ازالے کے احکامات جاری کیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے مختلف منصوبوں کے لیے دو ہزار ارب روپے درکار ہیں، سندھ حکومت کے پاس اتنی رقم وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ سندھ میں منصوبوں پر عمل درآمد کرے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی میں فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کروائے ہیں، سڑکوں کی حالت زار بہتر کی ہے، قومی شاہراہ پر تعمیری کام کروائے ہیں جب کہ لیاری میں سوک سینٹر بنایا جائے گا، کورنگی میں پل بنا رہے ہیں، کراچی میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے حساب مانگنے والے سندھ حکومت کی طرف سے وفاق کو دیے جانے والے پیسوں کا حساب دیں، ہم حساب عوام کو دیں گے، چور دروازے سے آنے والوں کو جواب دہ نہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دریاؤں میں پانی کی کمی ہے لیکن پانی کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے، سندھ کو پینے کے پانی سے بھی محروم رکھا جارہا ہے، سندھ حکومت کو عوامی مسائل کا اندازہ ہے، ہم کولیکٹیو نہیں ہیں، مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے تباہی مچانے والوں نے مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا ہوا ہے، وفاقی حکومت سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا، مہنگائی عروج پر ہے اور یہ جشن منا رہے ہیں، پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے پر عمل کی بجائے لاکھوں افراد کو بے روزگار کردیا، اسٹیل ملز سے لوگوں کو نکالا، 11 وفاقی محکموں سے ہزاروں افراد کو بے روزگار کردیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیڈرز نے اپنے رہنماؤں کو بری زبان سکھانے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا، مجھ سے بدزبانی نہیں ہوتی، صوبے بھر میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ مزید بڑھایا جائے گا، ہم انسان ہیں، غلطیاں ہو سکتی ہیں، ہماری جڑیں عوام میں ہیں،عوام کی بہبود کے لیے اقدامات کرے رہیں گے۔

دریں اثنا وزیراعلی سندھ کی کھلی کچہری ہڑبونگ کا شکار ہوکررہ گئی، شکایات پیش کرنے والے آپے سے باہر ہوگئے، ایم ڈی اے کے خلاف بینرز اٹھائے مظاہرین نے لینڈ مافیا اور ان کے آلہ کار سرکاری افسران اور عملے کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے رینجرز پہنچ گئی، افراتفری کے بعد کھلی کچہری ختم کردی گئی۔

بعد ازاں وزیراعلی اسی ہڑبونگ میں چلے گئے، اس موقع پر کوویڈ 19 کی ایس او پیز کے دھجیاں بکھیر دی گئیں، دھکم بازی کے دوران بھی جیالے وزیر اعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مصروف رہے۔

Leave a reply