وفاقی وزیر ہونے کے باوجود ایک میٹر نہیں لگواسکا،اعظم سواتی

وفاقی وزیر ہونے کے باوجود ایک میٹر نہیں لگواسکا،اعظم سواتی

با غی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے سینیٹر اعظم سواتی کی سفارش کے باوجودبجلی کا میٹر نہ لگانے پر مانسہرہ کے ایکسین کواو ایس ڈی بناکر انکوائری کی ہدایت کردی ،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں ثابت ہواہے کہ پشاورالیکٹر ک سپلائی کمپنی میں میٹر ریڈر اور لائن مین کی بھرتی میں تھرڈپارٹی ہی کرپشن میں ملوث ہے رشوت لےکرامیدواروں کوکامیاب قراردیا۔کمیٹی نے انکوائری رپورٹ آنے پر تمام بھرتی کے عمل کودوبارہ سے کرنے یاکوئی اور طریقہ کار اختیار کرنے کافیصلہ کیاجائے گا۔وزارت توانائی کے حکام نے کمیٹی سے معافی مانگی کی پیسکو حکام مسلسل جھوٹ بولتے رہے نااہل لوگوں کوبھرتی کرنے کانقصان ادارہ 35 سال تک برداشت کرئے گا اس لیے اس پورے عمل کودوبارہ کیاجائے پیسکو کے حکام اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے ۔جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کااجلاس چیرمین کمیٹی فدامحمد کی سربراہی میں ہوا ۔اجلاس میں وفاقی وزیرانسداد منشیات سینیٹر اعظم سواتی ،سراج الحق ،مشتاق احمد خان ،نعمان وزیر،دلاور خان ،مرزامحمدآفریدی ،احمدخان اور وزارت توانائی ،نیپرااور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے حکام نے شرکت کی ۔وفاقی وزیرانسداد منشیات سینیٹراعظم سواتی نے کمیٹی کوبتایاکہ ایف بی آر سب سے زیادہ کرپٹ ادارہ ہے اگر میں پاکستان میں بزنس کرتا تو بہت برا حال ہوتا ۔مانسہرہ کے عوام واپڈا کے ایکسین سے انتہائی تنگ ہیں پیسے لینے کے لیے لوگوں کوتنگ کیاجاتاہے میری کال کرنے کے باوجود ایک گھر کامیٹر نہیں لگایاگیاوہ بیرون ملک کاروبار کرتاہے اور پاکستان پیسے بھیجتا ہے مگر ان کے ساتھ یہ سلوک کیاجارہاہے اس لیے مانسہرہ کے پیسکو کے ایکسین کو او ایس ڈی بنایا جائے اور ان کے خلاف انکوائری کی جائے انکوائری کے بعد ان کو قرارواقعی سزا دی جائے اس سے بیرون ملک کام کرنے پاکستان پیسے بھیجنے والوں کوکیاپیغام دیاگیا اور اس پاکستانی کو بجلی دے دیں ۔ اعظم سواتی نے کہاکہ جس شہری کی میں نے سفارش کی اس کانام ملک اخلاص ہے اس کا میٹر کیوں نہیں لگایا ایک وزیر بھی اپنے علاقے میں ایک میٹر نہیں لگایا گیا ہمارےپا س ایک میٹر لگانے کابھی اختیار نہیں ہے ۔ایکسین مانسہرہ نے کمیٹی کوبتایاکہ جہاں پر میٹر لگانا تھا وہاں پر پلاٹنگ ہوئی ہے اور میرے پا س وہاں میٹرلگانے کااختیار نہیں ہے اگر پشاور سے اجازت مل جائے تو دس دن کے اندر میٹر لگادوں گا میں قانون کے مطابق کام کررہاہوں میرے کیرئر میں آج تک مجھ پر ایک بھی کرپشن کاالزام نہیں لگااور نہ ہی کسی سزا کے طور پر مجھے ٹرانسفر کیاگیاہے ۔کمیٹی نے دس دن کے اندر میٹر لگانے اور ایکسین کو ایس ڈی او بناکران کے خلاف انکوائری کرنے کے ہدایت جاری کردی۔ نعمان وزیر نے کہاکہ اگر شرائط مکمل ہونے کے بعد ایک وقت ہونا چاہیے کے اس کے بعد میٹر لگادیاجائے اس حوالے سے نیپرااور وزارت قانون بنائے ۔
سینیٹر مشتاق احمدکے عوامی نوعیت کے مسئلے جو کہ پشاور الیکٹر ک سپلائی میں میٹر ریڈر اور لائن مین کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے حوالے سے مشتاق احمد نے کمیٹی کوبتایاکہ دورکنی کمیٹی نے نعمان وزیر کے سربراہی میں پشاور الیکٹرک سیلائی کمپنی کادورہ کیااور ثابت ہوا کہ بڑے پیمانے پر بھرتیوں میں کرپشن ہوئی ہے تھرڈ پارٹی کے ذریع بھرتیوں کاعمل ہوامگر بدقسمتی سے تھرڈ پارٹی کے لوگوں کے امیدواروں سے رابطے کئے جس نے رشوت دی ان کوپاس کردیاگیااور اصل حق دراروں کو محروم کردیا گیا کمیٹی جو رپورٹ دے میں نے اپناکام مکمل کرلیاہے اور ثابت کردیاہےکہ بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے۔ نعمان وزیر نے کمیٹی کوبتایاکہ پیسکو میں بھرتیاں تھرڈ پارٹی سے کرائیں مگر وہی چور نکلی اس کا اب کیا کریں ایک علاقے سے زیادہ لوگ لیے گئے اور کچھ علاقوں کو نظرانداز کردیا گیا

ایڈیشنل سیکرٹری وزارت توانائی نے کہاکہ اگر کوئی بندہ اہل نہیں اور وہ بھرتی ہوجائے تو اس سے ادارے کو 35سال کا نقصان ہوتا ہے میں اس کا جواب پیسکو سے لوں گا کہ اس قدر بدنیتی کی گئی ہے یہاں ہر کمیٹی میں جھوٹ بولا گیا ۔ایچ آر اس کا برابر ذمہ دار ہے اور دو سال اس کو ہوگئے ہیں یہاں میرے لیے شرمندگی کا مقام ہے ۔ تھرڈ پارٹی نے لوگوں سے رابطہ کیا اور ان کے نام لیے گئے ۔

نعمان وزیر نے کہاکہ احتساب کی ہم بات کرتے ہیں مگر کسی ایک کو بھی سزا نہیں دے سکے ۔مردان اور چارسدہ کے لوگ زیادہ بھرتی کئے گئے کیوں کہ تھرڈ پارٹی کے لوگ چارسدہ میں موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے ساتھ رابطے کئے ۔
سی ای او پیسکو نے کہاکہ مجھے مین پاور کی اشد ضرورت ہے اگر چندماہ میں مین پاور نہ ملی تو گرمیوں میں پورا نظام بیٹھ جائے گابل کی ترسیل اور ریکوری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔کمیٹی نے مشاورت سے فیصلہ کیاکہ اس معاملے پر انکوائری رپورٹ آنے کے بعد فیصلہ کیاجائے گا کہ کیاتمام بھرتی کے عمل کومنسوخ کرکے دوبارہ عمل شروع کیاجائے یا کوئی اور حکمت عملی بنانی ہے ۔بھرتی کے عمل میں مزید چند ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ پشاور الیکٹرک سپلائی کاسسٹم بیٹھ گیاہے اس کومین پاور کی اشد ضرورت ہے ایسا نہ ہوکہ ہم جوفیصلہ کریں اس کے خلاف لوگ عدالتوں ،میں چلے جائیں مگر اس حوالے سے فیصلہ ضروری کرناہے ۔رپورٹ ۔محمد اویس اسلام آباد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.