fbpx

وفاقی کابینہ نےعمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی

تحریک انصاف کے خلاف ڈکلیئریشن سپریم کورٹ بھیجنے کا اصولی فیصلہ کرلی،مریم اورنگزیب

وفاقی کابینہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دیدی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے جس میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کےفیصلے کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت ہو رہی ہے۔

باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں عمران خان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی کابینہ نے تحریک انصاف کے پی ٹی آئی چیئر مین کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم کی ہدایت پر سیکرٹری قانون اور سیکرٹری داخلہ کے علاوہ تمام بیوروکریٹس کو اجلاس سے باہر بھیج دیا گیا۔

کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں افواج پاکستان کے افسران و اہلکار شہید ہوئے،حکومت نے این ڈی ایم اے او رپی ڈی ایم اے کی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا،شہدا بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دے رہے تھے،کابینہ اجلاس میں این ڈی ایم اے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،وزیراعظم نے آج بھی سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کی ہدایت کی ہے،کابینہ اجلاس میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی کارروائیوں کو سراہا گیا،وزیراعظم سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کررہے ہیں.

مریم اورنگزیب کا کابینہ کے اجلاس کے بعد میدیا بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے سروے کیلئے مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی.75ویں یوم آزادی پر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کیلئے وزارت داخلہ سے سمری منگوائی گئی ،دو تہائی سزا مکمل کر لینے والے عورتوں، بچوں اور بزرگوں کی سزاؤں میں کمی کی تجاویز مانگی گئیں،کابینہ کے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تفصیلی بات ہوئی،الیکشن کمیشن کا فیصلہ پی پی او 2002 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق آیا،8سال کے دوران پی ٹی آئی نے کوئی جواب نہیں دیا، اسٹیٹ بینک نے تمام ریکارڈ فراہم کیا،وزیر قانون نے آئینی و قانونی پہلوؤں پر کابینہ کو مفصل بریفنگ دی،تحریک انصاف کے خلاف ڈکلیئریشن سپریم کورٹ بھیجنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے،تحریک انصاف فارن فنڈڈ پارٹی ڈکلیئر ہو چکی ہے،کابینہ کے آئندہ اجلاس میں وزارتِ قانون ڈکلیریشن پیش کرے گی،پی ٹی آئی نے 16 اکاؤنٹس ڈکلیئر نہیں کئے.

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کیخلاف پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002اور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2017کے تحت کارروائی کرنے کی پابندہے،یہ اکاؤنٹس عمران خان سمیت سینئر قیادت کے نام پر کھلے،سیکریٹریٹ ملازمین کے ناموں پر پیسے ان اکاؤنٹس میں آتے رہے، 8سالوں میں تحریک انصاف نے 51 بار التوامانگا،ایف آئی اے کو فوری طور پر انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کر دی گئی،اسٹیٹ بینک، ایف بی آر سمیت تمام ادارے فیصلے کی روشنی میں انکوائری کریں گے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی جماعت کو فارن فنڈڈ پارٹی ڈکلیئر کیا گیا ہے،