fbpx

وفائے مرد نظر انداز کیوں؟ ازقلم: غنی محمود قصوری

وفائے مرد نظر انداز کیوں؟؟

ازقلم غنی محمود قصوری

موجودہ دور میں عورت کی مظلومیت کا رونا رویا جاتا ہے جس میں کچھ حقیقت بھی ہے مگر زیادہ تر افسانوی باتیں گھڑ کر دین حنیف اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-

خاص کر حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی دعوے دار کسی بھی دانستہ غیر دانستہ وقوعہ کو لے کر واویلا شروع کر دیتی ہیں تاریخ گواہ ہے جس قدر اسلام نے عورت کو تحفظ دیا اس قدر کوئی اور مذہب میں نہیں-

اس لئے نبی ذیشان کا فرمان ہے کہ جو شخص بھی بیٹی کی اچھی طرح سے پرورش کرے گا اور اسے اخلاق حسنہ سے متصف کرے گا تو وہ جنت میں داخل ہوگا(بخاری:1418،مسلم 2629

عورت کا مقام مذید بڑھاتے ہوئے اللہ تعالی نے جہاں مرد (باپ) کی حرمت بارے ارشاد وہاں اسی عورت ( ماں) کی حرمت بارے ارشاد فرمایا
تم انہیں اف تک نہ کہنا(الاسراء:23

یعنی اللہ تعالی جہاں والد سے سخت رویہ نا اپنانے کا حکم دے رہے ہیں وہیں ماں کے لئے بھی یہی ارشاد فرمایا گیا ہے

ماں، بہن بیٹی،بیوی و دیگر محرم عورتوں کے علاوہ اسلام میں پرائی عورت بارے سخت احکامات فرمائے گئے ہیں تاکہ ان کی حرمت محفوظ رہے اور وہ بد نگاہوں سے بچی رہے اسی بارے ارشاد ہے کہ

ور اگر عورت پرائی ہو تو اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اس کی طرف نگاہ بھی اٹھا کر مت دیکھنا(النور:30)

مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس کی ذمہ داری بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنا ہے
اس بارے ارشاد ہے

آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو اور آدمی اپنی ذات، اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے
صحیح ابن ماجہ 1752

یعنی صدقہ خیرات دینے سے بھی پہلے اپنے بیوی بچوں پر اچھا خرچ کرنا لازم ہے

اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا

تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کیلئے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل خانہ کیلئے تم سب سے زیادہ بہتر [خیال رکھنے والا]ہوں
ترمذی: (3895)

جہاں مرد کی ذمہ داری عورت کا خیال رکھنا ہے وہیں عورت پر بھی فرض ہے کہ اپنے مرد کے حقوق پورے کرے اس کی ضروریات کا خیال رکھے اور اس کی عزت کی حفاظت کرے
اس بارے ارشاد ہے

رسول كريم صلى اللّٰه عليہ وسلم كا فرمان ہے:
الدنيا متاع ، وخير متاعها المرأة المؤمنة ، إن نظرت إليها أعجبتك ، وإن أمرتها أطاعتك ، وإن غبت عنها حفظتك في نفسها ومالك
” دنيا كا بہترين مال و متاع مومن عورت ہے، اگر تم اسے ديكھو تو تجھے اچھى لگى اور خوش كر دے، اور اگر تم اسے حكم دو تو وہ تمہارى اطاعت كرے، اور اگر تم اس كے پاس نہ ہو تو وہ اپنے نفس و عزت كى اور آپ كے مال كى حفاظت كرے

جب مرد و عورت دونوں لازم و ملزوم ہیں حقوق یکساں ہیں تو پھر اکیلی عورت کے حققوق بارے چند بے ضمیر مردوں کی غلطیوں کے باعث اتنا واویلا کیوں ؟
حالانکہ اب تو عورت اتنی آزاد ہے کہ پاکستان میں فیملی کورٹس ایکٹ اکتوبر 2015 میں منظور ہوا تھا جس کے سیکشن 10 کی دفعہ 6 کے تحت قانونی طور پر طلاق و خلع کا عمل آسان تر کردیا گیا تھا جو کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اضافہ کر رہا ہے-

گز شتہ برسوں کے مقابلے میں سال 2018ء میں اعلیٰ تعلیم یا فتہ و ملازمت پیشہ خواتین میں طلاق و خلع لینے کا رحجان بڑی تیزی سے بڑھا ہے جوکہ اب رواں سال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جس کی وجہ اکثر عورتوں کی انا پر ستی ، خود کمانے و خود کفیل ہونے کا گھمنڈ اور معاشرتی بے راہ راوی نے ہے جس کے باعث ہمارا خانگی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے-

ایک اور رپورٹ کے مطابق 1970 میں طلاق کی شرح پاکستان میں 13 فیصد تھی جس میں اب 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اگر دیکھا جائے تو جہاں حقوق کی ادائیگی میں غافل مرد ہیں تو وہیں عورتیں بھی ہیں تو پھر یہ یک طرفہ واویلا کیوں؟؟

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!